خبریں/تبصرے

دوسروں کی زمینیں ہتھیا کر مولانا 33 ایکڑ سے 18 مربعے کے مالک بن گئے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) معروف عالم دین مولانا طارق جمیل سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وہ دوسروں کی زمینیں ہتھیاکر 18 مربعے زمینوں کے مالک بن گئے ہیں۔ ٹیب سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت دیگر متعدد سکینڈلز میں ان کے اور ان کے بیٹوں، بھتیجوں کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

یہ انکشافات سے بھرپور الزامات صحافی اسد علی طور نے اپنے ایک ’وی لاگ‘ میں مولانا پر عائد کئے ہیں۔ اپنے وی لاگ میں انکا کہنا تھا کہ انہیں یہ تمام معلومات مولانا کے اپنے گاؤں، خاندان کے لوگوں اور متاثرین نے فراہم کی ہیں۔ انہوں نے مولانا طارق جمیل کے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے سابق خاتون اؤل بشریٰ بی بی اور ان کے دوست فرح بی بی تک پر مشتمل زمینیں ہتھیانے والے گروہ کے ساتھ تعلقات سمیت دیگر متعدد انکشافات پر مبنی معلومات اور ثبوتوں کے دستیاب ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ ثبوت جلد ایک سیریز کی صورت میں لوگوں کے سامنے رکھے جائیں گے۔

اسد طور کے مطابق مولانا طارق جمیل ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کی بستی رئیس آباد کے رہائشی ہیں، یہ علاقہ تھانہ تلمبا کی حدود میں آتا ہے اور اس بستی کا نام مولانا طارق جمیل کے چچا زاد بھائی رئیس اقبال کے نام پر رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق مولانا کے تین بیٹے یوسف جمیل، عاصم جمیل اور علی جمیل، ان کے بھتیجے عارفین اور زین العابدین ان کے زمینیں ہتھیانے کے کام میں بھی ملوث رہے ہیں۔ یہ سارا کام وہ مولانا طارق جمیل اور ان کے بھائی ڈاکٹر طاہر کمال کی سرپرستی میں کیا جا رہا ہے۔

مولانا طارق جمیل اور ان کے بھائی کو وراثت میں 33 ایکڑ رقبہ ملا تھا، جو ڈیڑھ مربع بنتا ہے۔ تاہم اب خریداری کے نام پر مقامی لوگوں سے زمینیں ہتھیا کر وہ، انکے بیٹے، بھائی اور بھتیجے 18 مربعے اراضی کے مالک بن چکے ہیں۔ اسد طور کے مطابق مولانا اور ان کے بھائی اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے مقامی لوگوں کو انتہائی سستے داموں یہ زمینیں فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جو کوئی بھی زمین بیچنا چاہتا ہے، پٹواری سے لیکر محکمہ مال کے اعلیٰ عہدیداران تک اسے اراضی منتقل کرنے کیلئے فرد انتخاب سمیت دیگر کاغذات ہی نہیں دیتے، بجائے اپنا کام کرنے کے محکمہ مال کے اہلکاران اسکی معلومات مولانا کے خاندان تک پہنچاتے ہیں، جو زمین بیچنے کے خواہش مند کو انتہائی معمولی رقم ادا کر کے زمین ہتھیا لیتے ہیں اور طے شدہ رقم بھی پوری ادا نہیں کرتے۔

انہوں نے مولانا کے طوائفوں کو سیدھے راستے پر لگانے اور ان کے ماہانہ اخراجات اٹھانے کے مبینہ دعوے کو بھی جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف چند خوبصورت طوائفوں کو ماہانہ خرچ دیتے ہیں، جس کے عوض وہ بھاری چندہ بھی اکٹھا کرتے ہیں، جبکہ تلمبا کے بازار حسن کی دیگر طوائفوں کو وہ رقوم نہیں ملتیں، جنہیں رقوم ملتی ہیں، وہ بھی مولانا کی خدمت گزاری پر مامور ہیں۔

اسد طور کے مطابق بے شمار جرائم اور طاقت کے ناجائز استعمال کے باوجود کسی ایک بھی معاملہ پر مولانا کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو سکا، طاقت کے مراکز سے ان کے تعلقات ان کی علاقائی طاقت اور جاہ و جلال کے قیام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔