خبریں/تبصرے

نیا پاکستان: کل آمدن کا 85 فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا گیا

لاہور (جدوجہد مانیٹرنگ) رواں مالی سال پاکستان کی کل آمدن صرف تقریباً ساری کی ساری قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جائے گی۔ دفاع، ترقی، سبسڈیز، سول حکومت کو چلانے سمیت وفاقی حکومت کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کیلئے قرض کی رقم حاصل کرنا پڑے گی۔

گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی کل خالص آمدن میں سے وفاقی حکومت نے 85 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا، یعنی ہر جمع ہونے والے 100 روپے میں سے 85 روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کئے گئے۔ دوسری طرف بھارت کی مرکزی حکومت نے گزشتہ مالی سال یعنی 2020-21ء کے دوران مجموعی 100 روپے کی آمدن میں سے تقریباً 51 روپے اور بنگلہ دیش نے 20 روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کئے۔

’دی نیوز‘ کے مطابق معروف ماہر معیشت ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے پیش گوئی کی ہے کہ خالص محصولات کی وصولیاں صرف 30 جوان 2022ء کو ختم ہونے والے رواں مالی سال کے دوران قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کیلئے رقم پوری کر سکتی ہے جبکہ دیگر اخراجات بشمول دفاعی ضروریات قرض کی رقم سے پورے کرنا پڑیں گے۔

گزشتہ مالی سال 2020-21ء میں ایف بی آر نے 4 ہزار 764 ارب روپے جمع کئے اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبہ کو 2 ہزار 741 ارب روپے کا حصہ دیا گیا، جس کے بعد خالص محصولات کی وصولیاں 2 ہزار 23 ارب روپے رہیں۔ نان ٹیکس ریونیو کی وصولی سے 1480 ارب روپے حاصل ہوئے، جس سے وفاقی حکومت کی وصولیاں 3503 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ مجموعی طور پر قرضوں کی ادائیگی کیلئے 2749 ارب روپے خرچ ہوئے اور وفاقی حکومت کے پاس صرف 754 روپے باقی رہ گئے ہیں۔

حکومت نے تمام اہم اخراجات جیسے کہ دفاع، ترقی، سبسڈی کی فراہمی، حکومت چلانے بشمول تنخواہوں اور پنشن کے بل بھی قرض کی رقم سے ادا کئے گئے۔ دفاعی اخراجات میں 1316.418 ارب روپے، وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 441 ارب روپے، سول حکومت چلانے کیلئے 505 ارب روپے، پنشن کے بل 440 ارب روپے، سبسڈیز کیلئے 425 ارب روپے اور دیگر اخراجات کیلئے 827.3 ارب روپے کی گرانٹس دی گئیں۔ حکومت نے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے جی ڈی پی کے 7.1 فیصد کے برابر 3 ہزار 403 ارب روپے کا قرضہ لیا تھا۔

ملک کے کل قرضے اور واجبات 21 ستمبر 2021ء تک 50.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ ساڑھے تین سال قبل جب پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالا تھا تو ملک کے کل قرضے اور واجبات 29.8 ٹریلین روپے تھے۔ گزشتہ 3 سال کے دوران حکومتی قرضوں اور واجبات میں خالص اضافہ 21 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو تین سال کی مدت میں اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ بیرونی قرضے اور واجبات 2017-18ء میں 95 ارب ڈالر سے بڑھ کر 30 ستمبر 2021ء تک 127 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ صرف گزشتہ 3 سالوں اور 3 ماہ کی مدت میں بیرونی قرضوں اور واجبات میں 32 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔