پاکستان

شکار پور: امداد شہروں تک محدود، گوٹھ بیماری، بھوک و لاچاری کے مسکن

حارث قدیر

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شکار پور کے سیکڑوں دیہات سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار اور ابھی تک کسی بھی نوعیت کی سرکاری امداد و دیکھ بھال سے محروم ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے جانے والے امدادی سامان کا رخ بھی محض شہروں تک موجود ہے، جس کی وجہ سے دیہاتوں میں رہنے والے کسان اور ہاری بھوک، بیماریوں اور لاچاری میں کسی مدد کے منتظر ہیں۔

ضلع شکار پور کی چاروں تحصیلوں کے تمام دیہات سیلابی اور بارشوں کے پانی کی وجہ سے کئی روز تک زیر آب رہے۔ اب دیہاتوں سے پانی تو اتر چکا ہے، تاہم کھیتوں میں پانی اب بھی مختلف جھیلوں کی شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہر دیہات میں درجنوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جو مکانات بچے ہیں وہ بھی زیر آب رہنے کی وجہ سے انتہائی خستہ حال ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت کسی حادثے کا موجب بن سکتے ہیں۔

چاول اور کپاس کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، کیلے اور کھجور کی پیداوار بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ فصلوں کی بربادی سے کسانوں اور ہاریوں کا محض مالی نقصان ہی نہیں ہوا ہے، بلکہ اگلے 6 ماہ تک انہیں زندہ رہنے کیلئے خوراک کا حصول ناممکن نظر آ رہا ہے۔ اکثریتی دیہاتوں میں بجلی گزشتہ 7 سے 15 سال پہلے سے منقطع ہے۔ دن کے اوقات میں سولر پینل موبائل چارج کرنے اور پنکھا چلانے کے کام آتے ہیں، جبکہ رات کو گھروں میں گدھے کو اس طریقے سے رات بھر چلایا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے سے کپڑوں کا ایک دیسی پنکھا گھومتا رہے اور مکین مچھروں سے محفوظ نیند حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔

تاحد نگاہ پھیلے کھیتوں میں کھڑا پانی شدید گرمی میں گرم ہو کر ابلے ہوئے پانی کی شکل اختیار کر جاتا ہے، جس سے گرمی کی شدت اور حبس میں بے تحاشہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ کھڑے پانی سے بدبو کے بھبھوکے پوری فضا کو آلودہ کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مختلف طرح کے بیماریوں نے دیہاتیوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ تاحد نگاہ کھڑے پانی پر سے مچھر غولوں کی شکل میں دیہاتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

متاثرہ دیہاتوں کے مکینوں کے مکانات کی تعمیر تو درکنار دو وقت کی روٹی کیلئے راشن بھی میسر نہیں ہے۔ اوپر سے ملیریا، ڈینگی، گیسٹرو اوردیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ یوں یہ دیہاتی اگر بھوک سے بچے تو بیماریوں سے مرنا ناگزیر ہے۔ اس پر خوف یہ ہے کہ اگر کھیتوں سے پانی نا اترا تو اگلی فصل بھی کاشت نہیں ہو سکے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو زندہ رہنے کی آخری امید بھی دم توڑ جائے گی۔

تحصیل لکھی غلام شاہ کے ایک گوٹھ دائم ملک کے رہائشی یاسین کا کہنا ہے کہ ’پہلے تو دیہات میں پہنچنے کا راستہ ہی موجود نہیں تھا۔ اب دو ہفتے ہو گئے ہیں، دیہات تک رسائی تو ممکن ہو گئی ہے، لیکن کوئی حکومتی یا غیر سرکاری امداد اس دیہات تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ امداد تو دور کی بات ہے، مچھر مار سپرے بھی نہیں کیا جا سکا۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’حکومت کی طرف سے ہمیں کسی دوسرے سیارے کے باسی سمجھا جا رہا ہے۔ این جی اوز اور شہریوں کی طرف سے جو امداد آتی ہے وہ سکھر شہر یا شکار پور شہر میں ٹرک خالی کر کے واپس چلے جاتے ہیں، جو لوگ دیہات چھوڑ کر شہروں میں سڑک کنارے رکے ہوئے ہیں ان تک کسی حد تک امداد پہنچ پائی ہے۔ البتہ اکثریتی کسان اور ہاری دیہات چھوڑنے پر تیار نہیں تھے، کیونکہ انہیں گھر بار اور اراضی چھن جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ گھر بھی چھوڑ نہیں سکتے اور امداد کیلئے پکارنے کے باوجود کوئی ہماری طرف توجہ نہیں دے رہا ہے۔ ایسے ہی حالات رہے تو چند روز بعد دیہاتوں سے لاشیں اٹھیں گی۔‘

گوٹھ عامل کے رہائشی زبیر کا کہنا ہے کہ ’مکانات ٹوٹے ہوئے ہیں، جو سیلاب میں گرنے سے بچ بھی گئے وہ کچی مٹی کے ساتھ اینٹیں جوڑ کر تعمیر ہونے کی وجہ سے اب مکمل طور پر ناقابل رہائش ہو چکے ہیں۔ یہ مکانات کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔ سیلاب متاثرین کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 25 ہزار روپے فی خاندان ادا کئے جانے کے اعلانات کئے جا رہے ہیں، ابھی تک ہمارے گاؤں میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے، جسے یہ رقم ملی ہو۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’چاول کی فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ہم 6 ماہ بعد فصل اتارتے ہیں، فروخت کرنے کے بعد دکانداروں کے قرض ادا کرتے ہیں، پھر اگلے 6 ماہ تک ہمیں راشن ادھار پر ملتا رہتا ہے۔ اس بار فصل تباہ ہو چکی ہے، دکانداروں نے قرض ادا نہ ہونے کی وجہ سے راشن دینا بند کر دیا ہے۔ اگلی فصل کیلئے بیج اور کھاد وغیرہ کی رقوم بھی نہیں ہیں، نہ ہی پانی اتر رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے پاس زندہ رہنے کا کوئی وسیلہ باقی نہیں رہا ہے۔‘

علاقے کے ایک زمیندار احسن خان مہر کا کہنا ہے کہ ’ان دیہاتوں میں اکثریت ہاریوں کی ہے، جو زمیندار کی زمینوں پر 50 فیصد کے حصہ پر کاشت کرتے ہیں۔ ان کی اراضی بھی ان کے نام پر نہیں ہوتی، اس لئے یہ دیہات خالی کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوتے۔ فصل تیار ہونے پر تمام اخراجات جو زمیندار نے ادا کئے ہوتے ہیں، وہ نکالنے کے بعد باقی فصل کو نصف کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر یہ تناصب 30 اور 70 جبکہ کچھ جگہوں پر 40 اور 60 فیصد بھی ہے۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’ان دیہاتوں میں کچھ دیہات ایسے ہیں، جہاں چھوٹے کسان آباد ہیں، وہ کچے کے علاقے ہیں، جنہیں عموماً ’نوگو ایریاز‘بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں ان چھوٹے کسانوں کے پاس دو دو یا چار چار ایکڑ زمینیں ہیں، جو ان کے نام پر بھی نہیں ہیں، اس لئے انہیں ان زمینوں پر بزور طاقت ہی اپنا قبضہ برقرار رکھنا پڑا ہے۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’یہ علاقہ ایک طویل عرصہ سے حکومتیں مسلسل نظر انداز کرتی آرہی ہیں۔ اس سنگین آفت کے دوران بھی حکومت کی عدم توجہی دیہاتیوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ کوئی اس جانب توجہ نہیں دے رہا ہے۔ اکثر علاقوں میں ریاست کی رٹ بھی موجود نہیں ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ’ان علاقوں کو عموماً خطرناک سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے یہاں غیر سرکاری تنظیمیں بھی امداد کرنے کیلئے جانے سے کتراتی ہیں۔ ایک حکومت ہی ان علاقوں کے رہنے والوں کا آسرا بن سکتی ہے، لیکن سندھ حکومت یا وفاقی حکومت شاید یہ کرنا نہیں چاہتی۔ این جی اوز شہروں میں آسان اہداف دیکھ کر اپنا امدادی سامان تقسیم کر جاتی ہیں۔ خیمہ بستیاں بھی شہروں میں بنائی گئی ہیں۔‘

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’کسانوں اور ہاریوں کو ہونے والے نقصانات کے ازالہ کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔ راشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جائیں اور دیہاتیوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے مچھر مار سپرے اور طبی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے، تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے ان دیہاتوں کے باسیوں کو بچایا جا سکے۔‘

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔