خبریں/تبصرے

پوتن مشکل میں: جنگ مخالف مظاہروں میں اضافہ، ہزاروں ملک سے فرار

لاہور (جدوجہد رپورٹ) روس میں جنگ مخالف مظاہروں میں اضافے ہوا ہے، جبکہ ہزاروں افراد فوج میں شامل ہونے سے بچنے کیلئے روس سے فرار ہو رہے ہیں۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق روس میں جنگ مخالف مظاہرے اس وقت بھڑک رہے ہیں، جب صدر ولادیمیرپوتن نے مسلح افواج میں 3 لاکھ فوجیوں کو شامل کرنے کیلئے جزوی ملٹری موبلائزیشن کا اعلان کیا ہے۔ جنگ مخالف مظاہروں میں 1300 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ممتاز حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین کو فوج میں اندراج کرنے کا بھاری جیل کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

میموریل ہیومن رائٹس سنٹر کی سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینا ڈوبروولسکایا کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ جو بغیر کسی فوجی تجربے کے تیار کئے گئے ہیں ان کی کہانیاں شائع کر رہے ہیں، ہزاروں افراد جبری بھرتی ہونے سے بچنے کیلئے روس سے فرار ہو گئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ’لوگ اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

صدر پیوٹن کے اعلان کے بعدشہریوں کے تیزی سے ملک چھوڑنے کی وجہ سے فضائی ٹکٹوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

’رائٹرز‘ کے مطابق ماسکو سے استنبول تک کا ایک سائیڈ کا ٹکٹ 9 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ سب سے سستا ٹکٹ اس وقت دبئی کا ہے، جس کی قیمت ایک سائیڈ کی 5 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اکانومی کلاس کے فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ روس میں پہلی مرتبہ دیکھا جا رہا ہے۔