خبریں/تبصرے

ایشیائی سوشلسٹوں کی یوکرین کے خلاف جنگ اور نیٹو کی توسیع پسندی کی مذمت

لاہور (جدوجہد رپورٹ) براعظم ایشیا کے سوشلسٹوں نے یوکرین پر روسی حملے اور نیٹو کی توسیع پسندی کی مذمت کی ہے۔

یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں 6 لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگ یوکرین سے بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شہروں اور قصبوں پر بمباری کے باعث شہری ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

’گرین لیفٹ‘ کے مطابق ملائشیا کی سوشلسٹ پارٹی (پی ایس ایم) نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جنگ مشرقی یورپ میں زندگیوں، معیشت اور ماحول کو تباہ کر رہی ہے اور عالمی سطح پر امن کو خطرہ لاحق ہے۔ روسی فوج کی طرف سے یوکرین پر فوجی جارحیت پیوٹن کی حکومت کی قوم پرست شاؤنسٹ فطرت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس صورتحال میں نیٹو کو روس کی سرحد کی طرف مزید مشرق کی طرف پھیلانے کیلئے اشتعال پیدا کرنے والے امریکہ کے جارحانہ دباؤکی بھی ذمہ داری ہے، جس کی مذمت ہونی چاہیے۔“

پی ایس ایم نے روس سے فوجوں کے انخلا اور نیٹو سے مشرق کی طرف پھیلاؤ روکنے کا مطالبہ کیا اور روسی حملے کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں کو سلام پیش کیا۔

بھارت کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ لین اسٹ) لبریشن نے بھی روس سے مطالبہ کیا کہ یوکرین پر بمباری بند کرے اور اپنی فوج کو یوکرین کی سر زمین اور فضائی حدود سے ہٹائے۔ پارٹی نے نیٹو کی توسیع پسندی کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہاکہ نیٹو دفاعی اتحاد نہیں بلکہ ایک سامراجی اتحاد ہے۔

سی پی آئی ایم ایل لبریشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) نے شہریوں اور دیگر ترقی پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر 26 فروری کو دہلی میں ایک امن مارچ کا انعقاد بھی کیا۔

’AISA‘ دہلی کی رہاستی سیکرٹری نیہا نے کہا کہ ”عوام کے حق میں کسی بھی حکومت نے کبھی کوئی جنگ نہیں شروع کی۔ ہم روس اور امریکہ (نیٹو) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین کی تلاش بند کریں اور عوام کو خود فیصلہ کرنے دیں۔“

فلپائن میں پارٹی آف لیبرنگ ماسز (پی ایل ایم) نے جہاں روس سے فوجی انخلا کرنے اور پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا، وہیں فلپائنی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امریکی جارحانہ اتحاد بنانے کی کوششوں کی حمایت نہ کرے۔ بیان میں امریکی اقدامات کی مذمت کی گئی اور روس سے فوجی جارحیت فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔

آسٹریلیا میں سوشلسٹ الائنس نے بھی ایک بیان میں یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے یوکرینی عوام کے حملے کے خلاف مزاحمت کے حق کا دفاع کیا۔

الائنس نے پائیدار امن کیلئے چند اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا، جن میں نیٹو کی جانب سے مشرق کی طرف پھیلاؤ روکنے کا عزم، نیٹو کو ختم کرنا اور تمام جوہری ہتھیاروں کی ممانعت کے معاہدے پر دستخط کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ”پیوٹن روس کے محنت کش عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کا سیاسی منصوبہ آمریت، سماجی قدامت پسندی اور روسی شاؤنزم پر مبنی ہے۔ وہ روس کے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں اور مغربی سرمایہ دارو ں کے مقابلے میں اپنا اثر و رسوخ بنانے کی انکی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ اس منصوبے کا کوئی ترقی پسند یا سامراج مخالف کردار نہیں ہے۔“

انہوں نے روس کی امن تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تمام مظاہرین کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ روس پر اقتصادی پابندیوں کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔