خبریں/تبصرے

چلی کے نو منتخب سوشلسٹ صدر گیبریل بورک کون ہیں؟

راولاکوٹ (حارث قدیر) لاطینی امریکہ کے ملک چلی کے نو منتخب صدر گیبریل بورک نے 4 ماہ قبل جب پرائمری صدارتی انتخابات میں تمام سروے پولز کے اندازوں کو جھوٹا ثابت کیا تھا، تب بمشکل انکی عمر انتخاب لڑنے کی اہلیت کے برابر پوری ہو رہی تھی۔ تاہم اپنے ملک کے صدارتی انتخابات کی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لیکر وہ آئندہ سال 11 مارچ کو چلی کے اب تک کے سب سے کم عمر صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے۔

’گارڈین‘ کے مطابق گیبریل بورک کا تعلق طالبعلم رہنماؤں کی اس ریڈیکل نسل سے ہے جو آمر آگسٹو پنوشے کی تلخ میراث کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی جیت کی رات ہی اسٹیج سے اعلان کیا تھا کہ ”چلی نیو لبرل ازم کی جائے پیدائش تھی اور یہی اب اسکی قبر بھی ہو گی!“

اتوار کی رات صدر منتخب ہونے کے بعد گیبریل بورک نے اعلان کیا کہ ”میں جانتا ہوں کہ تاریخ ہم سے شروع نہیں ہوتی، میں خود کو ان لوگوں کے طویل سفر کے وارث کی طرح محسوس کرتا ہوں، جنہوں نے سماجی انصاف کیلئے انتھک جدوجہد کی ہے۔“

گیبریل بورک 1986ء پنٹا ایرینس میں پیدا ہوئے۔ 2011ء میں جب وہ اپنی قانون کی ڈگری کے آخری سال میں تھے، تب وہ ملک بھر میں طلبہ حقوق کیلئے شرع ہونے والے مظاہروں کے رہنما بن کر ابھرے۔ احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں طلبہ نے اپنے کیمپس اور فیکلٹی کو بند کر لیا تھا اور مفت اور اعلیٰ معیار کی تعلیم سب کیلئے یقینی بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

یہ احتجاج کچھ طلبہ کو مفت تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملنے کی صورت میں ختم ہوا۔ تاہم طلبہ تحریک میں سامنے آنے والے کئی نوجوان طالبعلم رہنما ملکی کانگریس میں شامل ہو گئے یا پھر مقامی حکومتوں میں عہدوں پر فائز ہوئے۔

گیبریل بورک نے اپنی قانون کی ڈگری مکمل نہیں کی بلکہ وہ 2013ء میں چلی کی کانگریس کے انتخابات جیتنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے جنرل پنوشے کے انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامی انتونیو کاست سے صدارتی انتخاب کے پہلے راؤنڈ میں معمولی مارجن سے پیچھے رہ جانے کے بعد اپنے ریڈیکل پروگرام کو نمایاں طور پر معتدل کیا اور سینٹرسٹ ووٹروں کو بھی اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی، جس میں انہیں شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے اصلاح پسندوں کیلئے قابل قبول بننے کیلئے اپنے انداز بیاں کو تبدیل کرنے سمیت اپنے ٹیٹوز کو بھی چھپانے کی کوشش کی۔

گیبریل بورک نے چلی کو ایک فلاحی ریاست میں تبدیل کرنے، عوامی اخراجات میں اضافہ کرنے اور خواتین، نان بائنری افراد اور قدیم مقامی باشندوں کو بھی اقتدار میں شامل کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم ملک کو پنوشے کی آمریت کے بندھن سے نکالنا انہوں نے اپنا حتمی مقصد قرار دیا ہے۔