تاریخ

صحافت کا مارکس وادی سپاہی رخصت ہوا

عدنان فاروق

خالد حمید فاروقی صاحب اب ہم میں نہ رہے، دنیا بھر کی خبریں دینے والے اب خود ایک خبر بن گئے۔ خالد صاحب سے میرا بہت ہی پیار اور اساتذہ والا رشتہ تھا۔ برسلز اور پیرس میں انسانی حقوق، کمیونیکیشن ٹریننگ اور یورپین پارلیمنٹ کے ممبران تک رسائی کے معاملہ میں جب بھی ان کی ضرورت ہوتی وہ ہر وقت مدد کے لئے تیار ہوتے۔ میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ یورپ میں اگر کوئی صحافی صحافی کہلوا سکتا ہے تو وہ خالد حمید فاروقی ہی ہیں۔ کسی پاکستانی صحافی کی پاکستان کے یورپی امور پر اتنی مہارت نہیں تھی جتنی فاروقی صاحب کو تھی۔ وہ تو دیگر ممالک کے صحافیوں کو اکثر یورپین پریس کلب میں بریفنگ دیتے دیکھے گئے تھے۔

وہ ایک سچے مارکسسٹ بھی تھے اور اپنی نوکری کو بچاتے ہوئے اپنے آدرش کے ساتھ جڑے رہے۔ شائد یہی ایک المیہ تھا جو ان کی جان پر بھاری پڑا۔ جیو والے ٹھہرے ابن الوقت کاروباری لوگ اور فاروقی صاحب کام کرنا چاہتے تھے اور معیاری صحافت کرنا چاہتے تھے، جو کہ انہوں نے کی بھی لیکن پھر بھی اکثر اس بات کا رونا رویا کرتے تھے کہ کیسے ہمارے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ برسلز کی پاکستانی ایمبیسی میں سچ بولنے کی وجہ سے بلیک لسٹ تھے اور یورپین پارلیمنٹ میں انہیں پاکستان کے مفاد میں اٹھاے گئے تیکھے سوالوں کے باعث پاکستانی ایجنسیوں کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے بیلجیئم، ہالینڈ، جرمنی، فرانس اور اٹلی سے بیک وقت صحافت کی۔ فاروقی صاحب انتہائی ذمہ دار اور ایماندار صحافی تھے جنھوں نے یورپی یونین اور عالمی عدالت انصاف سے اعلیٰ میعار کی رپورٹنگ کی۔ خالد فاروقی رپورٹنگ کی بہترین مثال تھے۔ زمانہ طالب علمی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ رہے اور پاکستان کی جمہوری تحریکوں میں پیش پیش رہے۔ جب بھی انسانی حقوق کے دفاع کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی تو خالد فاروقی اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کرتے تھے۔

خالد صاحب کے ایک عزیز دوست حسن جاوید لکھتے ہیں کہ خالد سے تعارف عشروں پر محیط تھا، وہ میرے علاقہ ڈرگ کالونی، کراچی کے رہنے والے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ہم عمر اور ہم جماعت۔ لیکن ان سے بالمشافہ ملاقات پہلی دفعہ نوے کی دہائی میں برمنگھم میں ہوئی جب وہ راجہ اظہر حسین کے ساتھ میرے گھر آئے۔ اس کے بعد ان سے رو برو یا ٹیلی فون کے ذریعہ ملاقاتیں وقتاً فوقتاً ہوتی رہیں، این ایس ایف کا مشترک حوالہ اور خیالات کی ہم آہنگی، ہمارے درمیان ایک دیرپا رشتے کی بنیاد بنی۔ حالیہ سالوں میں لندن میں فیض امن میلہ باقاعدہ ملاقاتوں کا سبب بنا۔

ان سے آخری گفتگو پرسوں جمعرات کو ٹیلی فون پر ہوئی، جب وہ اپنے دورہ لندن کے آخری دن اکرم قائمخانی کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے۔ بڑی دیر اپنے یوکرینی اسائنمنٹ اور جنگ کے بارے میں اپنے تجزیے کے بارے میں بات کرتے رہے۔ خالد حمید ان ساتھیوں میں سے تھے جنہوں نے این ایس ایف کی تاریخ پر مبنی سورج پہ کمند کو مرتب کرنے کی کوششوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ عملی طور پر مدد بھی کی۔ اس آخری گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ جولائی کے مہینہ میں برسلز میں کتاب کی تعارفی تقریب منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرے پوچھنے پر کہ وہ کتنے مزید دن لندن میں مقیم ہیں تاکہ ملاقات کی جا سکے، انہوں نے بتایا کہ وہ اگلی صبح برسلز جا رہے ہیں اس کے چند روز بعد انہیں دوبارہ جنگ کی نامہ نگاری کے لئے یوکرین جانا ہے۔ علم نہیں تھا کہ یہ ان سے آخری گفتگو ہے۔

راقم اور فاروقی صاحب کے مشترکہ دوست نے کل برسلز سے فون پر ایک درد ناک بات بتائی کہ پرسوں جب ان کو غسل دیا جا رہا تھا تو ان کی پولش نزاد بیوی کو غسل کمیٹی کے ممبران نے میت کو دیکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھیں۔

فاروقی صاحب مسئلہ کشمیر پر بہت واضح نقطہ نظر رکھتے تھے اور ان سے کئی دفعہ اس موضوع پر گفتگو ہوئی اور ان کے خیال میں پاکستان کا دفتر خارجہ اور بیرونی ممالک میں موجود ڈپلومیٹک مشن کشمیر کا کیس غلط انداز میں پیش کرتے رہے اور یہ ان کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

وہ ترکی پر خود کو اتھارٹی سمجھتے تھے اور ترک کلچر اور سیاست پر بڑی گہری نظر تھی۔ پاکستان سے آنے والے ان کے مہمان اکثر اعلیٰ بیوروکریٹ یا نامور صحافی یا جرنیل ہوتے تھے جو بار میں بیٹھ کر وائن کے گلاس پر ان کے موقف کی ہمیشہ تائید کرتے تھے لیکن واپس جا کر وہی مطالعہ پاکستان کا راگ الاپا کرتے تھے۔

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔