خبریں/تبصرے

’سیلف میڈ‘ ارب پتی ’ذہانت‘ سے نہیں خاندانی تعلقات سے امیر بنے

کیلی ہالو وے

ترجمہ: سلیم شیخ

دنیا بھر میں ایلزبتھ ہومز نامی سینتیس سالہ امریکی خاتون کے دھوکہ دہی اور فراڈ کے مقدمے کے چرچے ہیں جس میں ان محترمہ کو جنھیں کبھی فوربز جیسے جریدے نے دنیا کی سب سے کم عمر سیلف میڈ ارب پتی لڑکی قرار دیا تھا پر، دھوکہ دہی اور فراڈ کا جرم ثابت ہو گیا اور ان جرائم میں ان کے بیس سال تک کے لیے جیل ہونے کا امکان ہے۔

ایلزبتھ ہومز سرمایہ دارانہ معاشرے کی فراڈ کے پردوں میں چھپی ہوئی اس جھوٹی نمود و نمائش کی وہ مثال ہے جس کا ڈھونڈورا سرمایہ داری بڑے فخر سے اس وقت تک پیٹتی رہتی ہے جب تک اس دھوکے اور فراڈ کا پردہ چاک نہیں ہو جاتا۔

ایلزبتھ ہومز کی افسانوی کہانی کا آغاز کچھ اس طرح سے ہوتا ہے کہ ایک 19 سالہ لڑکی جو امریکہ کی مشہور اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہے یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اسے اپنے اچھوتے کاروباری منصوبے کو ہر حال میں پورا کرنے کی ضرورت ہے چناچہ وہ اپنے خواب کی تکمیل کے لیے اپنی تعلیم کو ادھوری چھوڑ کر ’تھیرانوس‘ نامی ایک طبی ٹیکنالوجی کی کمپنی کی بنیاد رکھتی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ محض خون کے چند قطروں سے کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا فوری پتہ لگا سکتا ہے۔

اور پھر اس نوجوان کالج ڈراپ آؤٹ لڑکی کی کمپنی جو امراض کی تشخیص کے طریقے کار میں انقلاب برپا کرنے دعویدار ہے کس طرح دائیں بائیں اور اوپر نیچے کے تمام امیروں کی توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے اور پھر چاہے وہ دنیا میں میڈیا کے بادشاہ روپرٹ مرڈوک ہوں یا پھرسابق امریکی وزیر خارجہ ہینری کسنجر، سابق امریکی وزیر خزانہ جارج شولٹز، سابق امریکی وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس وغیرہ ہوں سبھی نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو نے کی بے قراری میں اپنے لاکھوں ڈالرز جو شاید انہوں نے اپنے ٹیکسوں میں ڈنڈی مار کے بچائے ہوں گے، اس 19 سالہ لڑکی کی فراڈکمپنی میں آنکھ بند کر کے لگا د یے۔

مگر پھر کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔ ایلزبتھ ہومز جو 2014ء میں محض 30 سال کی عمر میں نو ارب ڈالر کی کمپنی کی مالک، دنیا کی سب سے کم عمر سیلف میڈ عورت جس کی ایمانداری، خود اعتمادی، استقامت، محنت اور ذہانت کے گیت سرمایہ دارانہ میڈیا رات دن گاتا تھا اور جسے وہ اگلا اسٹیو جابز قرار دیتا تھا، 2001ء کے آتے آتے اسی ایلزبتھ ہومزکا ستارہ اپنے بام عروج پر پہنچے کے بعد ڈھلنے لگا۔ کچھ چہ میگوئیاں شروع ہوئیں اور کچھ اندرونی خبریے یا’وسل بلوئر‘ نے اندر کی باتیں سامنے لانا شروع کیں اور پھر دی وال اسٹریٹ جرنل (جو روپرٹ مردوک کی ملکیت ہے) نے دھڑا دھڑ خبریں چھاپنی شروع کیں کہ ایلزبتھ ہومز کی کمپنی کی ٹیکنالوجی کے بارے میں جتنے بھی دعوے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔ پھر کیا تھا آہستہ آہستہ مالداروں کی محفل چھٹنے لگی اور مقدمات کی تعداد بڑھنے لگی اور بات کمپنی پر سرکاری پابندیوں پر پہنچی اور 2018ء میں بالآخر کمپنی کے مکمل طور پر بند اور پھر تحلیل ہونے پر منتہج ہوئی۔

ایلزبتھ ہومز کی کہانی میں جو سب سے اہم چیز ہے وہ ان کی میڈیا کے ذریعے امیج بلڈنگ یا انکی شخصیت کو ایک خاص انداز میں لوگوں کے سامنے بڑھا چڑھا کر پیش کر نا ہے۔ سرمایہ دارانہ میڈیا کو اس بات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی کہ ایلزبتھ ہومز جو اپنی کمپنی اور ٹیکنالوجی کے بارے میں دعویٰ کر رہی ہیں اس میں کتنی صداقت ہے۔ سارے میڈیا کی توجہ صرف اس بات پر تھی کہ ایلزبتھ ہومز کو سرمایہ داری کی اور سرمایہ داری نظام کی ایک اور کامیابی کے طور پر سامنے لایا جائے اور یہ دکھایا جائے کہ کسی طرح سرمایہ داری نظام نے ایک اور ہیرو کو جنم دیا ہے جس نے سرمایہ داری نظام کے ثمرات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانی میں اپنے خواب کی تعبیر کے لیے اپنی پڑھائی کو ادھورا چھوڑ دیا اور اپنی تمام تر توجہ اپنے کاروباری آئیڈیاز پر لگا دی اور اپنی محنت، ذہانت، استقامت اور ایمانداری سے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دے کر ایک ایسی کمپنی کھڑی کردی جس میں بڑے بڑے امیر اور اہم لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا جب سرمایہ دارانہ میڈیا نے ایک کامیاب محنتی نوجوان کی کہانی کو اس طرح بیان کیا ہو جو پڑھنے والوں کو یہ خواب دکھاتی ہیں کہ اگر وہ بھی جی جان سے محنت کریں تو کامیابی ان کے ہاتھ میں ہو گی مگر یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جیسا کہ آج کل ٹیکنا لوجیکل یا انویسٹمینٹ جینئس کی افسانوی کہانیوں میں بتایا جاتا ہے۔

ایلزبتھ ہومز کی مثال ہی لے لیجئے یہ خاتون ایک مالدار گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے دادا کا کاروبار، ماں کی امریکی کانگریس میں موجودگی اور باپ کی سابقہ امریکی انرجی کمپنی این رون وائس چیئرمین ہونا وہ تمام بنیا دی عوامل تھے جنھوں نے ایلزبتھ ہومز کے لئے نہ صرف ابتدا میں وسائل اور سرمایہ کاری کی فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ ماں باپ کی سیاسی اور کاروباری تعلقات اور اثر نفوذ نے میڈیا میں تشہیر اور بڑے سرمایہ داروں کی توجہ انکی فراڈ کمپنی کی جانب مبذول کروائی۔ اب اگر ان تمام حقائق پر پردہ ڈال کر کوئی ایلزبتھ ہومز کو محنتی اور دیانت دار کہتا ہے تو اس کا مقصد صرف عام لوگوں کو دھوکا دینا ہے جو کہ سرمایہ دارانہ میڈیا کا خاصہ ہے۔

ایلزبتھ ہومز کی ہی طرح نہ ہی وارن بفے، بل گیٹس یا پھر مارک زکربرگ بغیر خاندانی مدد کے محض اپنے زور بازو اور محنت کے بل بوتے پر ’سیلف میڈ‘ ارب پتی بنے ہوں۔

گو کہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ وارن بفے نے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بہت سے شاندار فیصلے کیے ہیں اور اس حوالے سے انکی صلاحیتوں اور مہارت پر کوئی سوال اٹھانا ممکن نہیں مگر کیا انکے لیے ابتدا سے ہی اسٹاک مارکیٹ کی سمجھ اور اس میں سرمایہ کاری کے لیے درکار کثیر رقم کا حصول ممکن ہوتا اگر ان کے والد ایک مالدار اسٹاک بروکر کے بجائے کسی جگہ خاکروب کی نوکری کر رہے ہوتے؟

وارن بفے کے والد نہ صرف ایک مالدار اسٹاک بروکر تھے بلکہ وہ امریکی ریاست نیبراسکا سے امریکی ایوان نمائندگان کے رکن بھی رہے تھے۔ ایسے میں یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ ایک مضبوط پس منظر اور خاندانی حلقہ احباب کے ہوتے ہوئے وارن بفے کو 1950ء کی دہائی میں اپنی پہلی کمپنی میں سرمایہ کاری کے لیے درکار دس ہزار ڈالرز جو آج تقریباً ایک لاکھ ڈالرز سے کچھ اوپر بنتے ہیں جمع کرنے میں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی۔

اسی طرح بل گیٹس کے والد ایک معروف کارپوریٹ وکیل اور والدہ ایک انتہائی کامیاب کاروباری خاتون تھیں جبکہ گیٹس کے نانا سیئٹل میں سان فرانسسکو فیڈرل ریزرو بینک کے ڈائریکٹر تھے، جنہوں نے اپنے نواسے کے لیے ایک ملین ڈالر کا ٹرسٹ فنڈ کو چھوڑا تھا جسکا ذکر کم ہی ملتا ہے۔ تو اس پس منظر میں جب بل گیٹس اپنے والدین کے ایک دوست جوکہ قسمت کی مہربانی سے کمپیوٹر بنانے والی مشہورزمانہ کمپنی ’IBM‘ کے صدر تھے سے اپنے کمپیوٹر سے متعلق چھوٹے سے ’اسٹارٹ اپ‘ کے بارے میں بات کی تو ’IBM‘ نے بل گیٹس کے ’MS-DOS‘ پروگرام کو ’IBM‘ کے پہلے پرسنل کمپیوٹر کے لیے آپریٹنگ سسٹم کے طور پر منتخب کر لیا۔

مارک زکربرگ کے والد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے فیس بک کو شروع کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالرز کی بنیادی رقم فراہم کی۔ ایلون مسک کے سفید فام خاندان کی جنوبی افریقہ کے نسل پرستی کے دور میں زمرد کی کانیں تھیں۔ امیزون کے مالک جیف بیزوس کے خاندان نے انہیں 1990ء کی دہائی میں ایمیزون شروع کرنے کے لیے ڈھا ئی لاکھ ڈالرز کی خطیررقم فراہم کی۔

اس بات میں کوئی کلام نہیں کے ان تمام لوگ کی کامیابی میں انکے ذہیں، اپنی دھن کے پکے، بلند حوصلہ اور لالچی ہونے کا بڑا ہاتھ تھا مگران لاکھوں غریب لوگوں کے برعکس جن کے پاس عزائم، ذہانت اور کامیاب ہونے کی لگن بھی ہے، جس چیز نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا وہ انکا خاندانی پس منظر تھا۔ ان لوگوں کی اصل کامیابی دراصل مالدارگھرانوں میں پیدا ہونا اور اپنے والدین کی دولت اور انکے تعلقات کا فائدہ اٹھانا ہے۔

یہ بات آپ کوئی بھی بتاتا نظر نہیں آئے گا کیونکہ سب ہی کو عقل و دلیل کے برخلاف خود کے بل بوتے پر کا میاب ہونے یا سیلف میڈ ہونے کی افسانوی کہانیاں سننے میں اچھی لگتی ہیں۔

ایسی انگنت کہانیاں آئے دن اخبارات، جرائد اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں جن میں تواتر اور یکسانیت کے ساتھ ایک ہی فلمی کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے جس میں ہیرو یعنی کامیاب ہونے والے چند لوگوں کے بارے میں یہ تو بتایا جاتا ہے کے کس طرح ان لوگوں نے محض اپنے زور بازو کے بل پر مشکلات سے مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی مگر کبھی انہیں حاصل خاندانی مدد و تعلقات، ٹرسٹ فنڈز اور وراثت میں ملنے والی دولت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کہانیوں کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کس طرح میں اور آپ اس بات پریقین کر لیں کہ اگر ہم صرف محنت کریں، ہوشیاری اور ذہانت سے کام لیں تو دولتمند ہونا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔ اور اگرآپ پھربھی کامیاب نہیں ہوتے تو یقینی طور پریہ آپ کی اپنی غلطی ہے، گویا وہ وراثت یا خاندانی دولت اور اثر و رسوخ جو کہ آپ کوکبھی اس دنیا میں ملی ہی نہیں وہ بھی آپ کی ہی اپنی کسی کوتاہی کا نتیجہ ہے۔ ان کہانیوں میں جان بوجھ کر اس بات کو نظر اندازکیا جاتا ہے کہ اس دنیا کی اکثریتی آبادی کو اپنے خاندان اور آنے والی نسل کے لئے دولت بنانے اور اکھٹا کرنیکا موقع کبھی نہیں ملتا۔

تحقیق یہ بتاتی ہے کہ غریبوں کے بچے پڑھائی لکھائی میں اچھے اور نظم وضبط کے لحاظ سے سب کچھ ٹھیک کرنے کے باوجود عموماً عملی زندگی وہ سب کچھ حاصل نہیں کر پاتے جو امیروں کے وہ بچے آسانی حاصل کر لیتے ہیں جو نہ پڑھائی لکھائی میں اچھے ہوتے ہیں اورنہ ہی نظم وضبط میں۔ اسکول سے فارغ التحصیل امیروں کے بگڑے ہوئے اور کند ذہن بچوں کو جو بڑی تنخواہیں اور مراعات آسانی سے مل جاتی ہیں وہ سوائے کچھ مستثنیات کے اسکول سے فارغ التحصیل غریبوں کے بچوں کو پڑھائی میں سخت محنت کے باوجود نہیں مل پاتیں۔ اسی طرح دنیا بھر میں عمومی طور پر اور مغربی ممالک میں خصوصی طور پر نسل اور جلد کی رنگت لوگوں کی نام نہاد کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ چناچہ آپ جہاں بھی دیکھیں وہاں کامیاب لوگوں کے تناسب میں سفید فام بالادستی صاف نظر آتی ہے۔

تو خوش آمدید! اب یہ آپ پرہے کہ آرام سکون سے رہیں اور جھوٹی افسانوی کہانیوں سے دل بہلائیں اور سیلف میڈ ارب پتی بننے کے سپنے سجائے آنکھیں بند کئے سیاست سے دور رہیں اور یا پھر…

بشکریہ: ڈیلی بیسٹ