تاریخ

ساکا ننکانہ کا معاشی اور سماجی پہلو

ڈاکٹر مظہر عباس/محمد حسن رائے

بھارت میں مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کی طرف سے مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم کے ایک اور اقدام نے عالمی برادری کی توجہ اس وقت مبذول کرائی جب اس نے ساکا ننکانہ (یا ننکانہ قتل عام) کی سوویں سالگرہ (جو کہ 20 فروری 2021ء کو تھی) میں شرکت کے لیے 700 سکھوں کو ننکانہ صاحب (پاکستان) جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

ساکا ننکانہ 20 فروری 1921ء کو ہوا جب مہنت نارائن داس اور اس کے کرائے کے سپاہیوں نے گردوارے کی تحویل میں لگاتار 250 سے زیادہ سکھوں کو قتل کر دیا۔ یہ خوفناک واقعہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر سکھ تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے:

اؤل، یہ اپریل 1919ء میں جلیانوالہ باغ کے قتل عام کے بعد برطانوی پنجاب میں دوسرا بڑاقتل عام ہے۔ دوسرا، یہ بیسویں صدی کے اوائل میں سکھوں کی طرف سے شروع کی گئی گردوارہ اصلاحی تحریک کا بنیادی حصہ ہے۔

ہندوستانی حکومت کی طرف سے سکھوں کو ننکانہ صاحب جانے کی اجازت سے انکار اس دعوے یا مؤقف کا استدلال ہے کہ مذہب اور سیاست ہمیشہ سے غالب موضوعات رہے ہیں، جیسا کہ مشل فوکو کا کہنا ہے کہ ہر چیز مرکزیت کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ مرکزیت پسند ایک مخصوص بیانئے کا پرچار کرتے ہیں جو ان کے مفادات کے مطابق ہوتا ہے۔ نتیجتاً مظلوموں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ ایک طرف طاقت کے مکمل ارتکاز کا باعث بن سکتا ہے اور دوسری طرف ایک ایسی ثقافت کو جنم دے سکتا ہے جو مظلوموں میں باغیانہ خیالات کو پنپنے میں مدد کرتاہے۔

مثال کے طور پر، سکھوں نے ننکانہ صاحب، جسے پہلے رائے بھوئی دی تلونڈی کہا جاتا تھا، میں گردوارہ جنم استھان کے متولی مہنت نارائن داس کے جابرانہ عزائم کے خلاف بغاوت کر دی۔ وہ سرزمین جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک (1469-1539ء) پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی زندگی کے 15-20 سال گزارے۔ انہوں نے رائے بھوئے دی تلونڈی کے مالک، رائے بُلار احمد خاں بھٹی، کے ساتھ احترام کا رشتہ استوار کیا۔ رائے بُلار احمد خاں بھٹی بعد میں خود کو بابا گرونانک کے عقیدت مندوں میں شمار کرتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے بابا گرو نانک کی پیدائش کے بعد رائے بھوئی دی تلونڈی کا نام بدل کر ننکانہ صاحب رکھ دیا۔

بابا گرونانک کے انتقال کے اڑھائی صدیوں سے زیادہ عرصے بعد، ان کے ایک عقیدت مند، مہاراجہ رنجیت سنگھ (جو کہ پنجاب کا حکمران تھا)، نے ننکانہ صاحب میں سات گردوارے بنائے۔ گردوارہ جنم استھان، جو بابا گرونانک کی جائے پیدائش کے اعزاز میں بنایا گیا تھا، ان سب گردواروں میں سے بڑا ہے۔ ساکا ننکانہ نے نہ صرف سکھ گردواروں کا مستقبل بلکہ سکھ تاریخ کو بدل کے رکھ دیا۔

کئی نامور تاریخ نویس اس المناک واقعے کو عمومی مذہبی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ سکھوں نے سکھ مت کے اُداسی فرقے کے ایک عقیدت مند مہنت نارائن داس اور اس کے ساتھیوں کے کنٹرول سے گردوارہ کو آزاد کروانے کی کوشش میں اپنی جانیں قربان کیں۔

داس کو گردوارے کی تحویل اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملی تھی جنہیں یہ ذمہ داری مغلوں نے دی تھی۔ اس پر الزام تھا کہ وہ شراب پی کر گردوارہ کے تقدس کو پامال کرتا تھا اور گردوارہ کے اندر یا گرد و نواح میں دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہتا تھا۔ اس سے سکھ ناراض ہو گئے، جنہوں نے ایک کمیٹی، شرومنی کمیٹی بنائی اور اس سے گردوارہ کا کنٹرول اس کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ داس نے سکھ رہنماؤں کو ننکانہ صاحب مدعو کیا اور انہیں کرائے کے غنڈوں کے ذریعے قتل کرنے کی سازش کی۔

سکھوں نے بھائی کرتار سنگھ جھبر اور بھائی لچھمن سنگھ دھارووالی کی قیادت میں ننکانہ صاحب کی طرف پیش قدمی کر کے اس سازش کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ اؤل الذکر نے اپنے جتھے سمیت کسی نہ کسی طرح پیش قدمی کو منسوخ کرنے کافیصلہ کیا۔ جبکہ موخرالذکر کی قیادت میں جتھا پیش قدمی کرتا رہا اور گردوارے میں داخل ہو گیا۔ داس، جسے اس کے مخبروں نے اس پیش قدمی کے بارے میں خبردار کر دیا تھا، اپنے کرائے کے سپاہیوں کے ساتھ انتظار کر رہا تھا۔ انہوں نے 20 فروری 1921ء کو اس جتھہ کو گردوارہ کے احاطے میں قتل کر کے سپرد خاک کر دیا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پنجاب بھر سے سکھوں نے ننکانہ صاحب کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔ مزید جانی نقصان اور جنگ جیسی صورتحال سے بچنے کے لیے لاہور کے کمشنر نے گردوارے کی چابیاں شرومنی کمیٹی کے حوالے کر دیں اور داس اور اس کے غنڈوں کو گرفتار کر لیا۔ بعد میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی۔ نوری کمبوکا (1870-1960ء)، جو ساندل بار کے سب سے مشہور پنجابی شاعروں میں سے ایک ہیں، کو اپنی شاعری، چھتیس ڈھولوں، کے ذریعے اس تاریخی سانحہ کو محفوظ کرنے کا سہرا جاتا ہے۔ وہ شیخوپورہ میں دیوان سکھوں اور داس کے درمیان ہونے والی ذاتی یا خاندانی لڑائی کا ذکر کرتے ہیں، جہاں مؤخر الذکر کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ کسی طرح اپنے نوکر آہمو ماچھی کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

کمبوکا مزید کہتے ہیں کہ سکھوں نے جنم استھان گردوارہ پر قبضہ کرنے کے لیے تین پھاگن کو ننکانہ صاحب واپس جانے کی دھمکی دی۔ سکھوں کی اس دھمکی سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے داس نے راولپنڈی سے 400 پشتونوں کو اپنی، اپنے دوستوں اور گردوارے کی حفاظت کے لیے کرائے پر بلایا۔ تاہم، سکھ دھمکی دینے کے باوجود لڑائی کے لیے نہیں آئے۔ پرسکون محسوس کرتے ہوئے داس نے لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ننکانہ ریلوے سٹیشن سے ٹکٹ خریدا اور ٹرین کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ ٹرین میں سوار ہوا تو ایک عورت باہر نکلی اور داس کے نوکر سے پوچھا: ”تمہاری سکھوں سے لڑائی کا کیا ہوا؟“ نوکر نے جواب دیا، ”وہ معاملہ تو ختم ہو گیا ہے کیونکہ سکھ لڑنے کے لئے آئے ہی نہیں۔“ جس پر اس عورت نے جواب دیا: ’اپنی تیاری کر لو کیونکہ وہ اگلے ریلوے اسٹیشن پر جمع ہو رہے ہیں۔“

نوکر اس عورت کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت بتانے کے لیے دوڑتا ہو داس کے پاس پہنچا۔ داس ٹرین سے اترا اور اپنے دوستوں کو خبردار کرنے کے لیے بھاگا۔ سکھ 19 فروری 1921ء کی رات ننکانہ صاحب پہنچے، چوپڑا کاٹن رائس مل میں رات گزاری اور طلوع آفتاب سے پہلے صبح سویرے گردوارے میں داخل ہو گئے۔ داس اور اس کے کرائے کے سپاہیوں نے سکھوں کو گردوارے میں داخل ہونے دیا، گیٹ بند کر دیا اور پھر انہیں قتل کر کے جلا دیا۔ کمبوکا کے مطابق، سکھوں کا قتل مذہب، معاشیات (گردوارہ کی زمین نہری آبپاشی کے نظام کے متعارف ہونے کے بعد سونا اگل رہی تھی)، انتقام (شیخوپورہ کی لڑائی) اور انا کے عوامل کی وجہ سے ہوا۔

ساکا ننکانہ کے نہ صرف سکھوں کے لیے بلکہ خطے کے لیے بھی کچھ مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

پہلا، ننکانہ صاحب کو یکم اپریل 1922ء کو سب ڈسٹرکٹ کا درجہ دیا گیا۔

دوسرا، برطانوی حکومت نے سکھوں کے ساتھ مشاورت سے قصبے کے لیے ترقیاتی منصوبے کا اعلان کیا۔

تیسرا، گردوارے کا انتظام سکھوں کے حوالے کر دیا گیا۔

چوتھا، سکھ گردوارہ ایکٹ 1925ء منظور ہوا۔

تقریباً ایک سو سال قبل شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبے کو مختلف پہلوؤں سے بڑھایا گیا ہے: جیسا کہ ننکانہ صاحب کو اپ گریڈ کر کے ضلع بنا دیا گیا ہے اوریہاں بابا گرو نانک یونیورسٹی زیر تعمیر ہے۔

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔

محمد حسن رائے گرو نانک گریجوایٹ کالج ننکانہ صاحب میں تاریخ کے لیکچرار ہیں اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔