نقطہ نظر

’انقلاب ایران کے بعد اتنی بڑی بغاوت پھوٹی ہے‘

فاروق سلہریا، حارث قدیر

شعلے ایرانی کا کہنا ہے: ”اگر ہم ایران میں اس بنیاد پرست تھیوکریٹک حکومت کا تختہ الٹ دیں تو پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ یہ پورے خطے کو بدل دے گا اور بہتری کی امید پیدا ہو گی، لہٰذا ایرانیوں کی جدوجہد آزادی کو ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے کے تحت دیکھیں۔ ہمارے خطے کی خواتین نے ترکی، لبنان، سوڈان، عراق وغیرہ میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے ملکوں کی حقوق نسواں تحریک کیلئے ضروری ہے کہ ایران کی خواتین اپنی جدوجہد میں کامیاب ہوں۔ لہٰذا سب تحریک میں شامل ہوں“۔

شعلے ایرانی سٹاک ہولم میں مقیم صحافی، دانشور اور سیاسی کارکن ہیں۔ وہ اسی کی دہائی میں جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں۔ جلا وطنی سے قبل وہ ایران کی سوشلسٹ تحریک میں متحرک تھیں۔ وہ فارسی زبان میں شائع ہونے والے عالمی جریدے ’نوائے زن‘ کی مدیر بھی ہیں۔ روزنامہ ’جدوجہد ‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے ایران کے اندر پھوٹنے والی حالیہ بغاوت پر بات چیت کی جس کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔

بدقسمتی سے ایران میں حراستی قتل یا پولیس کی زیادتیوں کے واقعات عام ہیں لیکن مہسا امینی کے معاملے نے بغاوت کو کیوں جنم دیا؟

شعلے ایرانی: یہ شاید آخری تنکا تھا جس نے اونٹ کی کمر توڑ دی۔ جیسا کہ تیونس میں ہوا تھا، ایک نوجوان نے خود سوزی کی، اس نے عرب بہار کو جنم دیا۔ 22 سالہ مہسا امینی کا تعلق کردستان کے چھوٹے شہر ساگیز سے تھا۔ وہ اور ان کا خاندان تہران آئے تھے اور انہیں اخلاقی پولیس نے گرفتار کر لیا اور سڑک پر مارا پیٹا۔ مہسا کے بھائی نے انہیں بتایا بھی کہ ہم یہاں کے نہیں ہیں، اسے چھوڑ دو…وہ گھبرا گئی تھی۔ عینی شاہدین نے کہا کہ مہسا کے حجاب میں درحقیقت کچھ بھی غلط نہیں تھا اور اخلاقی پولیس نے انہیں چھوڑا نہیں، وہ بعد میں ہسپتال میں شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔ دراصل کرد شہروں سے ہی احتجاج شروع ہوا اور پورا ایران ان کے پیچھے چل پڑا۔

میڈیا کے بعض حصوں اور سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے موجودہ بغاوت کو، شاید سبز انقلاب کے بعد سب سے بڑا اور ایک فیمینسٹ انقلاب قرار دیا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سبز انقلاب اور 2019ء کے مقابلے میں اس بغاوت میں خواتین کی شرکت زیادہ ہے؟

شعلے ایرانی: یقینی طور پر ہم نے 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران میں اتنا وسیع اور متحد احتجاج کبھی نہیں دیکھا۔ ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسے غصے اور غیض و غضب کا مظاہرہ نہیں دیکھا۔ یہ کم و بیش نوجوانوں کا انقلاب ہے، جس میں نوجوان خواتین احتجاج کی قیادت کر رہی ہیں۔ مڈل کلاس، محنت کش طبقہ اور نسلی گروہ، سب اس احتجاج میں شامل ہیں اور یہ آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ تحریک بہت خودروہے، لیکن ایران تقریباً 12 سالوں میں ایک اور عوامی تحریک کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پچھلی دو تحریکوں کے دوران تشکیل پانے والے کچھ نیٹ ورک دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں؟ یا، کیا آپ کو لگتا ہے کہ موجودہ تحرک کے نتیجے میں کچھ نیٹ ورک ابھریں گے،جو جدوجہد کو مربوط اور منظم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے فٹ بال کے ہیرو علی کریمی یا فلم میکر اصغر فرہادی کو تحریک کی حمایت میں آتے دیکھا ہے۔ اس کی علامتی اہمیت شاید صرف بین الاقوامی سطح پر ہے۔ کیا مزید ٹھوس واقعات ہیں، خاص طور پر اعلیٰ سطح پر آیت اللہ حضرات کے درمیان کوئی دراڑیں، یا ایسے کچھ واقعات جن کے بارے میں آپ ہمیں بتاسکیں، جو بحران کی عکاسی کرتے ہیں؟

شعلے ایرانی: محنت کش طبقے کی تحریک کی تقریباً تمام سرکردہ شخصیات، یونین رہنما جیل میں ہیں اور کچھ حالیہ برسوں کی ہڑتالوں اور مظاہروں میں مارے گئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور وبائی امراض اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلبہ کی تحریکیں قدرے کمزور پڑ گئی ہیں۔ تاہم وہ خودمختار یونینوں، جیسے اساتذہکی یونین، بس ڈرائیوروں کی یونین…عام ہڑتال کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کردستان میں بایاں بازو مضبوط ہے اور وہ تحریک اور احتجاج کو طاقت دے رہے ہیں۔ حتمی طور پر یہ ان کا نعرہ ہے جو ہر کوئی لگا رہا ہے کہ ’عورت، زندگی، آزادی‘۔

تاہم جیسے آپ نے بھی ذکر کیا ہے، مزید نیٹ ورک ابھر رہے ہیں۔ یقینا خواتین اپنی تنظیموں اور نیٹ ورکس کو دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بلاشبہ دائیں اور انتہائی دہائیں بازو کی قوتیں جو شاہ پرستوں کی حمایت کرتی ہیں، یہ قوتیں یورپ اور دیگر جگہوں پر بین الاقوامی فار رائٹ کی حمایت کے ساتھ بائیں بازو کا مقابلہ کرنے کیلئے متحرک ہو رہی ہیں اور ہم بیرون ملک یہ زیادہ واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے پاس مالی وسائل اور بڑا میڈیا ہے اور وہ بیانیہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سیاسی اقتدار کیلئے جدوجہد کامعاملہ ہے، بلاشبہ ایرانی حکومت ان قوتوں کے ساتھ کھیلنے اور حزب اختلاف کے درمیان خلیج بڑھانے کیلئے پوری کوشش کر رہی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بہت سے لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تحریک سابقہ تحریکوں کے مقابلے میں حکومت کیلئے ممکنہ طور پر زیادہ خطرہ ہے۔

یہ حکومت آج جتنی کمزور اور بدحواس ہے، اتنی کبھی نہیں ہوئی۔ ایران سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی ہیں جو سڑک پر نوجوان مظاہرین سے بھاگ رہے ہیں۔ احتجاج صرف سڑکوں پر نہیں ہو رہا، بہت سے فنکاروں، کھلاڑیوں اور خواتین نے کھلے عام بیانات دیئے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اب اس حکومت کیلئے کام نہیں کرینگے۔

سپورٹس سٹارز نے نوجوانوں اور یہاں تک کہ سینما اور ٹی وی فنکاروں کو موبلائز کرنے میں متحرک کردار ادا کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ حکومت کے اپنے حامیوں میں سے بہت سے لوگ کھل کر بات کر رہے ہیں اور حکومت کے اقدامات خاص طور پر خاتین اور نوجوانوں کی ہلاکتوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے بھی کہا کہ ان بڑے ناموں کی علامتی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔

ایران کے باہر سے کس قسم کے یکجہتی کے کام کی ضرورت ہے؟

شعلے ایرانی: ایران کے باہر آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ اگر ہم ایران میں اس بنیادپرست تھیوکریٹک حکومت کا تختہ الٹ دیں تو پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔ یہ پورے خطے کو بدل دے گا اور بہتری کی امید پیدا ہو گی، لہٰذا ایرانیوں کی جدوجہد آزادی کو ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے کے تحت دیکھیں۔ ہمارے خطے کی خواتین نے ترکی، لبنان، سوڈان، عراق وغیرہ میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمارے ملکوں کی حقوق نسواں تحریک کیلئے ضروری ہے کہ ایران کی خواتین اپنی جدوجہد میں کامیاب ہوں۔ لہٰذا سب تحریک میں شامل ہوں۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔