پاکستان

بحران کا حل: اشرافیہ کو 1 کھرب کی سبسڈی کا خاتمہ، 10 ارب ڈالر کی درآمدی تعشیات پر پابندی

ڈاکٹر اکمل حسین

معاشی بحران سے نپٹنے کے لئے فوری طور پر یہ چیلنج درپیش ہے کہ غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے ملک بھی دیوالیہ نہ ہو اور غریب پر بوجھ بھی نہ پڑے۔ ساتھ ہی ساتھ، یہ بھی اہم ہے کہ ایسے تکنیکی اقدامات اٹھائے جائیں جن کا مقصد یہ ہو کہ معیشت کی سٹریٹجک سمت ایک ایسی معاشی ترقی ہو جس کا مقصد عوام کی بھلائی ہو۔ اس مضمون میں اسی چیلنج سے نپٹنے کے لئے چند تجاویز پیش کی جائیں گی۔

موجودہ بحران کے دو پہلو ہیں، دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اؤل: سٹیٹ بینک کے ریزرو۔ کہا جا رہا ہے کہ واجب الادا قرضوں کی مد میں اگلے دو مہینوں میں صورت حال قابو سے باہر ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی جانب سے معیشت کو امریکی ڈالرز کا ٹیکہ نہ لگایا گیا تو خطرہ یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے پر روپے کی قدر مزید گر جائے گی جبکہ مہنگائی بھی بے قابو ہو جائے گی۔

دوم: بجٹ خسارہ اتنا نہ بڑھا دیا جائے جس کے نتیجے میں بڑے بڑے غیر ملکی قرضے ناگزیر ہو جائیں تا کہ اس خسارے کو پورا کیا جا سکے۔

ماضی میں جب بھی اس طرح کی صورت حال پیدا ہوئی، حکومتوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ خسارے کا بوجھ غریب پر لاد دیا گیا جبکہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کیا گیا۔ ریاست،معیشت اور معاشرے کو جس بحران کا سامنا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ معاشی دلدل سے نکلنے کے لئے بوجھ اشرافیہ پر ڈالا جائے نہ کہ عام لوگوں پر۔

پہلی بات: سٹیٹ بینک کے پاس اگر زر مبادلہ موجود نہیں تو اس کا تقاضہ ہے کہ غیر ضروری درآمدات میں فوری کمی لائی جائے۔ مثال کے طور پر 2020-21ء مالی سال کے دوران 1.53 ارب ڈالر کی گاڑیاں منگوائی گئیں۔ یہ کل برآمدات کا 4 فیصد تھا۔ اگر ایک سال قبل کے مالی سال سے موازنہ کیا جائے تو اس مد میں 80 فیصد اضافہ ہوا۔

2020-21ء مالی سال کے دوران کنزیومر ڈئیوریبلز (Consumer Durables)، جن میں گاڑیاں شامل نہیں، کی مدمیں 1.1 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ یہ کل درآمدات کا 2.8 فیصد تھا۔ موبائل فونز کی وجہ سے درآمدی بل میں 1.54 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا (جو کل درآمدات کا تقریباً 4 فیصد بنتا ہے)۔ کھانے کی اشیا (نارویجن سموکڈ سولومون، فرنچ پنیر، مارملیڈ اور سوئس چاکلیٹس) پر 6.1 ارب ڈالر خرچ ہوئے جو کل برآمدات کا 15.6 فیصد بنتا ہے۔ صرف ان اشیا کی درآمدات پر پابندی لگانے سے ملک کو 10 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

دوسری بات: بجٹ خسارے کا حالیہ تحقیق کی روشنی میں از سر نو جائزہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ حکومت کی نیند بجٹ خسارے کی وجہ سے نہیں اڑنی چاہئے۔ اصل پریشانی یہ ہونی چاہئے کہ بجٹ خسارے کی وجہ کیا ہے۔ اگر تو بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 9 فیصد پر بھی پہنچ جائے، مگر اس کی وجہ پیداوارانہ سرمایہ کاری (Productive Investment) ہے تو ہو گا یہ کہ اس سرمایہ کاری کی وجہ سے جو معاشی نمو ہو گی اور آمدن میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ خسارہ کم ہوتا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے غیر پیداواری اخراجات کم کئے جائیں نہ کہ ترقیاتی اخراجات۔ چنانچہ ’مالیاتی گنجائش نکالنے‘ کی سوچ دراصل حقیقت سے میل نہیں کھاتی۔

جیسا کہ حال ہی میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ہونے والے ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر لارڈ رابرٹ سکیڈلسکی نے کہا حکومت سٹیٹ بنک سے قرضہ لے کر جتنی بھی مالیاتی گنجائش نکالنا چاہتی ہے نکال لے مگر یہ پیسے پیداواری صلاحیت بڑھانے پر خرچ کئے جائیں۔

تیسری بات: بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے، اگر ہر طرح کی سبسڈیز واپس لے لی جائیں گی تو اس کا غریب لوگوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔ ایسی سبسڈیز جن کا فائدہ غریب عوام کو پہنچتا ہے، برقرار رہنی چاہئیں۔ اس کے بر عکس، جن سبسڈیز کا فائدہ اشرافیہ کو پہنچتا ہے، ان کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر امیر لوگوں کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ملنے والی رعایتوں کا حجم 1.3 کھرب روپے ہے۔ کیوں نہ ان امیر لوگوں سے کہا جائے کہ وہ اپنا واجب الادا ٹیکس ادا کریں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو سہارا مل سکے۔ اس طرح معیشت بھی ترقی کرنے لگے گی۔

چوتھی بات: ٹیکسوں میں اضافے کے لئے امیر ترین لوگوں پر تین طرح کے براہ راست ٹیکس لگائے جا سکتے ہیں:

۱۔ زمینوں کے ہونے والے ہر بڑے انتقال پر سٹمپ ڈیوٹی بڑھا دی جائے۔
۲۔ جن کے پاس ایک سے زیادہ گھر ہیں، ان پر پراپرٹی ٹیکس بڑھا دیا جائے۔
۳۔ جن کے پاس ایک سے زیادہ گاڑیاں یا گھر ہیں، ان پر ’فوڈ فار پُور‘ ٹیکس لگا دیا جائے۔

پانچواں نقطہ: غریب لوگوں کے بھلے کے لئے کچھ پالیسیاں تو فوری طور پر لاگو کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر امیر لوگوں کو ملنے والی ٹیکس مراعات ختم ہونے سے جو آمدن ہو گی، یا اشرافیہ پرلگنے والے نئے ٹیکسوں سے ہونے والی آمدن فوری طور پر غریب عوام پر خرچ کی جا سکتی ہے۔ اؤل، حکومت خوراک کو بنیادی انسانی حقوق قرار دے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت فوڈ سٹمپس جاری کر سکتی ہے جن کے ذریعے خوراک کے بنیادی اجزا (آٹا، گھی، کوکنگ آئل وغیرہ) ان 40 فیصد گھرانوں تک 50 فیصد رعایت پر فراہم کیا جا سکیں، جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ دوم، دیہی علاقوں میں روزگار گارنٹی اسکیم شروع کی جائے۔ اس اسکیم کے تحت سال کے دو سو دن کے لئے مارکیٹ ریٹ پر ملنے والی تنخواہ پر روزگار فراہم کیا جائے۔ اس لیبر کو روز مرہ کے اوزاروں کے ساتھ دیہی انفراسٹرکچر تعمیر کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ مثال کے طور پر نہروں کی مرمت، کھالے پکے کرنے کا کام، دریاوں کے قریب پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے تا کہ جب سیلاب آئے تو پانی ذخیرہ کیا جا سکے۔ سوم، حکومت ہر شہری کو اعلیٰ معیار کی تعلیم، صحت اورسماجی تحفظ کی ضمانت دے۔ حالیہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت جب شہریوں کی صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر خرچ کرتی ہے تو اسے صرف فلاحی اقدامات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اقتصادی ترقی بھی ہوتی ہے۔

عوام پر تکیہ کرتے ہوئے جن اقدامات کی نشاندہی اس مضمون میں کی گئی ہے، ان کے نتیجے میں نہ صرف اگلے مالی سال کے دوران معاشی تباہی سے بچا جا سکتا ہے بلکہ ایک ایسے معاشی عمل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے جس سے معیشت بھی ترقی کرے گی اور ایسی معاشی ترقی کا فائدہ عام لوگوں کو پہنچے گا۔

کسی بڑے بحران کے دوران ہی اس معاشی ابھارکے بیج بوئے جا سکتے ہیں جو عام لوگوں کاہو اور جو عام کے لئے ہو۔

بشکریہ: دی نیوز۔ ترجمہ: فاروق سلہریا

ڈاکٹر اکمل حسین بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں ڈسٹنگویشڈ پروفیسر ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: akmal.hussain@bnu.edu.pk