دنیا

ایران: ملا آمریت کو للکارتا ’عورت انقلاب‘

حارث قدیر

ایران میں 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی، جس کا اصل نام جینا تھا (ایران میں کرد ناموں پر پابندی ہے)، کے حراستی قتل کے بعد ابھرنے والی بغاوت ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ مہسا امینی ایرانی کردستان کے قصبے ساقیز کی رہائشی تھیں اور اپنے خاندان کے ساتھ ایرانی دارالحکومت تہران میں موجود تھیں، جہاں 13 ستمبر 2022ء کو انہیں ’اخلاقی پولیس‘ نے نافذ قوانین کے مطابق حجاب نہ پہننے کے الزام میں حراست میں لیا۔ دوران ِحراست تشدد سے وہ قومہ میں چلی گئیں اور تین روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد ہلاک ہو گئیں۔

انکے جسد خاکی کو آبائی قصبہ ساقیز میں لے جایا گیا، آخری رسومات کے دوران حجاب قوانین کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ یہ احتجاج ابتدائی طور پر کرد علاقوں میں پھیلا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گیا۔ حجاب کے خلاف نفرت کا اظہار کرتی خواتین کی ہر اول شرکت کے ساتھ یہ احتجاج ایرانی سماج کی تمام تر پرتوں تک پھیل چکا ہے۔ صنفی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے سے کہیں آگے ایرانی ملا اشرافیہ کی حاکمیت کے خاتمے اور معاشی و سماجی انصاف کے نعرے اس تحریک کے مقبول نعرے بن چکے ہیں۔ ’زن، زندگی، آزادی‘، ’مرگ بر خمینی‘ (خمینی مردہ باد)، ’مرگ بر دیکتاتور‘ (آمریت مردہ باد)، ’مرگ بر اسلامی جمہوریہ‘ (اسلامی جمہوریہ مردہ باد) جیسے نعرے اس تحریک میں مقبول ہیں۔

محنت کش طبقے کی وسیع تر پرتیں اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد اس تحریک کا حصہ ہے، مجموعی طور پر ہر عمر، ہر لسانی و نسلی گروہ اور ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد و زن، نوجوان و بزرگ اس تحریک میں شامل ہیں۔ تاہم خواتین اس تحریک میں ہر اول اور لڑاکا کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس انقلاب کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سکولوں کی طالبات ایرانی حاکمیت کو چیلنج کرتے ہوئے سڑکوں پر مارچ کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ جامعات میں اساتذہ اور طلبہ ہڑتالیں کر رہے ہیں، مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کی ٹریڈ یونینوں کے اتحاد کی کال پر گزشتہ ماہ کے آخری ہفتہ میں بھرپور ہڑتال کی گئی۔

ایرانی حکومت نے پاسداران انقلاب سمیت دیگر سکیورٹی فورسز کو احتجاج کے ساتھ سختی سے نمٹنے کیلئے احکامات تو جاری کئے تاہم ابھی تک اس احتجاجی لہر کو قابو کرنے میں ایرانی حکومت کامیاب ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز کے بدترین تشدد، آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج، فائرنگ اور گرفتاریوں کے باوجود یہ تحریک بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس وقت تک محتاط اندازے کے غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 133 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ سینکڑوں خواتین، ٹریڈ یونین لیڈر اور دیگر مظاہرین گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ گرفتار رہنماؤں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری ٹیلی ویژن پر معافی منگوانے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا ہر جابرانہ اقدام احتجاج میں نئی جوش و جذبے کی نئی روح پھونک رہا ہے۔

حجاب قوانین کا نفاذ اورعورتوں پر جبر

مہسا امینی کا یہ قتل عورتوں کے خلاف تشدد اور جبر کا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ حجاب اور عورتوں کے لباس سے متعلق سخت گیر جابرانہ قوانین 1979ء میں انقلاب کی ناکامی کی صورت اقتدار پر قابض ہونے والی ملا اشرافیہ کی جانب سے متعارف کروائے گئے تھے۔ تاہم بڑے پیمانے پر خواتین کے احتجاج کے بعد ان قوانین کو اس طرح سے نافذ نہیں کیا گیا تھا، جنہیں بتدریج نافذ کیا جاتا رہا۔ سابق جج اور آیت اللہ خامنہ ای رجیم کے قریبی قدامت پرست ساتھی، بطور جج 6000 سے زائد سیاسی کارکنوں، جن میں اکثریت کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی تھی، کو موت کی سزا دینے والے ابراہیم رئیسی نے اقتدار میں آنے کے بعد عورتوں کے خلاف ان رجعتی قوانین کو مزید سخت گیر طریقے سے نافذ کیا اور کچھ نئے قوانین بھی متعارف کروائے گئے۔ حجاب کے بغیر تصویربنوانے والی خواتین کو ملازمت سے برطرف کئے جانے، اخلاقی پولیس کے ذریعے گرفتاری، تشدد اور سزاؤں کو متعارف کروایا گیا۔ متعدد ایسے واقعات سامنے آئے جن میں اخلاقی پولیس نے حجاب کی پابندی نہ کرنے والی خواتین کو گرفتار کر کے نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ سرکاری ٹی وی پر لاکر حجاب قوانین کی پابندی کرنے کا حلف لینے اور غلطی کی معافی مانگنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے۔

خواتین پروالد، بھائی یا خاوند کے علاوہ کسی مرد کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔ 13 سال کی بچیوں کے ساتھ شادی قانونی ہے۔ اسی طرح کے بے شمار قوانین ہیں جو خواتین کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے اور غیر انسانی حالات پر زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مہسا امینی کی شہادت چنگاری بن گئی

مہسا امینی کی زیر حراست ہلاکت نے ایران میں دہائیوں سے پنپتے معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی جبر کے خلاف نفرت کو بھڑکانے میں عمل انگیز کا کردار ادا کیا ہے۔ معاشی بدحالیوں، تنخواہوں میں کٹوتیوں سمیت دیگر سماجی اخراجات میں کٹوتیوں کی وجہ سے بدحالی کا شکار ایرانی محنت کشوں کی تحریکیں اور ہڑتالیں ابھرتی رہی ہیں، جنہیں ریاستی جبر و تشدد کے ساتھ کچلا جاتا رہا ہے۔ تاہم مہسا امینی کی ہلاکت نے پورے سماج کو ’متحد ہیں تو جیتیں گے‘ کے نعرے کے گرد مجتمع کر دیا ہے۔

8 کروڑ 40 لاکھ نفوس پر مشتمل ایرانی آبادی کا 60 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں بیروزگاری کی شرح 12 فیصد ہے، جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 40 فیصد سے زائد ہے۔ افراط زر 52 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے۔ ایرانی محنت کش غربت، لاعلاجی، بھوک اور پست سماجی حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکمران ملا اشرافیہ لوٹ مار اور دولت کے انبار لگانے کیلئے ریاستی جبر اور تشدد کی تمام حدیں پار کر رہی ہے۔

34 فیصد ایرانی شہری کم از کم بنیادی خوراک کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ 50 فیصد سے زائد آبادی ایسی ہے جو خوراک میں گوشت اور دودھ کا استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ دوسری طرف ایران کی 60 فیصد ملکی دولت پر صرف 300 افراد کا قبضہ ہے۔ 70 فیصد معیشت ریاستی ملکیت میں ہونے کے باوجود ایرانی شہریوں کو خوراک، علاج، رہائش اور تعلیم جیسی سہولیات دینے کی بجائے نام نہاد سامراج دشمنی کے نام پر ملا اشرافیہ کی کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ مار کا شکار ہو رہی ہے۔

سامراج دشمنی اور مذہب کی خدمات کے دعویدار آیت اللہ علی خامنہ ای 200 ارب ڈالر کی مالیاتی ایمپائر چلاتے ہیں اور اعلانیہ طور پر 93 ارب ڈالر کے ذاتی اثاثوں کے مالک ہیں۔ خفیہ طور پر جمع کی گئی دولت کے تخمینے اس سے کہیں زیادہ لگائے جا رہے ہیں۔ حکمران ملا اشرافیہ اور گارڈین کونسل کے اراکین کی جانب سے بیش بہا دولت بیرون ملک منتقل کئے جانے اور سوئس اکاؤنٹوں میں جمع کروائے جانے کے الزامات بھی زبان زد عام ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں ایک کروڑ بچے ’چائلڈ لیبر‘ پر مجبور ہیں، جنکی اکثریت انتہائی جابرانہ مشقت کر رہی ہے۔ بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، بے گھر ایرانی خالی قبروں میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری جانب حکومتی اراکین ان مسائل سے بے پرواہ اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔

ملا اشرافیہ کے اس ننگے جبر اور لوٹ مار کے خلاف پکنے والا لاوا مہسا امینی کی زیر حراست ہلاکت کے ساتھ ہی ایک دھماکے کی صورت پھٹ چکا ہے۔

یہ سرکشی نہیں انقلاب ہے

معروف مارکس وادی امریکی جریدے جیکوبن نے لکھا کہ ’یہ اس قسم کی بغاوت نہیں ہے، جو ہر سال ہوتی ہے، اس بار اس میں انقلاب کی خصوصیات ہیں۔‘

43 سالوں میں یہ پہلی مرتبہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی بغاوت ہے۔ اس احتجاج میں کردستان سے عرب اکثریتی جنوب مشرق تک اور فارسی، آذری اور دیگر قومیتوں کی بھرپور شمولیت موجود ہے۔ اس تحریک میں غریب، مزدور اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ شامل ہیں۔ اس تحریک میں کسی خاص شعبے کے مسائل کے حل کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ لوگ آزادی اور عدم مساوات کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابھی تک یہ تحریک کسی بھی قسم کی تنظیم یا پارٹی کے کنٹرول سے باہر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس تحریک پر اپنا رنگ ڈالنے میں سبھی مصروف ہیں۔ بائیں بازو کی تنظیموں اور گروہوں سمیت دائیں بازو کے انتہا پسند اور شاہ پرستوں تک کی مداخلت موجود ہے۔ تاہم ابھی تک جو نعرے اس تحریک میں مقبول ہیں وہ کرد بائیں بازو کی تنظیموں کی طرف سے دیئے گئے نعرے ہی ہیں۔

سامراجی مداخلت اور ملا اشرافیہ کی سامراج مخالفت

امریکہ اور دیگر سامراجی ملکوں کی جانب سے ایران میں بغاوت کو خوب اچھالنے اور اپنا رنگ چڑھانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ جلاوطن ایرانی اپوزیشن کے متعدد گروہ مظاہرین کے ساتھ تعلق کا دعویٰ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رضا شاہ پہلوی کے صاحبزادے سے لیکر ’مجاہدین خلق‘جیسے گروہ اور نمایاں امریکی صحافی علی نژاد تک اس تحریک کی قیادت کا دعویٰ کرتے ہوئے مغربی سامراجیوں کے مقاصد کی تکمیل کرنے میں مصروف ہیں۔ مغربی میڈیا بھی انہی عناصر کو نمایاں کرتے ہوئے ایرانی ملائیت کے خلاف فوجی اور سفارتی کشیدگی کو جواز فراہم کرنا چاہتا ہے۔

جس طرح ایرانی ملااشرافیہ ایران کے محنت کشوں کے معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی قتل عام میں ملوث ہے، اسی طرح امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کے معاشی پابندیوں کا براہ راست نشانہ بھی ایرانی محنت کش بن رہے ہیں۔ ایرانی ملائیت ان پابندیوں کو حب الوطنی، سامراج دشمنی اور ملکی سالمیت کو خطرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نہ صرف معاشی، سیاس و سماجی جبر کو تیز کر رہی ہے بلکہ علاقائی سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے ایرانی محنت کشوں کی تخلیق کی گئی دولت کو استعمال کرتے ہوئے پورے مشرق وسطیٰ میں تذویراتی مہم جوئی میں مصروف ہے۔

نام نہاد سامراج دشمنی اور معاشی پابندیوں کے پس پردہ خفیہ مذاکرات اور معاہدوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔ ایرانی حکمرانوں کی دولت بھی انہی مغربی ملکوں میں منتقل ہو رہی ہے۔

سامراجی ایما پر ہونے والی بین الاقوامی یکجہتی دوسرے لفظوں میں سامراجی پروپیگنڈے کا اشتراک ہے۔ جسے ملائیت کے خلاف لبرل ازم کی لڑائی کے طورپر پیش کر کے تحریک کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ تحریک ایران میں ملائیت کی حاکمیت کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے معیشت کے کلیدی ذرائع کو جمہوری قبضے میں لینے کی طرف جاتی ہے تو پھر سامراجی نظام کیلئے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔ مزید برآں یکجہتی ہمیشہ ان مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئے کی جاتی ہے، جن پر احتجاج کیا جا رہا ہو۔

ایرانی نژاد اداکارہ اور بائیں بازو کی کارکن پراندے کے مطابق ’ایران اور افغانستان کے تناظر میں حجاب قوانین کے خلاف احتجاج کے ساتھ یکجہتی کیلئے منی اسکرٹ پہن کر یا ننگے جسموں کی نمائش اس احتجاج کے مطالبات کو محدود کرنے اور اس کے خلاف سازش کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ایسا کرنے سے عوام کی اذیتیں صرف کپڑے کے ٹکڑے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں، جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اس احتجاج کا مطلب اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘

تحریک کا مستقبل

ایران میں چار دہائیوں سے ملائیت کا جبر جن انتہاؤں تک پہنچ چکا ہے، اس نے مجموعی طور پر سماج کو خوف پر فتح حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بندوقوں اور سنگینوں کے سامنے بے خوفی سے ملائیت کو چیلنج کرنا اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ یہ ملائیت کا جبر اور وحشت اب اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔

جس طرح بالا سطور میں بارہا اظہار کیا جا چکا ہے کہ اس تحریک کی کوئی واضح قیادت موجود نہیں ہے۔ تاہم محنت کش طبقے کی وسیع تر پرتوں کی شمولیت، نوجوانوں اور خواتین کی ہر اؤل شرکت ایرانی حاکمیت کو ہلا کر رکھ چکی ہے۔ تحریک کا زور یہ واضح کر رہا ہے کہ ماضی کے تجربات کے ذریعے سے اس تحریک کو جبر سے کچلا جانا آسان نہیں رہا ہے۔ اگر اتنا آسان ہوتا تو ستمبر کے تیسرے ہفتے میں سکیورٹی فورسز کو احتجاج کچلنے کے دیئے گئے احکامات پر اس وقت تک بہت بڑے پیمانے پر قتل عام کر کے اس تحریک کو کچلا جا چکا ہوتا۔

ابھی تک ہلاکتوں کی زیادہ تعداد بلوچ یا کرد علاقوں میں ہے جو 86 سے زائد بتائی جا رہی ہے (جو شائد اصل سے بہت کم ہے)۔ عراق کے کرد علاقوں پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ تحریک کی شدت، حدت اور پھیلاؤ اس قدر ہے کہ بڑے پیمانے پر تشدد کے ذریعے سے اسے کچلا جانا ممکن نہیں رہا ہے۔ انقلابی قوتوں کی عدم موجودگی میں یہ تحریک فوری طور پر شاید کوئی واضح نتائج بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو پائے۔ البتہ ملائیت کو حجاب قوانین سے دستبردار ہونا پڑے گا، اس کے علاوہ دیگر مطالبات کو منظور کر کے اس تحریک کو وقتی طو رپر ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بغاوت اب رکنے والی نہیں ہے، اگر کچھ عرصہ کیلئے اس میں ٹھہراؤ آیا بھی تو نئی اٹھان اس سے بھی زیادہ گہری اورتوانا ہو گی۔ جو طوفان اب ایران میں پنپ چکے ہیں ان کا کم از کم آخری پڑاؤ ملائیت کی آمریت کے خاتمے پر ہی منتج ہو گا۔

تحریک کے دوران جس قدر ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کو بے توقیر کر دیا گیا ہے، اب ان کے پاس اس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی رہ نہیں گیا، نہ ہی اقتدار کو جاری رکھنے کا وہ حوصلہ باقی رہے گا۔ جبر اور تشدد کے ذریعے سے اس اقتدار کو اب زیادہ دیر جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ ایرانی محنت کشوں کو یہ حوصلہ، یہ جرات اور یہ امید پیدا ہو چکی ہے کہ ملائیت کو نہ صرف چیلنج کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے اکھاڑ کر اقتدار سے باہر پھینکنا بھی ممکن ہے۔

ایران میں بائیں بازو کی قوتوں کی بڑے پیمانے پر عدم موجودگی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کی تنظیموں، انقلابی تنظیمیں اور قیادتوں کو ایرانی محنت کشوں کی اس تحریک کے ساتھ نہ صرف بھرپور طریقے سے یکجہتی کرنا ہو گی بلکہ جلا وطن ایرانی بائیں بازو کے رہنماؤں کو واضح انقلابی متبادل کو ایرانی محنت کشوں تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملائیت کے جبر کے خاتمے اور محض سرمایہ دارانہ جمہوریت کے ذریعے سے ایرانی محنت کشوں کا مقدر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ گو ملا اشرافیہ کی آمریت کا خاتمے ایرانی سماج میں انتہائی آگے کا قدم ہوگا اور محنت کش طبقے کو آگے بڑھنے کا حوصلہ اور جرات فراہم کرے گا۔ تاہم ایرانی محنت کش طبقے کی نجات کی حتمی منزل کبھی بھی جمہوریت کی بحالی کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ ایران میں محنت کش طبقے کی فتح اس خطے میں نئے انقلابی طوفانوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔