پاکستان

اس بوسیدہ نظام میں تفریح بھی سانحہ بن جاتی ہے

حارث قدیر

پاکستان کے معروف سیاحتی مقام مری میں سرمائی سیاحت سے لطف اندوز ہونے کی خواہش لئے 22 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ گزشتہ 3 روز کے دوران سامنے آنے والی خبروں نے بوسیدہ نظام اور اسکی ناکام ہوتی ریاست پرکئی سوالات اٹھائے ہیں۔ کوئی بہت بڑا برفانی طوفان نہیں آیا اور نہ ہی کوئی اتنا دور دراز علاقہ تھا کہ جہاں ریسکیو آپریشن کیلئے رسائی ممکن نہ ہو پائے۔

یہ جگہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے محض 64 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور مرکزی شاہراہ پر برف میں 24 گھنٹے سے زائد تک گاڑیاں پھنسی رہنے کی وجہ سے یہ 22 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس دوران نہ تو ضلعی انتظامیہ، پنجاب حکومت یا کوئی ریسکیو ادارہ اس جانب متوجہ ہو سکا اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے اس طرف کوئی توجہ دینے کی کوشش کی گئی۔ الٹا حکومتی نمائندگان مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور سیاحوں کی تعداد کی اطلاعات سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر دیتے ہوئے ملک میں معاشی خوشحالی آ جانے کی خوشخبریاں سنانے میں مصروف رہے۔

تاہم اس اندوہناک سانحہ کی خبریں سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم اور وزرا نے اپنے بیانات تبدیل کرتے ہوئے اسے خدائی عذاب سے تعبیر کرنے کی کوششیں شروع کیں اور حسب معمول ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی، جس کی رپورٹ ماضی کی طرح شاید آتے آتے ہی سامنے آئے گی۔ البتہ جہاں فوج نے اپنی امیج بلڈنگ کیلئے صدیوں پرانے برف ہٹانے کے اوزار،جن میں بیلچے اور کدال شامل تھے، اٹھائے تصویری سیشن بھرپور طریقے سے سرانجام دیا۔

یاد رہے کہ تا دم تحریر پیر کی رات تک ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہو سکا تھا اور مری کی شاہراہ پر چند کلومیٹر کے اندر پھنسی گاڑیاں ابھی تک برف سے مکمل طور پر باہر نہیں نکالی جا سکیں اور پیر کی شام کو خبریں سامنے آئیں کہ ریسکیو آپریشن برفباری کے دوبارہ شروع ہو جانے کے باعث تعطل کا شکار ہے اور سیاح اپنی گاڑیاں لئے بغیر اپنے آبائی علاقوں میں جانے سے انکاری ہیں۔

سانحہ کے وقت جب حکومتی وزرا اور انتظامی اہلکاران برفباری پیمائش اور سیاحوں کی موسم کی پیشگوئیوں سے لا علمی سے متعلق اطلاعات فراہم کرنے میں مصروف تھے، تب تحریک انصاف کے کارکنان اور نام نہاد سول سوسائٹی نے اس سانحہ کا ذمہ دار مقامی آبادیوں اور ہوٹل مافیا کو قرار دینا شروع کر رکھا تھا۔ گزشتہ 3 روزسے مری میں ٹائر پنکچر سے لیکر ہیٹر سیکنے، ہوٹل کے کمروں اور گاڑیوں کو برف سے نکالنے کے نرخ نامے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں اور بھاری قیمتوں کو غیر انسانی اور بے حسی پر مبنی انسانی رویوں سے تعبیر کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مری میں بسنے والے انسان شاید جبلی طور پر ہی بے رحم اور بے حس پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے مرتے ہوئے لوگوں کی مدد کی کوشش نہیں کی۔

اس سارے سوشل میڈیائی کھلواڑ میں اس امر کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے کہ مری میں سرمائی سیاحت کیلئے لوگوں کو مدعو مقامی آبادیوں نے نہیں کیا تھا اور نہ ہی انہوں نے اس طرح کا کوئی اعلان کیا تھا کہ لوگ اگر مری میں برفباری سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو وہ دل فرش راہ کئے ان کے منتظر رہیں گے اور ان کی ہر خدمت خدا واسطے کرنے کیلئے ہر حد تک جائیں گے۔ البتہ یہ سب کام حکومتی نمائندگان کی طرف سے کئے گئے اور میڈیا کے ذریعے سرمائی سیاحت کو معیشت اور ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے سیاحت کی صنعت کو فروغ دینے کے دعوے کئے جاتے رہے۔

سب سے بڑھ کر سیاحت کیلئے مری جانے والے سیاحوں نے ٹول ٹیکس سے لیکر ہر خریداری پر بھاری ٹیکس حکومت کو دینے تھے جس کے بدلے حکومت اور انتظامیہ کی ہی ذمہ داری تھی کہ وہ مناسب انفراسٹرکچر فراہم کریں اور ہنگامی حالات میں ریسکیو کے اقدامات بھی کئے جائیں۔ نرخ نامے اجرا کرنا اور ان پر عملدرآمد کروانا بھی حکومت اور انتظامیہ ہی کی ذمہ داری تھی، جس میں وہ مکمل طور پر ناکام ہوئے۔ جہاں تک بات مقامی آبادیوں کی ہے تو برفباری کے موسم میں پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر لوگ کئی کئی روز تک گھروں سے باہر نکلنے سے ہی حتی الامکان گریز کرتے ہیں اور سہولیات و انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی اور معاشی تنگدستی کے دوران سنگین موسم میں لوگوں کو گھروں میں پناہ دینے کا سوچنا بھی شاید مقامی آبادی کی اکثریت کیلئے ناممکن ہو گا۔ اس کے علاوہ جب ہلاکتوں سے پہلے میڈیا اور انتظامیہ تک اس صورتحال سے بے خبر رہے یا بے خبر رہنے کو ترجیح دی گئی، تو ایسے میں مقامی آبادیوں کے لوگ کیسے یہ معلوم کر سکتے تھے کہ شدید برفباری میں ہزاروں گاڑیاں مری کی شاہراہوں پر پھنسی ہوئی ہیں اور ان کے اندر موجود لوگ موت کی وادیوں میں جانے والے ہیں؟

نام نہاد سول سوسائٹی دانشور اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ٹرولز جب مری میں کاروباری مافیا کے حد درجہ بڑھے ہوئے نرخوں پر شکوہ کناں تھے، تب انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کی کہ اس ملک کے وزیر اعظم سمیت تمام ہی حکمران جماعتیں نیو لبرل معاشی ماڈل کے سہولت کار ہیں۔ وزیر اعظم تو پرائیویٹ سیکٹر کو سہولیات فراہم کرنے اور اوپر اٹھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ تعلیم کے بعد اب صحت کے شعبہ کو بھی مکمل طور پر پرائیویٹ سیکٹر کے رحم کو کرم پر چھوڑنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ حکمران جب قیمتوں پر کنٹرول کرنے، عوام کو سبسڈی دینے اور بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات سرکاری سطح پر فراہم کرنے کو بوجھ قرار دینا شروع ہو جائیں اور ان کی حمایت میں ملک دانش بھی ہمراہ ہو تو پھر اس طرح کے اعتراضات سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی خاصیت ہی ضرورتوں کا کاروبار ہے۔ جب ہر چیز منڈی کے رحم و کرم پر ہو گی تو منڈی کے اصول ہی لاگو ہوں گے اور جس چیز کی ضرورت بڑھے گی اسکی قیمتیں بھی بڑھتی جائیں گی اور جس چیز کی ضرورت زندگی کیلئے ناگزیر ہو گی اسکی قیمت ادا کرنے کیلئے نسلوں کو مقروض کرنا مقدر ٹھہرے گا۔ اس طرح مری میں اگر ایک گھنٹہ ہیٹر کے پاس گرم ہونا کے نرخ 1 ہزار روپے مقرر کئے گئے تو اس میں بھی نا اہلی یا یوں کہیں کہ آشیرباد حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ہی موجود رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس خطے میں لاقانونیت کا راج ہے اور نہ تو کوئی ضابطہ و قاعدہ موجود ہے، نہ ہی قواعد و ضوابط کو لاگو کرنے والی کوئی اتھارٹی میسر ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نام سے قائم ادارہ کا مقصد ہی ہنگامی حالات کے دوران ریسکیو اور بحالی کیلئے اقدامات کرنا ہے، تاہم یہ ادارہ مری سانحہ کے دوران بھی منظر عام سے غائب رہا، شاید اس ادارہ کے قیام کا مقصد سانحات کے رونما ہونے کے بعد بحالی و تعمیر نو، ویکسینیشن یا دیگر امداد کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز کیلئے پراجیکٹ منظور کروانے کے بعد اسے ہڑپ کرنا ہے، ورنہ این ڈی ایم اے سمیت ضلعی انتظامیہ، ہائی وے ڈویژن سمیت ریسکیو 1122 جیسے ادارے برفباری میں گاڑیاں پھنسنے کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی نہ صرف متحرک ہوتے بلکہ ٹریفک کے مری میں داخلے کو بند کرتے ہوئے پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے اور انکی زندگیاں بچانے کیلئے ہنگامی اقدامات کرتے۔

یہاں تو المیہ یہ رہا کہ 20 گھنٹے گاڑیاں برف میں پھنسنے کے بعدرات بھر وہ گاڑیاں برف میں دھنستی رہی ہیں اور سیکڑوں ٹی وی چینلوں اور ہزاروں اخبارات پر مبنی سرکاری و نجی میڈیا کو بھی ہلاکتوں سے قبل خبر نہ ہو سکی۔ 2005ء کے زلزلہ میں بھی ابتدائی دو روز تک تمام میڈیا اسلام آباد میں زمین بوس ہونے والے دو رہائشی ٹاوروں میں ہونے والے نقصانات پر روشنی ڈالتا رہا تھا۔ 2 روز بعد قومی میڈیا کو یہ معلوم ہو سکا تھا کہ بالاکوٹ سمیت پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر کے کئی شہر زمین بوس ہو چکے ہیں۔ اس سیلولر فون کی عدم موجودگی، انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے فقدان کو خبروں تک رسائی میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ تاہم مری سانحہ کے دوران اس طرح کا کوئی فقدان نہیں تھا، پھر بھی خبروں کا یہ کاروبار انسانی زندگیوں کو لاحق خطرہ کی خبر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

سرمایہ دارانہ نظام کی عالمی سطح پر ناکامی، جدت اور پسماندگی کے ادغام اور گہرے ہوتے معاشی بحران کی وجہ سے پاکستان جیسی بوسیدہ اور لولی لنگڑی ریاستوں میں خوشی اور تفریح بھی حادثات اور سانحات بن کر ہی سامنے آتی ہے۔ اس خطے میں بہار کی آمد پر صدیوں پرانا ایک تفریحی تہوار ’بسنت‘ کے نام سے منایا جاتا رہا ہے۔ پتنگ بازی کے ذریعے سے بہار کو خوش آمدید کہنے کی اس روایت کو بالخصوص پنجاب میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا رہا ہے۔ تاہم سرمایہ داری کی مقابلہ بازی نے اس تفریحی تہوار کو بھی ایک قاتل تہوار میں تبدیل کر کے رکھ دیا اور صدیوں پرانا یہ خوبصورت تہوار ایک خوانخوار تہوار میں تبدیل کرتے ہوئے ختم کر دیا گیا ہے۔

حکمران طبقات سیاحت کے پوٹینشل کے دعوے تو کرتے نظر آرہے ہیں، اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاکستان میں قدرتی حسن کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ تاہم صرف قدرتی حسن کی بنیاد پر سرمائی، گرمائی یا صحرائی سیاحت کوترویج نہیں دی جا سکتی ہے۔ بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم تعمیر، ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے تربیت یافتہ عملہ اور مشینر کی عدم موجودگی اور سیاحوں و شہریوں کو ضروری سیاحتی تعلیم و معلومات فراہم کئے بغیر سیاحت کی جانب راغب کرنے کا نتیجہ حادثات، سانحات اور ہلاکتوں کے علاوہ کچھ اور نکل بھی نہیں سکتا ہے۔ اگر ایسے حالات میں بھی سیاح اپنی مدد آپ کے تحت ان سیاحتی مقامات سے لطف اندوز ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے معیشت میں بہتری کے کم اور ماحولیاتی تباہی، ایکو سسٹم میں بگاڑ سمیت دیگر مختلف نوع کے نئے مسائل ہی جنم لیتے ہیں۔

حادثات اور سانحات کی صورت میں حکمرانوں کا عمومی رویہ بھی متاثرین کو ذمہ دار قرار دینے پر ہی منتج ہوتا آیا ہے۔ یہی صورتحال یہاں بھی ملحوظ رکھی گئی ہے۔ فواد چوہدری مری میں داخل ہونے والی لاکھوں گاڑیوں کا حساب تو رکھ سکتے ہیں، تاہم انکی حفاظت کیلئے اقدامات سے وہ بری الذمہ ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت حکمرانوں اور میڈیائی دانشوروں نے متاثرین اور مہلوکین کو ہی اس حادثہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ وہ موسم کی پیشگوئیوں کو دیکھے بغیر مری چلے گئے، جس وجہ سے وہ اس حادثہ کا شکار ہوئے ہیں۔ نظام کا بحران جس قدر بڑھتا جا رہا ہے، حکمرانوں کی حرکات اور رویوں میں بھی اسی قدر اضطراب اور اوٹ پٹانگ و لمحہ بہ لمحہ متضاد بیاناتکا تسلسل بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اپ سٹارٹ بورژوازی کے نمائندہ حکمرانوں نے مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تعداد معلوم کرتے ہی اس امر کو معیشت کی ترقی سے تعبیر کیا، تاہم اگلے ہی لمحے ہلاکتوں کی خبر سامنے آنے پر انہی سیاحوں کو موسمی پیشگوئی کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کا گنہگار قرار دیکر اپنی ہلاکت کا خود ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ جن خطوں میں سیاحت معیشت کے اہم جزو کے طور پر سامنے آئی ہے وہاں سیاحتوں کی تربیت کیلئے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں، میڈیا اور دیگر ذرائع سے ہر طرح کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ یورپ، امریکہ اور کینیڈا کی مثالیں دیتے ہوئے عمران خان نہیں تھکتے، لیکن یہ معلوم کرنے سے مکمل گریز کرتے ہیں کہ وہاں برفباری کے دوران حفاظتی اقدامات کیلئے حکومتی ادارے کیا ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہیں۔ شہریوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے کس طرح سے معلومات فراہم کی جاتی ہے، برفانی طوفانوں، زلزلوں اور سمندری طوفانوں کے دوران محفوظ رہنے کی تربیت فراہم کرنا معمول کا کام ہوتا ہے۔ بغیر انفراسٹرکچر اور سیفٹی اقدامات کے برفانی سیاحت کا عجوبہ صرف ’نئے پاکستان‘ میں ہی میسر ہے۔

اس نظام نے انسان سے خوشی کا ہر احساس تک چھین لیا ہے، یہاں انسانوں کا سانس لینا دشوار ہو چکا ہے۔ جہاں زندہ رہنے کی بنیادی سہولیات کو نہ صرف کاروبار بنا دیا جائے بلکہ حکمرانوں کی عیاشیوں کو جاری رکھنے کیلئے بھی بنیادی انسانی ضرورتوں پر بھاری ٹیکس لگائے جا رہے ہوں۔ غربت، لاچاری اور بیماری سے تنگ آ کر مائیں اپنے بچوں کا گلہ گھونٹے پر مجبور ہوں، خاندانوں کے پاس مسائل سے نجات کا راستہ اجتماعی خودکشی کے علاوہ کوئی نہ ہو اور بے حس حکمران طبقات عوامی دکھوں اور تکالیف کا احساس کرنے کی بجائے انہیں یہ بتانے میں مصروف ہوں کہ وہ خوشحال ہیں۔ ایسے حالات میں تفریح سمیت خوشی اور راحت کی ہر کوشش ایک نئی اذیت اور نئے المیے کو جنم دیتی ہے۔ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے چھوٹے سے چھوٹے بنیادی مسئلہ کابھی اب حل ممکن نہیں ہے۔ سرمایہ داری نظام کا خاتمہ اور انسانیت کا ایک سوشلسٹ مستقبل ہی اس نظام کی بربادیوں اور سانحات کا حقیقی انتقام ہو گا۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔