خبریں/تبصرے

ایران: 7 روزہ مظاہروں میں 26 ہلاک، حکومت نواز مظاہرے بھی شروع

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد ایک ہفتے سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 26 مظاہرین اور سکیورٹی فورسز اہلکاران ہلاک ہو چکے ہیں۔ جمعہ کے روز حکومت نے اپنے حامیوں کی احتجاجی ریلیوں کا انعقاد بھی کروایا ہے۔

’عرب نیوز‘ کے مطابق جمعہ کے روز دارالحکومت تہران میں چند ہزار افراد نے ایک ریلی میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ایرانی پرچم لہرائے اور دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے مظاہرے منعقد کئے گئے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت کے حامی مظاہرین نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔ حکومت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی حمایت کے یہ مظاہرے بے ساختہ تھے۔ تاہم مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرکاری سطح پر مساجد کا استعمال کرتے ہوئے حکومت کی حمایت میں مظاہروں کا انعقاد کروایا، تاکہ حکومت مخالف مظاہروں کا زور توڑنے کی کوشش کی جا سکے۔

حکومت مخالف مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین 2019ء کے بعد کی شدید ترین سیاسی بدامنی میں کئی بڑے شہروں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ 2019ء میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق مظاہروں میں اب تک 26 مظاہرین اور پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ حکام اس تعداد تک کیسے پہنچے۔

سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار بعد میں جاری کئے جائیں گے، تاہم ماضی میں بھی سرکاری حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی مکمل تعداد اور تفصیل فراہم نہیں کی۔

دوسری طرف ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ پولیس کی حراست میں خاتون کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران مغرب پر مہسا امینی کی موت پر تشویش کا اظہار کرنے کیلئے منافقت کا الزام لگایا۔