دنیا

پاکستان کھپے، سندھ نہ کھپے!

سید فیاض حسن

کہا جاتا ہے کہ 1970ء میں بھولا نامی سائیکلون نے سابق مشرقی پاکستان میں آزادی کی جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ اس سمندری طوفان میں 30 ملین لوگ بے گھر ہوئے، ہزاروں نے اپنی جانیں گنوائیں اور لا تعداد لوگ کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار چھوڑ دئے گئے۔

بنگالیوں کے کان یہ سن سن کر پک چکے تھے کہ ریاست ان کے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے لیکن ریاست ان کی امداد کو نہیں آئی۔ در اصل ریاست اس وقت مغربی پاکستان کے طاقتور حکمرانوں کے زیر اثر تھی جن کی اکثریت پنجابی اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھی مگر شایداس وقت ان کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔

باون برس بعد آج بھی پاکستان کی صورت حا ل کچھ مختلف نہیں۔ اس بار سندھ اور بلوچستان کے عوام شدید بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہیں۔ 32 ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، کئی ملین ایکڑ کے قریب زمین زیر آب ہے، خاندان کے خاندان تباہ اور ان کا ذریعہ معاش ختم ہو چکا ہے، سڑتے ہوئے پانی میں مہلک بیماریاں جنم لے رہی ہیں مگر امید کے بادل دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔

کچھ لوگ بنگال اور سندھ کی قدرتی آفات میں حیرت انگیز مماثلت دیکھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بار بھی پنجاب کی ترجیحات کچھ اور ہیں جہاں ایک اور ہی سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ رینجرز اور فوجی جنہیں اس وقت لوگو ں کی مدد کرنا چاہیے تھی، لانگ مارچ کی دھمکیوں کے بعد دارالحکومت کی حفاظت پر مامور ہیں۔ قلعہ بندیاں شروع ہو چکی ہیں ہتھیار صیقل ہو رہے ہیں جب کہ سندھ اور بلوچستان کے بے یار و مددگار عوام سیلابی ریلوں میں ڈوبتے جا رہے ہیں۔

بادی النظر میں ریاست کا پیغام ”سند ھ نہ کھپے“ ہی دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کی ترجیحات تو یہی نظر آتی ہیں کہ قومی ذرائع صرف پنجاب یا دیگر منصوبوں میں استعمال کئے جائیں۔ سندھ کے سنگین مسائل کی طرف کسی کی نظرنہیں جارہی۔

کچھ ہی عرصہ ہوا سندھ کے وزیراعلی کو صرف اس لئے تنقیدکا نشانہ بنایا جارہا تھاکہ وہ کووڈ کی پیشگی تیاریاں کر رہے تھے جو بعد میں سندھ سے شروع ہوکر پنجاب بھرمیں پھیل گیا۔ کراچی میں لاک ڈاؤن کی مخالفت بھی پورے شد و مد کے ساتھ جاری رہی کہ اس سے تجارتی سرگرمیوں اور ملکی ذرائع آمدنی میں فرق پڑ سکتا تھا۔ نتیجے کے طور پر کووڈ کی قومی پالیسی کا اس وقت تک نام ونشان تک نہیں تھا جب تک یہ وبا پنجاب تک نہ پہنچ گئی۔

سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں اور صوبے کے 35 ملین متاثرہ لوگوں کی آبادکاری کا کوئی منصوبہ سامنے نہیں ہے۔ ادھر پنجاب میں روز مرہ کی زندگی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ لاہور اور اسلام آباد کی اشرافیہ کے درمیان ”تخت لاہور“ کی جنگ کا تماشہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔ ”گیم آف تھرون“ کی کہانی مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، اسلام آباد پر پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی فوجوں کی چڑھائی کا ڈرامہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پربڑے زور شور سے جاری ہے۔ جہاں اس پائے کی تفریح لوگوں کی توجہ کا مرکز ہو وہاں چھوٹے صوبوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں میں گھرے ہزاروں لوگوں کی فریاد کون سنے گا؟

دوسری طرف سیاسی جماعتوں کی بے حسی بھی دیدنی ہے۔ لوگوں نے یہ خبر بھی سنی کہ خان صاحب نے ایک ٹرک کا امدادی سامان بیس ٹرکوں میں بھر کر سیلاب زدہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کی اور اس طرح شاید مشرقی پاکستان کی یادیں تازہ ہو گئیں جہاں بنگالیوں کوہر قسم کی ذلت کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا۔

جہاں عمران خان سیلاب کے نام پر فنڈ اکٹھا کر کے اسے سیاسی جلسوں پر خرچ کر رہے ہیں وہیں حکومت کو عالمی برادری سے فنڈنگ وصول کرنے کا نادر موقع بھی ہاتھ آ گیا ہے۔ نیا سیلاب حکومت کے لئے ایک نیا کشکول لے کر آیا ہے جس سے سب اہل دل فیض یاب ہونے کے لئے بیتاب ہیں۔ حکومت بیرونی قرضوں کو موخر کرنے کی اپیلیں کر رہی ہے جس کا تعلق کسی طرح بھی سیلاب سے نظر نہیں آتا۔ جب ریاستی اداروں کے لئے 6000 سی سی کاریں درامد کی جا رہی ہوں اور 450 ملین ڈالرز کی بھاری قیمت ادا کر کے ’F16‘ لڑاکا طیاروں کے پرزہ جات خریدے جا رہے ہوں تو سندھ کے آفت زدہ لوگ کس شمار میں ہوں گے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ اگر فنڈنگ کی اپیلوں میں سیلاب زدہ لوگوں کی امداد کے منصوبوں کا زکر نہیں تو انہیں کسی طرح بھی ریلیف فنڈنگ کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ لوگ تو یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ سندھ کو پنجاب میں دست و گریبان سیاسی رہنماؤں کے لئے قربانی کا بکرا بنانا کہاں تک درست ہے۔

2007ء میں سندھ کی لیڈرشپ نے اپنی ہر دل عزیز لیڈر کے قتل پر ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر سندھیوں کی حب الوطنی کا ثبوت دیا تھا۔ اس کے برعکس آج اسلام آباد سے ”سندھ نہ کھپے“ کاپیغام دیا جا رہا ہے۔ 1970ء کے سائیکلون نے بنگلہ دیش کے قیام کی ابتدا کی تھی مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج ہم ایک اور صوبے کو اسی راہ کی جانب نہیں دھکیل رہے؟

سید فیاض حسن پاکستانی نژاد امریکی ماہر اقتصادیات ہیں اور ایک بین الاقوامی بینک میں نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی اور مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے اور معروف غیر سرکاری تنظیم ’ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ‘ کے بانیوں میں سے ہیں۔ ان کے نزدیک معاشی ترقی کا عمل غربت کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔