خبریں/تبصرے

پیرو: عوامی مظاہروں کے بعد عبوری صدر میرینو نے استعفیٰ دیدیا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لاطینی امریکی ملک پیرو میں پر تشدد احتجاج کے بعد اتوار کے روز عبوری صدر مینوئل میرینو مستعفی ہو گئے۔ مرینو نے ایک ہفتہ قبل ہی منتخب صدر مارٹن وزکارا کے پارلیمانی مواخذے کے بعد بطور عبوری صدر یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ مظاہرین پر امن احتجاج کے ذریعے مرینو کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ہفتہ کے روز مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے نتیجے میں کم از کم دو نوجوان ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ مظاہرین نے پولیس کارروائی کے بعد پر امن احتجاج کا راستہ ترک کرتے ہوئے پر تشدد رد عمل کا مظاہرہ کیا جس کے بعد عبوری صدر نے استعفیٰ دیدیا۔

اتوار کے روز عبوری صدرکو اقتدار سے بے دخل کئے جانے کا جشن منانے کیلئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جھنڈے لہراتے، نعرے لگاتے جشن مناتے رہے۔ تاہم نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے تا حال کسی بات پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ بائیں بازو کے قانون ساز روسیوسلوا سانتیستابان کو عبوری صدر نامزد کرنے کیلئے گانگریس دوسری مرتبہ ووٹنگ کا انعقاد کریگی۔ پیروکے دارالحکومت لیما میں ایک پر تشدد دن کے بعد امن قائم ہوا ہے لیکن شہری اگلے صدر کے انتخاب کے منتظر ہیں۔

واضح رہے کہ حزب اختلاف کی اکثریت پر مبنی کانگریس نے رشوت اور اخلاقی کرپشن کے الزامات کے تحت صدر مارٹن وزکارا کے مواخذے کیلئے ووٹنگ کا حصہ بنتے ہوئے مینوئل میرینو کو عبوری صدر منتخب کیا تھا، تاہم مارٹن وزکارا نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ اتوار کے روزمارٹن وزکارا کے مواخذے کیلئے کانگریس پر دباؤ ڈالنے والے سابق کانگریسی سربراہ مینوئل مرینو بھی اپنے استعفیٰ کا سرکاری ٹیلی ویژن پر اعلان کر رہے تھے۔

میرینو کے اقتدار میں آنے کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ یہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے تھے، مظاہرین کا الزام تھا کہ مقننہ نے پارلیمانی بغاوت کی ہے۔ پر امن احتجاج ہفتہ کے روز تک چلتا رہا۔ ہفتہ کے روز پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا، جس کی وجہ سے کم از کم دو نوجوان ہلاک، 112 زخمی، جبکہ 41 افراد لا پتہ ہو گئے تھے۔ پولیس تشدد کے بعد احتجاج میں مزید شدت آ گئی، جس کا نتیجہ عبوری صدر کے استعفیٰ کی صورت میں نکلا۔

لاطینی امریکہ کے ملک پیرو کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ صدر کے خلاف ہونیوالی مبینہ پارلیمانی بغاوت کے بعد سیاسی عدم استحکام میں بھی مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ مواخذے کا نشانہ بننے والے منتخب صدر وزرکارا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون سازوں کو پیرو کے اگلے قائد کا انتخاب نہ کرنے دیں۔ غیر آئینی اقدامات کرنے والوں کو ہمارے مستقبل کیلئے مزید فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔