پاکستان

ہاؤسنگ سوسائٹیاں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہیں (حصہ دوم)

رانا سیف

(پہلا حصہ اس لنک پر دستیاب ہے)

پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے طبقہ اشرافیہ نے مافیا کا روپ دھار لیا ہے۔ اشرافیہ غریبوں کے نام پر ملنے والی سبسڈی اور ٹیکس سے چھوٹ کو بھی اپنی تجوریوں کو بھرنے اور غریب عوام اور مزدور استحصال کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہی کچھ ہمارے ہاں لینڈ اور ڈویلپر مافیا کر رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں چھوٹے اور بڑے ڈویلپر رہائشی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ چھوٹے ہوں یا بڑے سب ڈویلپر بعد از ڈولپمنٹ کالونی کے رہائشیوں سے ایسے ایسے طریقوں سے اربوں روپے کی لوٹ مار کر رہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

جیسا کہ میں نے قسط اؤل میں آپ کو بتایا کہ ڈویلپر کو کالونی میں پلاٹ بیچنے کی اجازت تب ملے گی جب وہ سڑکوں، گلیات، پارکس، قبرستان، واٹر سپلائی، سالڈویسٹ مینجمنٹ، ڈسپوزل پمپ، پبلک بلڈنگ کی جگہ کا انتقال اور بیس فیصد پلاٹ منظوری دینے والے محکمہ کے پاس گروی رکھے گا لہٰذا اب یہ جگہیں حکومت کی ملکیت قرار پائی ہیں لیکن اس کے باوجود ڈویلپرز ان کی آڑ میں مالکان پلاٹ سے ماہانہ اربوں روپے لوٹتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے ملنے والے تمام مالی فوائد حکومتی خزانہ میں جمع ہونے چاہئیں لیکن طاقتور مافیا اور سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ بدمعاشی اور چور بازاری نہ صرف سرعام جاری و ساری ہے بلکہ اس ملک کے نظام کی موت کا اعلان بھی ہے۔

نجی ڈویلپرز مافیا کا اپنے رہائشیوں کو لوٹنے کا طریقہ واردات پر غور کریں تو سمجھ آتا ہے کہ نجی ڈویلپرز کس طرح لوٹتے ہیں اور وہ اپنے پلاٹس کے خریداروں کو کیسے بیوقوف بناتے ہیں؟

پرائیویٹ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز قوانین کے برعکس مالکان زمین سے معاہدہ ہوتے ہی سادہ لوح زمیندار کے نام سے ہی درخواست جمع کرواتے ساتھ ہی نقشہ جاری کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ڈویلپر مالک زمین کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے ہوئے اپنے منظور شدہ ایجنٹس کو کافی زیادہ کمیشن دیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کے چکر میں سادہ لوح اور ضرورت مند افراد کو لالچ دیتے ہیں کہ پری لانچنگ سے قبل پلاٹ بک کروائیں کیونکہ کالونی باقاعدہ لانچ ہونے کے بعد ان ریٹس پر پلاٹ نہیں ملیں گے۔ عام شہری سستے کے چکر میں کالونی والوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ ریکارڈ بتاتا ہے مالک زمین کے نام سے جس کالونی کی درخواست جمع کروائی جائے ان میں ڈویلپر ترقیاتی کام نامکمل چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرتا ہے جبکہ زمین کا مالک اس فراڈ کے نتیجہ میں نیب جیسے اداروں کی پیشیاں بھگتنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس جرم میں سرکاری محکموں کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کالونی میں فراڈ نہیں ہوا ہے تو پھر ڈویلپر ان کے ساتھ جو کچھ کرتا ہے اس کا احوال نیچے درج ہے۔

(1) کم و بیش تمام پرائیویٹ کالونیوں والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی کالونی میں بجلی چوبیس گھنٹے بلا تعطل فراہم کی جائے گی۔ شاید اسی ایک وجہ کی بنا پر بحریہ ٹاون نے راتوں رات کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اب سب ڈویلپر اس کی نقل کر رہے ہیں۔

(2) اگر کوئی صارف پلاٹ خرید لے تو تحریری معاہدہ میں اس سے یہ ضمانت تو لے لی جاتی ہے کہ وہ بروقت اقساط ادا نہ کرنے کی صورت میں ڈویلپر کو جرمانہ ادا کرے گا لیکن اسے اس بات کی ضمانت نہیں دی جاتی ہے کہ پلاٹ کا قبضہ دیر سے ملنے کی صورت میں ڈویلپر کو کیا جرمانہ ہو گا۔ مزے کی بات یہ اس قسم کا جرمانہ نقد وصول کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ٹیکس نہ دینا پڑے اس واردات میں ایف بی آر کے اہلکار ڈویلپرز کے ساتھ مل کر قومی خزانہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر پرائیویٹ ڈویلپرز کا ریکارڈ چیک کیا جائے تو باآسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مد میں جمع ہونے والے پیسے پر تو صرف اربوں کا ٹیکس چوری کیا جا چکا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس امر کا گواہ ہوں کہ میرے ایک دوست نے لاہور کے ایک بہت مشہور ہاؤسنگ کالونی لیک سٹی میں پلاٹ 2014ء میں خریدے۔ ڈویلپر کا وعدہ تھا کہ 2017ء میں ان پلاٹوں کا قبضہ مل جائے گا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ اسی دوران میرے دوست کسی وجہ سے آخری دو اقساط بر وقت ادا نہ کر سکے۔ 2021ء میں انہیں پلاٹس کو بیچنے کی ضرورت پیش آئی۔ وہ دفتر گئے تو انہیں پتہ چلا کہ اقساط بروقت ادا نہ کرنے کے باعث فی پلاٹ چونتیس لاکھ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ جب انہوں نے استفسار کیا کہ پلاٹ کا قبضہ تو دے دیں تو جواب ملا کہ ابھی ترقیاتی کام مکمل نہ ہیں لہٰذا انتظار کریں لیکن جرمانہ فوری ادا کریں۔ پرائیویٹ ہاوسنگ کالونیز کے الاٹیز سے اس حوالے معلومات اکٹھی جائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کس قدر بڑا سکینڈل سامنے آئے گا۔

(3) پرائیویٹ ڈویلپرز ڈویلپمنٹ مکمل کئے بغیر ہی قبضہ دینے کا اعلان کر دیں گے۔ اس اعلان کی آڑ میں وہ اپنے صارفین سے غیر اعلانیہ اور ناجائز قبضہ چارجز کے نام پر فی پلاٹ لاکھوں روپے وصول کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ مثلاً بحریہ ٹاؤن نے 2020ء میں بحریہ آر چرڈ کے قبضہ کا اعلان کیا تو اپنے صارفین دس مرلہ کے پلاٹ کے لئے چار لاکھ پچاس ہزار ناجائز اور غیر قانونی طور پر وصول کئے۔ یہ چارجز اس لئے ناجائز اور غیرقانونی ہیں کہ پلاٹ بیچتے وقت بحریہ ٹاون کی انتظامیہ نے اپنے صارفین سے اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔

تمام ڈویلپرز اس مد میں بھی رقم نقد وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح نامکمل ترقیاتی کاموں کے باوجود صارفین سے پلاٹس کی دیکھ بھال اور صفائی و سیکیورٹی کے نام پر خریداروں سے ماہانہ ایک سے دو ہزار وصول کئے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان غیرقانونی چارجز کو دیر سے ادا کرنے پر بھی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ یہ فراڈ بھی منظوری دینے والے محکمہ کے بدعنوان ملازمین کی مدد سے کیا جاتا ہے۔

(4) ڈویلپرز کی اکثریت پلاٹ زیادہ بیچ دے، زمین مقدمہ بازی کا شکار ہو جائے یا ڈویلپر جان بوجھ کر مارکیٹ میں شور مچائے کہ فراڈ ہو گیا ان وجوہات کی بنا پر کوئی صارف خریدا ہوا پلاٹ ڈویلپر کو کسی بھی وجہ سے واپس کرے تو اس کی ادا شدہ رقم میں سے پچیس فیصد رقم کاٹ لی جائے گی۔ اس واپسی کا کسی قسم کا کوئی ریکارڈ نہ ہو گا اور ایف بی آر اہلکاروں کی مدد سے اس مد میں بھی اربوں کی ٹیکس چوری کے علاوہ عام شہری کی جمع پونجی لوٹنے کا بھی سلسلہ سرعام جاری ہے۔

(5) پرائیویٹ ڈویلپرز پلاٹس کے خریداروں کو بیوقوف بنانے کے لئے مختلف قسم کی سہولیات کا اعلان کرتے ہیں لیکن بعد ازفروخت پلاٹس ان سہولیات سے انکاری ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے ان پر کسی قسم کا چیک نہ ہے۔

(جاری ہے)

سیف الرحمن رانا لاہور میں مقیم سینئیر صحافی ہیں۔ وہ لاہور کے مختلف اردو اخباروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ان دنوں وہ یوٹیوب چینل ’دیکھو‘ سے وابستہ ہیں۔