خبریں/تبصرے

موت کی ترغیب دیتی سرمایہ دارانہ جنت

عروج چغتائی

دنیا میں جنت تصور کئے جانے والے ملک سوئٹزر لینڈ میں سارکو نامی کمپنی نے تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ”پوڈ“ تیار کی ہے۔ یہ ایک ایسی مشین ہے جو خودکشی میں مدد گار ثابت ہو گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ مشین کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہی۔ کمپنی اس بات پہ یقین رکھتی ہے کہ خودکشی میں مدد گار یہ مشین اگلے سال تک قابل استعمال ہو گی، یعنی قابل فروخت ہو گی۔

’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس مشین کی خوبیاں یہ بتائی جا رہی ہیں کہ یہ کہیں بھی با آسانی لائی، لے جائی اور رکھی جا سکتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں جو طریقہ کار رائج ہے، اسکے مطابق جو لوگ اپنی زندگی ختم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، انھیں ایسے محلول دئیے جاتے ہیں، جن کے پینے سے زندگی ختم کی جا سکتی ہے۔ اسکے برعکس ’پوڈ‘ نائٹروجن سے بھر دی جاتی ہے۔ جو تیزی سے آکسیجن کم کرتی رہتی ہے، جس سے اس میں موجود شخص بے ہوش ہوتا ہے اور قریب دس منٹ کے اس عمل میں موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ مشین کو اندر سے چلایا جا سکتا ہے اور اندر ایک ایمرجنسی بٹن بھی لگا ہوا ہے، جسے دبانے سے اس سے باہر نکلا جاسکتا ہے۔

سوئٹزر لینڈ میں اپنی مرضی سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے، بلکہ خودکشی پر آمادہ شخص کو ایسے زرئع مہیا کئے جاتے ہیں، جنکی مدد و معاونت سے وہ اپنی جان کا خاتمہ خود کر سکے۔ سنہ 2020ء میں قریب 1300 افراد اس طریقہ کار سے اس سرمایہ دارنہ جنت ارضی پر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر چکے ہیں۔

بیگانگی کی وجوہات کو کھوجنے کی بجائے اوراسکی وجوہات کا تدارک کرنے کی بجائے انسانوں کو زندگی جیسی انمول نعمت کا خاتمہ کرنے کے لئے پر کشش ذرائع مہیا کرنے جیسی وحشت شایدہی عہد تاریک کے جاہلوں نے کبھی تصور بھی کی ہو، جو مہذب دنیا کے ان سرخیلوں،دنیا کو جہالت کے طعنے دینے اور تہذیب سکھانے کے دعویدارآج دکھا رہے ہیں۔

کارل مارکس نے کہا تھا کہ ’اگر سرمایہ داروں کو پھانسی دی جائے تو وہ پھانسی کے پھندے کا کاروبار شروع کردیں گے‘۔ اس بات کی واضح مثالیں ہمیں کورنا وبا کے بعد طبی سازو سامان اور ادویات کے ہیر پھیر میں نظر آئی۔ جو بعدازاں ویکسین بنانے اور پھر پیٹنٹ پر اجارہ داریوں جیسی انسانیت دشمن پالیسیوں کی صورت زیادہ سے زیادہ منافع کشیدنے میں اب تک برسرِپیکار نظرآرہے ہیں۔

سرمایہ داری منافع اور شرح منافع کی دوڑ میں سرگرداں ایک وحشت ہے، جس کا انسانی زندگی اور انسانی مسائل سے کوئی لینا دینا نہ کبھی پہلے تھااور نہ ہی آنے والے کل میں ہو گا۔

سرمایہ داری کی ڈھکے چھپے لفظوں میں حمایت کرنے والی بنیاد پرست قوتیں ہوں یا اعلانیہ انکے گن گانے والی این جی اوز اور لبرل، سب اس بربریت کو باقی رکھنے پر بضدہیں اوردن رات اسکو آفاقی اور حتمی قرار دینے کے لیے تاویلیں گڑھنے میں مصروفِ کار رہتے ہیں۔

سرمایہ دارنہ جنت سمجھے جانے والے ممالک میں بسنے والے انسان اگر اس قدر بیگانگی اور اکتاہٹ کا شکار ہیں کہ وہ زندگی جیسی انمول نعمت کا خاتمہ کرنے پر غور کرنے پر مجبور ہیں، تو تیسری دنیا کی باسیوں کی زندگی کو خوشگوار اور خوشحال کردینے کے خواب دکھانے والے، جن کی بحث کا مدعا ہی یہ ہے کہ یہاں سے کرپشن کا خاتمہ کر دیا جائے، یورپ جیسی ایمانداری، نظم و ضبط،نفاست اور تہذیب نافذ کر دی جائے، تو تمام تر مسائل کا فوری خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی سرخیل سمجھی جانے والی پہلی دنیا جس کے بارے ہم اکثر نام نہاد پڑھے لکھے طبقے کے منہ سے سنتے ہیں کہ وہاں جانوروں کی زندگی کا بھی انسانوں سے زیادہ خیال کیا جاتا ہے۔

مگر یہ مہنگی مہنگی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افلاطون یہ بتانے میں ہمیشہ کنجوسی برتتے ہیں کہ جن جانوروں کی بات وہ کر رہے ہیں، یہ ان خواتین و حضرات کے پالتو جانور ہوتے ہیں جنکا وہ باقی کے انسان تو دور اپنے بچوں سے بھی زیادہ خیال رکھتے ہیں۔

انکی دیکھا دیکھی تیسری دنیا کے نو دولتیے اوراپر مڈل کلاس کے کچھ دھڑے بھی ایسی حرکات و سکنات کرتے پائے جاتے ہیں۔ جیسے سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بھی اپنے دورِ حکومت میں ایک مور کے انتقال کر جانے پر اپنے ملازمین کو نوکری سے نکال دیا تھا۔ موجودہ وزیر اعظم کے کتوں کی خوبیاں بھی ہمیں اکثر وبیشتر الیکٹرونک و سوشل میڈیا پر سننے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔

مگر پالتو جانوروں پہ جان چھڑکنے والے یہ طبقات خواہ انکا تعلق پہلی دنیا سے ہو یا تیسری دنیا سے انسانی زندگیوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور انکی شان و شوکت کے یہ مینارے جن کی اوج پر یہ سب تشریف فرما ہیں، یہ انسانی محنت کے استحصال پر مبنی ہیں اور اس محنت کے استحصال کو جاری رکھے بنا یہ باقی نہیں رہ سکتے۔ اس لئے یہ طبقات اس استحصالی نظام کے خاتمے سے جڑی ہر ایک بات، ہر ایک سوچ کو تلف کرنے میں کسی کوتائی سے کام نہیں لیتے۔

سرمایہ دارنہ عفریت جو آج نا صرف انسانوں بلکہ اس کراہ ارض کے لئے خطرہ ہے۔ اسکے خاتمے کے بغیر انسانی زندگیوں میں پائی جاننے والی اکتاہٹ اور بیگانگی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

Roznama Jeddojehad
+ posts