دنیا

ایران میں مزدور بغاوت کے راستے پر: 1 سال میں 4,122 ہڑتالیں، مظاہرے

ہروز فراہانی

ایران میں آئینی طور پر واضح اجازت کے باوجود عراق کے ساتھ جنگ (1980-1988ء) کے بعد سے ملازمین کی ہڑتالیں اور مظاہرے سختی سے ممنوع ہیں۔ ان پابندیوں کے باوجود 1 مئی 2021ء سے 1 مئی 2022ء کے درمیان مزدوروں، اساتذہ، ٹاؤن ہال کے عملے، پنشنروں، ہسپتال کے عملے، کسانوں اور بیروزگار نوجوانوں وغیرہ کی طرف سے 4122 ہڑتالیں اور احتجاجی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ یہ بعض اوقات اساتذہ کی جدوجہد کے سلسلے میں درجنوں یا حتیٰ کہ سینکڑوں شہروں میں بیک وقت منظم کئے جانے والے قومی اقدامات تھے، جو اس حکومت کی 43 سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان جدوجہدوں کو منظم کرنے میں دسیوں ہزار کارکن شامل ہیں۔

تیل کے شعبے میں تاریخی ہڑتال

ماضی میں ہونے والی جدوجہد اجرت کی تاخیر سے ادائیگی، یا ورک یونٹس کی بندش کو روکنے پر مرکوز تھی۔ لیکن پچھلے سال مطالبات زیادہ اجرت، قوانین میں فراہم کردہ کیرئیر ڈویلپمنٹ کے اصولوں کا احترام، تنخواہوں اور پنشن کے ساتھ انڈیکسیشن، پنشن اور اجرت میں متوازی اضافہ اور یقینا ہڑتال کرنے اورآزاد انہ تنظیمیں بنانے کے حق جیسے مطالبات پر مشتمل تھے۔

ان ہڑتالوں میں اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال بھی تھی۔ تیل اور پیٹرو کیمیکل کے شعبے کے 1 لاکھ سے زیادہ کارکنوں نے جنوبی اور وسطی ایران کے 12 سے زیادہ محکموں میں ہڑتال کی۔ ہڑتال دو ماہ تک جاری رہی اور زیادہ تر مطالبات تسلیم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوئی۔ پچھلے سال کے مقابلے میں اساتذہ کے اندر موبلائزیشن میں تقریباً 115 فیصد کا اضافہ اس دور کا حیران کن رجحان ہے۔ ریٹائر ہونے والے اساتذہ نے باقاعدہ قومی تقریبات کا بھی اہتمام کیا ہے۔

پانی کے بحران اور خشک سالی سے زراعت اور یہاں تک کہ پینے کے پانی کی فراہمی کو بھی خطرہ ہے۔ بنیادی مصنوعات کی ”حقیقی قیمتوں“ کو لاگو کرنے کے حکومت کے انتہائی نیو لبرل فیصلے کے بعد بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے مزید مشکلات پیدا کر دیں۔

درجنوں شہروں میں کئی احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جن میں ریاست کی سب سے طاقت ور شخصیت کے خلاف ”آیت اللہ خامنہ ای مردہ باد“ تک کھلے عام سیاسی اور باغیانہ نعرے لگائے گئے۔ ان مظاہروں میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ تحریکیں صنعتی کمپلیکس، جیسے ہیپکو اسٹیل پلانٹ اور ہفت تاپہہ شوگر ریفائنری، تعلیم کے ساتھ ساتھ ریٹائر ہونے والے افرادکو متاثر کرتی ہے۔

بھوک ہڑتال

تحریکوں میں شامل مختلف شعبوں کے مزدوروں کے درمیان بڑھتی ہوئی یکجہتی کے ساتھ ساتھ ان کے مابین ہم آہنگی کے آغاز نے حکومت کو خوفزدہ کر رکھا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ محنت کشوں نے تنظیم اور اجتماعی شعور کی ایک خاص حد کو ابھی عبور کر لیا ہے۔ حکام نے مسابقتی سکیورٹی فورسز پر مبنی جبر اور نگرانی کا ایک انتہائی جدید نظام قائم کیا ہے۔ فورسز نے مظاہرین کو منظم اور موبلائز کرنے والے معروف منتظمین کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود ایرانی حکام نے محسوس کیا ہے کہ مظاہروں اور مظاہرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

چونکہ معروف کارکنوں کی گرفتاریوں اور یا انتباہات کا کوئی اثر نہیں ہوا، حکام نے جبر اور وحشیانہ کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ دو فرانسیسی ٹریڈ یونین اسٹوں سیسیلے کوہلر اور جیک پیرس کے سیاحتی سفر اور ایرانی ٹریڈ یونین کی معروف شخصیات سے ملاقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی حکام نے 10 سے زیادہ ایرانی ٹریڈ یونین رہنماوں کو ”ایک غیر ملکی طاقت کے ساتھ ملی بھگت سے حکومت اور اسلام کیخلاف پروپیگنڈہ اور سازش“ کے الزام میں گرفتار کیا۔ دونوں فرانسیسی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا اور ان پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا۔

گرفتار ہونے والوں میں سے کچھ بھوک ہڑتال پر چلے گئے، فوری طور پر پہلے سے قید دیگر قیدی بھی اس بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے، جنہوں نے ”یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال“ شروع کی۔ تادم تحریر بھوک ہڑتال کرنے والوں کی کل تعداد 61 ہے، جو ایرانی جیلوں میں ایک بے مثال واقعہ ہے۔ دنیا بھر سے قید کارکنوں کی حمایت میں احتجاجی بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ”ایرانی مزدوروں کے دفاع کے لیے فرانسیسی ٹریڈ یونینوں کے اتحاد“ نے جنیوا کی دو ٹریڈ یونین ڈھانچوں اور ایرانی تارکین وطن کے تعاون سے 10 جون کو جنیوا میں ’ILO‘ کے صدر دفتر کے سامنے ایک ریلی کا اہتمام کیا۔

معاشی، سماجی، سیاسی، ماحولیاتی اور حتیٰ کہ اخلاقی بحران (ریاستی اہلکاروں کی طرف سے عوامی پیسے کی چوری کے انکشافات) نازک سطح پر پہنچ چکا ہے، جو عوام اور حکومت کے درمیان کھلے عام تصادم کا باعث بن سکتا ہے۔