پاکستان

المطوع کی آمد…بھاگو!

پرویز امیر علی ہود بھائی

مطوع عربی زبان میں سعودی عرب کی مذہبی پولیس کو کہتے ہیں۔ ایک وقت تھا لوگ اس پولیس سے خوف کھاتے تھے۔ اس پولیس کا کام تھا کہ لوگوں سے لباس، چال ڈھال،روزہ نماز وغیرہ کے احکامات پر اس طرح عمل کرائے جس طرح تیل کی دولت سے مالا مال وہابیت نے حکم دے رکھا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں لبرلائزیشن کی جو لہر چل رہی ہے،اس کے نتیجے میں اس پولیس کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں۔

عمران خان کی قیادت میں البتہٰ پاکستان کسی اور ہی سمت میں گامزن ہے۔ موجودہ حکومت کے لاگو کردہ یکساں قومی نصاب پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لئے سرکاری اور نجی سکولوں پر مذہبی پولیس سے چھاپے مروائے جا رہے ہیں۔پاکستانی طرز کے مطوع جنم لے رہے ہیں۔

10 نومبر 2021 کو صوبہ پنجاب کے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کا عنوان تھا: ’کورٹ کیس: موسٹ امپورٹمنٹ‘(Court Case: Most Important)۔اس حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ تمام سکولوں پرسختی سے نگرانی کی جائے یہ جاننے کے لئے کہ وہاں ناظرہ قرآن کا اہتمام کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

معائنہ کرنے کے لئے ضلعی تعلیمی اتھارٹی کا سربراہ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مشترکہ طور پر سکولوں کا دورہ کریں گے۔ اس حکم نامے میں ان بے شمار اسکولوں کے پتے دئے گئے ہیں جن کا معائنہ کیا جائے گا۔علاوہ ازیں، متعلقہ اسکولوں کے پرنسپلز اور اساتذہ کے موبائل نمبر بھی مہیا کئے گئے ہیں۔

راقم کے خاندان سمیت ہر مسلمان گھرانے میں ایک زمانے سے یہ رواج چلا آ رہا ہے کہ بچے مولوی صاحب سے قرآن پڑھتے ہیں البتہٰ ایک پرانی روایت پر عمل درآمد کرانے کے لئے قانون نافذ کرنے والوں کو روانہ کرنا ایک نئی اور عجیب سی بات ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق،ان معائنوں کے نتیجے میں ایک طرف اساتذہ، طلبہ اورپرنسپلز میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور دوسری جانب افراتفری اور سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔

بندوق بردار محافظوں کی معیت میں مجسٹریٹ حضرات سکولوں پر چھاپے مار رہے ہیں اور سات سات سال،بارہ بارہ سال کے بچوں سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

دوران تفتیش یا تو اساتذہ کو کمرہ جماعت سے باہر نکال دیا جاتا ہے یا ان سے کہا جاتا ہے کہ کونے میں خاموش کھڑے رہیں۔ بعض صورتوں میں پرنسپل حضرات سے کہا گیا ہے کہ وہ صوبے میں موجود مختلف اضلاع میں اعلیٰ حکام کے سامنے حاضر ہوں۔

مبینہ سستی برتنے پر سزائیں دی جا رہی ہیں۔گذشتہ ہفتے ننکانہ صاحب کے ایک سیشن جج نے تین اسکولوں کے پرنسپلز کے خلاف تادیبی کاروائی کا حکم دیا۔ ان تینوں پر الزام تھا کہ وہ،یکساں قومی نصاب کی ہدایات کے برعکس، ناظرہ قرآن کو بطور علیحدہ مضمون پڑھانے کا بندوبست نہیں کر پائے۔ ان تینوں پر لگنے والی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ ”بعض طلبہ کے بستوں میں کتابوں کے ساتھ ہی قرآن مجید کے سیپارے بھی موجود تھے جو شدید غفلت کی علامت ہے“۔

اس بارے ذرا وضاحت کی ضرورت ہے۔جیسا کہ قارئین جانتے ہیں قرآن کا نسخہ عام کتابوں کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔چھاپہ مار مجسٹریٹ صاحبان کو شکایت ہے کہ طلبہ گھر سے قرآن کے سیپارے باقی کتابوں کی طرح اپنے بستے میں ڈال کرلاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ بچے اور کیا کریں؟دو بستے لے کر آیا کریں؟گاوں میں یا شہروں کی غریب آبادیوں میں قائم اسکولوں میں بنیادی نوعیت کی سہولتیں بھی ٹھیک سے نہیں ہوتیں کجا یہ توقع کی جائے کہ وہاں کتابوں کے لئے الماریاں ہوں جہاں قرآن کے نسخے اور سیپارے رکھے جا سکیں۔ جو چند الماریاں ہوتی ہیں ان کے لئے عموماََتالا تک موجود نہیں ہوتا۔

مجسٹریٹ صاحب بہادر نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ سیپاروں والے بستے فرش پر دھرے تھے۔ ایک سکول کے پرنسپل کا کہنا تھا کہ چھٹی جماعت کے کمرے میں چار دفعہ ایسا ہوا کہ طلبہ کے ہاتھوں سے سیپارہ زمین پر گر گیا۔اس پر ہلچل مچی مگر بعد میں کیا ہوا، معلوم نہیں۔اس جرم کی سزا۔۔۔اس جرم پر ہتک کا مقدمہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔اتنی شدید ہے کہ عمومی طور پر ایسی غلطیوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے واقعات کو تب ہی ہوا ملتی ہے جب کسی سے بدلہ لینا مقصود ہو۔

پرنسپل حضرات اور اساتذہ محض ایسے واقعات کی وجہ سے ہی پریشان نہیں۔ روایتی طور پر تو یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ قرآن کی طرف کسی کی پیٹھ نہ ہو۔کمرہ جماعت میں جہاں جگہ کم اور بچے زیادہ ہوتے ہیں، وہاں اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے؟ رہی بات وضو کی تو اکثر سکولوں میں نہ تو ڈھنگ کے ٹائلٹ ہیں نہ پانی۔ یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں تلاوت قرآن سے قبل وضو کرنا ضروری ہے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک خاتون سکول ٹیچر نے لکھا ہے کہ لڑکیوں کے سکولوں میں تو معاملات اور بھی گھمبیر ہیں جبکہ مخلوط تعلیم والے سکولوں میں مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ماہواری کے دوران لڑکیاں اور خواتین اساتذہ قرآن کو نہیں چھو سکتیں۔ یہ موضوع ممنوعات میں شامل ہے اس لئے طلبہ یا اعلیٰ حکام کے سامنے اس پر بات ہی نہیں کی جا سکتی۔

سستی اور کام چوری کی بجائے کہیں یہ وجہ تو نہیں کہ بعض خواتین اساتذہ ماہواری کے باعث اس وقت کمرہ جماعت سے غائب تھیں جب انسپکشن ٹیم نے چھاپہ مارا؟

وائے ستم ظریفی کہ معائنے کے لئے جانے والی ٹیموں کا کام یہ دیکھنا ہے کہ کیا قرآن ٹھیک سے پڑھایا جا رہا ہے کہ نہیں مگر جو لوگ یہ معائنہ کرنے جا رہے ہیں، ان کی اس ضمن میں اپنی قابلیت پر سوال اٹھانے کی ضرورت ہے۔یکساں قومی نصاب میں تجویز کیا گیا ہے کہ قرآن کو تجوید کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام کیا جائے مگر زیادہ تر دستیاب اساتذہ یہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ’ق‘ اور ’ع‘ کا تلفظ اس طرح سے نہیں سکھا سکتے جیسا کہ عربی زبان میں بولا جاتا ہے۔

ایسا تلفظ مدرسے کے طلبہ کے پاس ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ عمر بھر کی مشقت کے بعد یہ تلفظ سیکھتے ہیں۔ گویا اگر تجوید ضروری ہے تو مدرسے کے طالب علموں کو بطور اساتذہ بھرتی کرنا ہو گا۔ اگر مدرسے کے طالب علموں کو بھرتی کیا گیا تو وزیر تعلیم شفقت محمود کا یہ دعویٰ باطل ثابت ہو گا کہ سکولوں کو مدرسے نہیں بنایا جا رہا۔

ویسے ہائی کورٹ کو کیا پڑی تھی کہ اتنی سخت ہدایات جاری کیں؟کیا عدالت کے سامنے چوری، متنازعہ جائداد،جنسی زیادتی، بچوں سے زیادتی اور قتل کے ہزاروں مقدمات زیر التو ا نہیں پڑے؟ ایسی کیا آفت آن پڑی تھی؟ سادہ سا جواب ہے : حکومت میں شامل طالبان کے ہاتھ میں عنان اقتدار آ گئی ہے۔افغانستان کی طرح ملک کے شہری اب ان کے رحم و کرم پر ہیں۔

یکساں قومی نصاب کا یہ مقصد تو بیان نہیں کیا گیا تھا۔بتایا یہ گیا تھا کہ یکساں قومی نصاب کے نتیجے میں طبقاتی نظام تعلیم ہی ختم نہیں ہو گا بلکہ سکول اور مدرسے کا فرق بھی مٹ جائے گا۔امیر اور غریب کے بچوں کو ایک سے مواقع فراہم ہوں گے۔یہ ناقابل یقین دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ معیار تعلیم بہتر بنایا جائے گا۔تو کیا یہ توقع بھی رکھی جائے کہ جلد ہی بندوق بردار محافظوں کی معیت میں مجسٹریٹ حضرات سکولوں کی لیبارٹریوں پر بھی چھاپے مار کر یہ یقینی بنائیں گے کہ پریکٹیکل ٹھیک سے ہو رہے ہیں یا نہیں؟ لائبریریوں میں مناسب تعدا میں کتابیں ہیں یا نہیں؟ ٹائلٹس میں پانی آ رہا ہے یا نہیں؟

کیا چھاپہ مار اسکواڈ اُن سکول نہ جانے والے ڈھائی کروڑ بچوں کو بھی کوئی رہنمائی فراہم کریں گے کہ وہ کیسے سکول اور اساتذہ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟ ویسے یہ سب ہونے سے قبل قیامت نہ آ جائے۔

سکول کے دن ہم میں سے بہت سوں کے لئے ایک خوشگوار یاد ہوتی ہیں۔ یہ بے فکری اور ہنسنے کھیلنے کے دن ہوتے ہیں۔دنیا کے اکثر ملکوں میں اسکول سے یہی مراد لی جاتی ہے۔ ہونا بھی ایسا ہی چاہئے۔افغان بچے اس طرح کے سکول سے محروم کر دئیے گئے ہیں۔ اب نیا پاکستان کے بچوں کے ساتھ بھی یہی ہونے جا رہا ہے۔

بھنوئیں تانے ہوئے مجسٹریٹ سکولوں پر چھاپے مار کر پرنسپل حضرات اور اساتذہ کے وقار کو کم کر رہے ہیں، سب کو دہشت زدہ کیا جا رہا۔یہ حرکتیں تعلیم کے نام پر دھبہ ہیں۔معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہو گا۔ہم کیا پہنتے ہیں، کیا کہتے ہیں کیا سوچتے ہیں۔۔۔ان سب معاملات کی بھی نگرانی کی جائے گی۔ عمران خان کا پاکستان طالبان کے راستے پر تیزی سے گامزن ہے!

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔