پاکستان

ٹی ٹی پی سے مذاکرات نا منطور

پرویز امیر علی ہود بھائی

ایک پارلیمانی کمیٹی نے فوجی قیادت کو تحریک ِطالبان پاکستان سے مذاکرات کی اجازت دی ہے۔ اس تنظیم کے ہاتھ ہزاروں پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ذمہ داری سے جان چھڑانے کی اس بزدلانہ اور شرمناک مثال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ محض ایک ربر سٹمپ پارلیمنٹ ہے جسے صرف ا پنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کرنا مقصود ہے۔

فوج اور دہشت گرد گروہوں میں براہ راست مذاکرات کوئی نئی بات نہیں مگر ماضی میں ان مذاکرات کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

مئی 2004ء میں جنوبی وزیرستان کے قبائلی جنگجو رہنما نیک محمد کے ساتھ شکئی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور املاک پر حملے بند کر دئے جائیں گے۔ بدلے میں ریاست نے معاوضہ ادا کرنے اور قیدی رہا کرنے کا وعدہ کیا۔ جنگجوؤں سے ہتھیار ڈالنے کی بابت کوئی بات نہیں کی گئی۔

شکئی معاہدہ کل پچاس دن چلا۔ معاہدے کے چند دن بعد ہی نیک محمد نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں اعلان کیا کہ کوئی معاہدے بھی انہیں چیچن جنگجووں اور القاعدہ کے ارکان کی میزبانی سے نہیں روک سکتا۔ چیچن جنگجو اور القاعدہ ان دنوں پاکستان کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔ دہشت گر دکاروائیاں پھر سے شروع ہو گئیں۔ 18 جون 2004ء کو نیک محمد کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت ہو گئی۔ پاکستانی سر زمین پر یہ پہلا امریکی ڈرون حملہ تھا۔

سوات کے صوفی محمد کے ساتھ ہونے والے ناکام معاہدے سمیت اگر پچھلے بیس سال میں ہونے والے معاہدوں کی پوری فہرست پیش کرنے کے لئے کافی سیاہی ضائع کرنا پڑے گی البتہ ستمبر 2006ء میں طالبان کے گڑھ، میران شاہ، میں جو معاہدہ ہوا تھا وہ یادگار ہے۔ اس موقع پر لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا تھا کہ فوجی افسر،اُن طالبان کو، جوش و خروش سے گلے مل رہے ہیں جن کے خلاف وہ چار سال سے بر سر پیکار تھے جبکہ بھاری اسلحے سے لیس با ریش جنگجو ان مصافحوں کو خونی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔

صوبہ سرحد کے اس وقت کے گورنر، لیفٹنٹ جنرل علی محمد اورکزئی، نے اس معاہدے کو ’قبائلی تاریخ کا منفرد معاہدہ‘ قرار دیا۔ اس معاہدے میں البتہ طالبان سے یہ مطالبہ نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے بھاری ہتھیار ڈال دیں۔ اس معاہدے میں فقط یہ سہولت حاصل کی گئی کہ فوجی جوانوں کو نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ آج ہم با آسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس معاہدے کی وجہ سے 40 ہزار مزید جانیں گئیں اور جنگجو سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی۔

آج ہم سب جانتے ہیں کہ آخر کار کس طرح دہشت گردی میں کمی آئی اور برے بھلے امن کا نسبتاً طویل دور کیسے دیکھنا نصیب ہوا۔ آپریشن ضرب عضب (2014ء) ٹی ٹی پی اور اس کے مہمان مجاہدین پر بھر پور حملہ تھا۔ آرٹلری کے استعمال اور فضائی حملوں کے نتیجے میں انہیں وزیرستان کے مفتوحہ دیہاتوں سے نکال باہر کیا گیا۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے نتیجے میں 90 ہزار خاندان بے گھر ہو گئے۔ اگر طاقت کا استعمال کرنے میں اتنی تاخیر نہ برتی جاتی تو ضمنی نقصان اتنا زیادہ نہ ہوتا۔

اس کے باوجود جو کامیابی حاصل ہوئی وہ جزوی کامیابی ثابت ہوئی لہذٰا آپریشن ردالفساد (2017ء) کرنا پڑا۔ اس آپریشن کا نام سوچ سمجھ کر رکھا گیا۔ ردالفساد کا مطلب ہے اندرونی دشمنوں کا قلع قمع کرنا۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے پاکستانی جس دھوکے میں رہ رہے تھے، اس آپریشن کی وجہ سے اس دھوکے سے باہر آ گئے۔ جنرل حمید گل اور اُن کے ممدوح عمران خان نے قوم کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ دہشت گردی کے پیچھے ’بیرونی ہاتھ‘ ہے۔ ان دونوں کا دعویٰ تھا کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو نہیں مار سکتا۔

ان دونوں کا یہ دعویٰ جھوٹ کا ایک بڑا پلندہ تھا۔ جب بھی کسی ناکام خود کش حملہ آور کو پکڑاگیا تو وہ نہ ہی ہندو ہوتا نہ ہی ان میں سے کوئی یہودی نکلا۔ عمران خان نے دہشت گردوں کے حق میں جھوٹ ہی نہیں گھڑے، انہیں عزت و احترام بھی دیا۔ 2013ء میں آل سینٹس چرچ پشاور پر حملے کے بعد عمران خان نے مطالبہ کیا کہ طالبان کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے تا کہ ان سے مذاکرات ہو سکیں۔ ٹھیک ایک سال بعد ٹی ٹی پی نے آرمی پبلک سکول میں 148 افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا۔

واقعات نے بار بار ثابت کیا ہے کہ طالبان صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔ اس سبق کو پھر سے بالائے طاق رکھا جا رہا ہے۔ بے شمار فوجی افسروں اور جوانوں کی زندگیاں گنوا کر ضرب عضب اور ردالفساد کی صورت میں ہونے والی کامیابیوں پر پانی پھیرا جا رہا ہے۔ فوجی قیادت کی ایک نئی نسل پھر سے طالبان کو خوش کرنے کی بے کار حکمت عملی پر گامزن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی تاریخ بھلا دی گئی ہے۔

مجھے حال ہی میں اپنے ایک خوفزدہ سابق طالب علم کا تکلیف دہ خط موصول ہوا ہے۔ یہ طالب علم شمالی وزیرستان میں اپنے گاؤں ایدک سے فرار پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس گاوں کی امن کمیٹی کے ہر رکن، بشمول گاؤں کے امام مسجد قاری سمیع الدین اور ان کے بیٹے قاری نعمان، کو پہلے مشکوک افراد کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں پھر جان سے مار دیا گیا۔ اس نوعیت کا تازہ ترین واقعہ 13 جولائی کو پیش آیا جب ایک کاروباری شخصیت، مرتضیٰ، کو ہلاک کیا گیا۔ افسوس کے لئے اگر کسی سیاستدان نے اس گاؤں کا دورہ کیا تو وہ ایم این اے محسن داوڑ تھے جبکہ ان کے ساتھی علی وزیر جیل میں ہیں۔

ایدک میں ہونے والے واقعات دس پندرہ سال پہلے ہونے والے ان واقعات کی بازگشت ہے جو اُس زمانے میں پورے قبائلی اضلاع میں ہورہے تھے۔ اس بار البتہ دہشت گردی کو فوجی طریقے سے شکست دینا پہلے سے کہیں مشکل ثابت ہو گا۔

پہلی بات، پاکستان کے بعض عقل مند لوگوں نے زبردست تگ و دو کے بعد اپنی مرضی کی حکومت کابل میں قائم کرائی ہے۔ایک سال بعد، اس کامیابی کا ثمر البتہ ٹی ٹی پی کو مل رہا ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے اس پار، ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے خلاف افغانستان کی طالبان سرکار نے زبردست احتجاج کیا۔ افغان طالبان کا احتجاج غنی حکومت کے شکوے شکایتوں سے کہیں زیادہ سخت تھا۔

دوم، ایک دہائی قبل پاکستانی معیشیت کو’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ اور مغرب سے ملنے والی دیگر امدادی پیکجز کی بیساکھیاں میسر تھیں۔ افغانستان سے امریکی رخصتی کے بعد یہ امداد بند ہو چکی ہے۔ ادہر، سی پیک نامی گیم چینجر والا خواب ابھی شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ افراط ِزر اور سیاسی بحران دہشت گردی کے فروغ کے لئے زرخیز زمین ثابت ہوں گے۔

تیسرا اور بدترین مسئلہ ہے نظریاتی مسئلہ۔ ٹی ٹی پی کا مطالبہ ہے کہ سابق فاٹا کے اضلاع کی نہ صرف جون 2018ء سے پہلے والی حیثیت بحال کی جائے، کہ جب وہاں حکومت کا مکمل اختیار نہیں تھا، بلکہ وہاں شریعت بھی لاگو کی جائے۔ مگر اپنے قیام کے 75 سال بعد بھی ریاست پاکستان کا شریعت بارے بیانیہ الجھن اور تضادات کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگوں کو ریاست مدینہ کا نظریہ اچھا لگتا ہے لیکن یہ بغیر شریعت کے قابل عمل نہیں۔ جب تک نظریاتی الجھن دور نہیں ہوتی، پاکستان خطرات سے دو چار رہے گا۔

ذرا حسن ابدال کیڈٹ کالج کے کیڈٹ کی حالت زار کا اندازہ لگائیں۔ بے چارہ دوران تعلیم پوری لگن کے ساتھ مطالعہ پاکستان سیکھتا ہے۔ جب وہ کرنل یا برگیڈئیر بنتا ہے تو اسے سوات یا وزیرستان میں تعینات کر دیا جاتا ہے جہاں اسے شریعت لاگو کرنے کے متمنی مجاہدین کے خلاف فوجی کاروائیوں کا حکم دیا جاتا ہے۔ کیا یہ کیڈٹ دلیل کے ساتھ شریعت نافذ کرنے والوں کو قائل کر سکتا ہے؟ یا ان کے خلاف بندوق اور ہیلی کاپٹر کے ساتھ بھرپور جنگ میں اتر سکتا ہے؟ اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں اپنے سکولوں اور کیڈٹ کالجز میں کیا پڑھانا ہے۔

ٹی ٹی پی کے مطالبات ماننے کا مطلب ہے پاکستان موت کو گلے لگا رہا ہے۔ اگر ٹی ٹی پی سابق فاٹا میں کامیاب ہو گئی تو ڈیرہ اسمٰعیل خان اور ٹانک یا دیر اور سوات پہنچنے میں اسے کتنی دیر لگے گی؟ جنگل کی آگ کی طرح، انتہا پسندی باقی پاکستان کو بھی کھا جائے گی۔ پاکستان مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اے اراکین پارلیمان! قبل اس کے کہ تمہاری کوئی وقعت باقی نہ رہے، جاگو!

اے افواج پاکستان! باقی سب کام چھوڑ کراپنا فرض نبھاؤ اور پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کرو۔

ہم تمہیں سیلوٹ کریں گے۔

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔