خبریں/تبصرے

سامراج مردہ باد: ملکہ برطانیہ کی جگہ سانڈرا میسن

لاہور(جدوجہد مانیٹرنگ) منگل کے روز کیریبین ملک بارباڈوس نے باضابطہ طور پر ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کو سربراہ مملکت کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور اب بارباڈوس ایک عوامی جمہوریہ بن گیا ہے۔

’بی بی سی‘ کے مطابق دارالحکومت برج ٹاؤن میں رات بھر ہونے والی ایک تقریب میں ڈیم سانڈرا میسن نے بطور صدر جمہوریہ بارباڈوس عہدے کا حلف لیا۔ ملک کے55ویں یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ اس تقریب میں پرنس آف ویلز اور باربیڈین گلوکارہ ریحانہ نے بھی شرکت کی۔

اپنی تقریر میں شہزادہ چارلس نے کریبین جزیرے پر غلامی کے خوفناک مظالم کا اعتراف کیا۔

نئے عہد نے بارباڈوس سے 200سال سے زائد کے برطانوی اثرورسوخ کا خاتمہ کیا، صدیوں تک یہ جزیدہ بحر اوقیانوس کے غلاموں کی تجارت کا مرکز رہا ہے۔

اقتدار کی باضابطہ تبدیلی کے موقع پر برطانوی بادشاہت کو آکری سلامی دی گئی اور شاہی پرچم کو نیچے اتار کر تبدیل کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ غلامی کے اس طویل سلسلے کے خاتمے کے موقع پرمنعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی بھی شہزادہ چارلس ہی تھے جنہوں نے اپنے خطاب میں آئینی حیثیت میں تبدیلی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔

2018ء سے جزیرے کی گورنر جنرل رہنے والی 72سالہ ڈیم سانڈرا میسن کو گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد ملک کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اب وہ ملکہ برطانیہ کی جگہ مملکت کی نئی سربراہ ہونگی۔

بارباڈوس نے گزشتہ سال جمہوریہ بنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ دولت مشترکہ کے اندر ہی رہے گا۔

دولت مشترکہ سابق برطانوی نوآبادیوں اور موجودہ برطانیہ پر انحصار کرنے والے ملکوں کی ایک انجمن ہے۔ اس میں کچھ ایسے ملک بھی ہیں جن کا برطانیہ کے ساتھ کوئی تاریخی تعلق نہیں ہے۔

یہ جزیرہ انگلینڈ کی پہلی غلام نوآبادیوں میں سے ایک ہے۔ انگریز آباد کاروں نے سب سے پہلے 1627میں اس جزیرے پر قبضہ کیا تھا اور افریقہ سے لائے گئے غلاموں کو استعمال کرتے ہوئے شوگر پلانٹیشن کی بنیادیں رکھی گئی تھیں۔

1966ء میں اس جزیرے سے براہ راست قبضے کا خاتمہ کرتے ہوئے بالواسطہ قبضے کے ذریعے چلایا جانے لگا، جسے یوم آزادی بھی کہا جاتا ہے۔

شہزادہ چارلس نے اپنی تقریر کے دوران غلامی کے خوفناک مظالم کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان مظالم سے ہماری تاریخ ہمیشہ کیلئے داغدار ہو گئی ہے۔

بارباڈوس سے قبل موریشس نے 1992میں ملکہ کو سربراہ مملکت کے عہدے سے ہٹایا تھا۔

2لاکھ85ہزار نفوس پر مشتمل آبادی کا حامل جزیرہ بارباڈوس کیریبین کے خوشحال جزیروں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

چینی کی برآمدات پر بہت زیادہ انحصار کے بعد اس جزیرہ کی معیشت متنوع ہو گئی ہے، تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤکی وجہ سے ملکی سیاحت کو نقصان پہنچا اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے بڑھتی مہنگائی نے اس جزیرہ کو بھی سخت متاثر کر رکھا ہے۔