خبریں/تبصرے

عاصمہ جہانگیر کانفرنس: اسٹیبلشمنٹ کی چالوں کے خلاف ایک غیر اعلانیہ محاذ ثابت ہوئی (دوسری قسط)

فاروق طارق

تیسری عاصمہ جہانگیر کانفرنس جو 20-21 نومبر کو لاہو ر کے ایواری ہوٹل میں منعقد ہوئی، میں شریک ہونے والوں میں نوجوان وکلا کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

عاصمہ جہانگیر میموریل کانفرنس 7 مختلف تھیمز (Themes) میں تقسیم تھی۔ ان میں ’افغانستان کا بحران اور اسکے اثرات‘، ’اختلاف رائے کا حق‘، ’عورتوں کے خلاف تشدد کا کوئی جواز نہیں‘، ’بچوں کے حقوق‘، ’مذہب اور عقیدہ کی آزادی‘، ’معیشت کی دگرگوں صورتحال‘،’جنسی تشدد کو درست قرار دینا انصاف نہیں‘ اور ’پاکستان میں جمہوریت کو درپیش چیلنجز‘شامل تھے۔

اس کے علاوہ کشمیر تنازعہ کشمیریوں کے بغیر، عدلیہ میں جنڈر مساوات، طلبہ حقوق اور نڈر نوجوان، بھارت اور پاکستان میں سنسرشپ کے ذریعے آزادی رائے پر پابندیاں جیسے موضوعات پر بھی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس کا آغاز جس سیشن سے کیا گیا اس کا عنوان تھا ’جمہوریت کی مضبوطی اور انسانی حقوق کے دفاع میں عدلیہ کا کردار“۔ یہ وہ سیشن تھا جس میں ٹاپ ججز اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اور یہی سیشن ابھی تک موضوع بحث ہے۔

کانفرنس میں یوروپی سفارت کاروں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ یوروپین یونین، ہالینڈ، کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ کے سفیروں نے پہلے سیشن سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل اور یو این ڈی پی کے انچارج بھی پہلے سیشن کے مقررین میں شامل تھے۔

ملک کے ممتاز ریڈیکل صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی کانفرنس میں شریک رہی۔ ان میں حامد میر، طلعت حسین، عنبر شمسی، مطیع اللہ جان، اسد طور، منیزے جہانگیر، ابصار عالم، نسیم زہرہ اور دیگر شامل تھے۔ پارلیمینٹیرینز جو اس کانفرنس میں شریک ہوئے ان میں محسن داوڑ، شاہد خاقان عباسی، مہناز اکبر عزیز، شگفتہ ملک، نفیسہ شاہ، روبینہ خالد، ولیداقبال، علی ظفر، لال چند ملی، کامران مرتضی اور تاج حیدر شامل تھے۔ سابقہ ممبران پارلیمنٹس میں افراسیاب خٹک، قمر زمان کائرہ، فرحت اللہ بابر، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، زاہد خان اور ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا شامل تھے۔

کانفرنس کے ایک سیشن میں بقول سینیٹر اعظم نزیر تارڑ تمام ”مرحومین“ کو مدعو کیا گیا تھا۔ طلعت حسین، حامد میر، ابصار عالم، عنبر شمسی، نسیم زہرہ کے ساتھ مجھے بھی پلیٹ فارم شیئر کرنے کا موقع ملا۔ مجال ہے ان میں سے کوئی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انکے ساتھ انتقامی کاروائیوں کا گلہ شکوہ کر رہاہو۔ تمام کے تمام جارحانہ موڈ میں تھے۔ حامد میر نے کہا ”میں کوئی مرا نہیں جا رھا ٹی وی پر آنے کو“۔ اس سیشن کے بعد جب ہم سٹیج سے نیچے آئے تو وہاں اسد علی طور سے ملاقات ہوئی۔ وہ صرف اس سیشن کے لئے اسلام آباد سے لاہور تشریف لائے تھے۔ ایک سیشن کو سننے کے لئے پانچ گھنٹے یک طرفہ سفر، سلام ہے اس دلیر صحافی کو جسے اس کے گھر میں گھس کر مارا گیا مگر ڈرنے کی بجائے اور اب پہلے سے بھی زیادہ تیکھا لکھ رہاہے۔

اسٹیبلشمنٹ کی چالوں کے خلاف ایک غیر اعلانیہ محاذتشکیل پا رہا ہے۔ اس محاذ میں صحافی، وکیل اور بائیں بازو کے کارکن متحرک ہیں۔ یہ اکٹھ ہو گیا تو ایک طوفان نظر آئے گا۔ عمار علی جان اس کی وکالت کافی دیر سے کر رہے ہیں۔ لگتا تھا کہ جس کو بھی اسٹیبلشمنٹ نے تنگ کیا ہوا ہے وہ سب راستے کی تلاش میں کانفرنس میں شریک ہوئے۔

کانفرنس میں ایک اہم سیشن وہ تھا جس کا موضوع تھا ’جمہوریت کو درپیش چیلنجز‘۔ اس سیشن کو کنڈکٹ سلمان اکرم راجہ کر رہے تھے جبکہ اس کے مقررین میں منظور پشتین اور بابا جان بھی شامل تھے۔ اس کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے بابا جان کے نام کا اعلان تو کیا گیا تھا مگر منظور پشتین کو اعلان کئے بغیر بلایا گیا۔ اس سیشن سے ایاز لطیف پلیجو، سینٹر تاج حیدر، سابق وزیر اعلی ٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اور افراسیاب خٹک نے بھی خطاب کیا۔ یہ مرکزی کانفرس ہال میں تھا اور ہال کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لاہور میں جب ہم نے 2018ء میں منظور پشتین کو موچی دروازہ جلسہ کے لئے بلایا تھا تو ہمیں بار بار دھمکیاں دی گئی تھیں اور موچی دروازہ جلسہ گاہ میں پانی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اب یہ منظور پشتین لاہور کی سب سے اہم کانفرنس سے خطاب کر رہا تھا اور سینکڑوں سن رہے تھے۔ منظور پشتین کویہاں ہیرو کی طرح ویلکم کیا گیا۔ سینکڑوں نے اس کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ بابا جان کی مقبولیت کا اندازہ بھی یہاں سے ہوا۔

’نڈر نوجوان‘ سیشن کو ڈاکٹر عمار جان کنڈکٹ کر رہے تھے۔ کبھی عمار جان بھی شجر ممنوعہ تھے۔ فیض انٹرنیشنل فیسٹیول میں ان پر پابندی عائد کی گئی تھی مگر اب وہ اس کانفرنس میں ایک اہم سیشن کو چیئر کر رہے تھے اور کیا لاجواب پینل تھا اور شائد واحد ایسا پینل تھا کہ جس میں طالبات رہنماؤں کی تعداد طلبہ رہنماؤں سے زیادہ تھی اور کیا ہیرے جواہرات اس سیشن میں اکٹھے تھے۔ کمال کا پینل تھا۔ مزمل کاکڑ، سعدیہ بلوچ، پروفیسر ضیغم عباس، علی عبداللہ، سندھو نواز، جمیمہ آفریدی اور مقدس جرال سب نے جرات کے ساتھ طلبہ طالبات کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ کیا اور 26 نومبر کو ملک بھر میں طلبہ یونینز کی بحالی کے لئے طلبہ یک جہتی مارچ منظم کرنے کا عزم کیا۔

یہ کانفرنس حالیہ چند مہینوں میں لاہور کا سب سے اہم ترین سیاسی و سماجی اجتماع تھا۔ ہزاروں نے فزیکل یا آن لائن شرکت کی۔ علی احمد کرد کی تقریر کا ایک حصہ لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔ ملک میں حقیقی جمہوریت اور آزادی تحریر و تقریر کا عزم ہر لفظ سے عیاں تھا۔ عاصمہ جہانگیر کی جانب سے جس بہادری سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سول معاملات میں مداخلت کی مخالفت کی گئی اس سے بڑھ کر اس کا اظہار یہاں ہو رہا تھا۔ مقررین کی ریڈیکلزم سے زیادہ سننے والوں میں موجود تھی۔ ایک باشعور شرکت کی سینکڑوں ریڈیکل سیاسی و سماجی کارکنوں نے۔ دو دن تک ایک ریڈیکل میلے کا سماں تھا۔ یہ اجتماع ماضی میں ہونے والے ورلڈ سوشل فورم کی یاد تازہ کر رہا تھا۔

تیسری اور آخری قسط کل ملاحظہ فرمائیں۔

پہلی قسط اس لنک پر پڑھیں۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔