خبریں/تبصرے

کراچی: یونیورسٹی فیسیں 15 لاکھ تک پہنچ گئیں، طلبہ حقوق صفر

حارث قدیر

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو جہاں مختلف وجوہات کی بناء پر اہمیت حاصل ہے، وہیں سستی اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے بھی کراچی کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ملک کے کونے کونے سے طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد میں کراچی کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ایک پرانی تاریخ ہے۔ مسلح گینگ وار، بھتہ خوری اور دیگرجرائم میں اضافے نے بھی طلبہ کو کراچی کا رخ کرنے سے کسی حد تک رکاوٹ ڈالی، تاہم اب جامعات میں بڑھتی فیسیں اور مہنگائی نے بھی طلبہ کے لئے نئے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔

ملک بھر کے دیگر شہروں کی جامعات کی طرح کراچی میں بھی فیسوں میں اضافے سمیت جامعات کے اندر سختیوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ طلبہ کو اپنے حقوق کیلئے آوازاٹھانے سے روکنے اور جامعات کے اندر آزادانہ نقل و حمل پر پابندیوں کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جامعات کی پالیسیوں اور بڑھتی فیسوں کے خلاف طلبہ میں بے چینی بھی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی کی مختلف جامعات میں طلبہ کی جانب سے احتجاج منظم ہوتے ہوئے بھی دکھائی دیئے ہیں، جبکہ جامعات کی انتظامیہ کی طرف سے سیاسی سرگرمیاں کرنے والے طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے علاوہ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اور پولیس اور رینجرز کی مدد سے طلبہ کو کنٹرول کئے جانے کے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔

چند روز قبل ہی کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے احتجاج کے بعد طلبہ نے الزام عائد کیا کہ کراچی یونیورسٹی میں رینجرز کو طلب کر کے احتجاج کرنے والے طلبہ کو ہراساں کیا گیا۔ بڑی جامعات میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ اس نوعیت کی پابندیاں عائد کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتی، تاہم چھوٹی جامعات میں ڈسپلن کے نام پر پابندیوں اور سختیوں کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ مسلح محافظوں کا طلبہ کو کنٹرول کرنے کیلئے جامعات کی کلاسوں تک اسلحہ سمیت پہنچ جانا بھی معمول بنتا جا رہا ہے۔

کراچی کی نجی جامعات کی فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ جامعات میں 30فیصد تک فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ کچھ جامعات میں یہ اضافہ 40سے 45فیصد تک کیا گیا ہے۔ ٹیوشن فیسوں کے علاوہ متعدد اقسام کی دیگر فیسیں بھی وصول کی جاتی ہیں لیکن وہ سہولیات جامعات میں میسر ہی نہیں ہوتیں، یا پھر طلبہ کی رسائی ان سہولیات تک نہیں ہو پاتی۔ اسی طرح ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی فیسوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

پرائیویٹ جامعات میں انڈرگریجویٹ فی سمسٹر فیسیں

سرکاری جامعات میں میرٹ پر آنے والے طلبہ کی فیسوں میں 20سے 30فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ سیلف فنانس پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کیلئے فیسوں میں 30سے50فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ اکثر سرکاری جامعات میں سیلف فنانس پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو ڈگری کی تمام تر فیس یکمشت جمع کروانی ہوتی ہے۔ 5لاکھ سے10اور 12لاکھ روپے تک کی یکمشت فیس ادائیگی غریب طالبعلم کیلئے ناممکن ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری جامعات میں نئے قائم ہونے والے شعبہ جات مکمل طور پر سیلف فنانس پر چلائے جاتے ہیں، اکثر جامعات میں شام کی کلاسز مکمل طور پر سیلف فنانس پر چلائی جاتی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اب اعلیٰ تعلیم کو مکمل طور پر پرائیویٹائز کئے جانے کی پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

سرکاری جامعات میں انڈر گریجویٹ فی سمسٹر فیسیں

فیسوں میں اس اضافے کی ایک وجہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے جامعات کو ملنے والے فنڈز میں کٹوتی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بھی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

آر ایس ایف کراچی کے آرگنائزر فیاض چانڈیوکہتے ہیں کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایچ ای سی کے بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے جامعات کو فنڈز کی کٹوتی ہوئی ہے۔ تاہم جامعات نے اس کٹوتی کی آڑ میں کئی گنا فیسوں میں اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ سے غریب طالبعلم کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہو کر رہ گیا ہے۔

اب جامعات کا ماحول گھٹن زدہ ہوتا جا رہا ہے۔ طلبہ کو کسی طرح کی غیر نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، بلکہ طلبہ حقوق کی بازیابی کیلئے آواز اٹھانے والے طلبہ کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لئے جارہے ہیں۔ طلبہ کو جامعات سے خارج کرنے کی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ایک طرف سندھ حکومت طلبہ یونین کی بحالی کی قراردادیں پیش کر رہی ہے، دوسری طرف سندھ کی ہی جامعات میں طلبہ تنظیم کی تنظیم سازی کو بھی جرم بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ طلبہ کے خلاف ہونے والی ان ناانصافیوں کے خلاف کراچی کی تمام ہی جامعات میں ایک ہلچل اور بے چینی موجود ہے۔ طلبہ کسی بھی وقت ایک بڑے احتجاج میں منظم ہو سکتے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ طلبہ ہی وہ واحد قوت ہیں جو اس خطے میں حقیقی سماجی تبدیلی کیلئے ابتدائی کردار ادا کرتے ہیں۔ آج جس طرح سے طلبہ کو دیوار کے ساتھ لگانے اور تعلیم سے محروم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، یہ سب حکمران طبقات کا طلبہ کی تحریک سے خوفزدہ ہونے کوظاہر کر رہا ہے۔ صرف مطالبات سے طلبہ کے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں، طلبہ کی منظم تحریک ہی انکی نجات کا باعث بن سکتی ہے۔ طلبہ تحریکوں کی اس خطے اور بالخصوص کراچی میں ایک بڑی تاریخ ہے۔ طلبہ جب بھی اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے میدان عمل میں نکلے ہیں انہوں نے محنت کش طبقے کی وسیع تر پرتوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

آج ایک مرتبہ پھر جس طرح طلبہ کے ساتھ رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ تعلیم کو ایک عیاشی اور کاروبار بنا کر طلبہ کی وسیع تر پرتوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے کی پالیسیاں اپنانے کے اس عمل کے خلاف طلبہ چھوٹے پیمانے پرہی سہی لیکن منظم ہو رہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب اس خطے کے طلبہ اپنی طاقت اور قوت پر یقین قائم کرتے ہوئے ہر ظلم اور جبر کے آگے دیوار بن جائیں گے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔