خبریں/تبصرے

مارکس کا عمران خان پر تبصرہ: ’وہ تھا کچھ بھی نہیں سو ہر چیز کی علامت بن گیا‘

جدوجہد رپورٹ

1848ء میں لوئی بونا پارٹ سوم فرانس میں انتخاب جیت گیا۔ بونا پارٹ جونیئر ایک اوسط درجے کا سیاستدان کہلانے کے لائق بھی نہ تھا۔ فرانس، جس نے پانچ دہائی قبل اپنے انقلاب سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہاں ایسے سیاستدان کا کامیاب ہونا بہت سوں کے لئے حیرت کا باعث بنا۔ اس صورتحال کا تجزیہ کارل مارکس نے اپنی کتاب ’18th Brumaire of Louis Bonaparte‘ میں کیا۔ اس کتاب سے ایک مختصر سا اقتباس حسب حال معلوم ہو گا (مدیر)۔

”بونا پارٹ جونیئر کے خالی پن کی وجہ سے ہر طبقے اور ہر حلقے نے اسے ایک ایسے مجسمے میں بدل دیا ہے جو درحقیقت ان کے اپنے طبقے یا حلقے کی شبیہہ ہے۔ کسانوں کی نظر میں بونا پارٹ جونیئر امیروں کا دشمن ہے۔ پرولتاریہ سمجھتا ہے کہ اس نے بورژوا ری پبلک کا خاتمہ کر دیا ہے۔ مقتدرہ بورژوازی کو اس سے امید ہے کہ وہ بادشاہت بحال کر دے گا۔ فوج کو یقین ہے کہ وہ جنگ چھیڑ دے گا۔ یوں گویا ہوا یہ ہے کہ فرانس کا ایک ایسا انسان جسے ملک کا سب سے زیادہ سادہ ذہن آدمی کہا جا سکتا ہے، وہ پیچیدہ ترین اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وجہ اس کی صرف یہ تھی کہ وہ تھا کچھ بھی نہیں سو ہر چیز کی علامت بن گیا “۔