مارکسی تعلیم

انسان کا مستقبل

لیون ٹراٹسکی

ترجمہ: عمران کامیانہ

نومبر 1932ء (کوپن ہیگن) میں انقلابِ روس پر تقریر کے اختتامی کلمات: مترجم

فطرت اور ریاست کے درمیان معیشت حائل ہوتی ہے۔ تکنیکی سائنس نے انسان کو آگ، پانی، مٹی، ہوا جیسے قدیم عناصر کے جبر سے تو نجات دلائی ہے لیکن اسے خود انسان کے جبر کے تابع کر دیا ہے۔ انسان فطرت کا غلام تو نہیں رہا لیکن مشین کا غلام بن گیا۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کے طلب اور رسد (منڈی) کا غلام ہو گیا۔ موجودہ عالمی بحران المناک انداز میں واضح کرتا ہے کہ انسان، جو سمندر کی تہوں میں غوطہ زن ہے، جو فضا کی بالا ترین پرتوں میں اڑ رہا ہے، جو غیرمرعی شعاعوں کے ذریعے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں بات کر رہا ہے…فطرت پہ بڑے تکبر اور بے باکی سے حکمرانی کرنے والا یہی انسان ابھی تک اپنی ہی معیشت کی اندھی قوتوں کا غلام ہے۔ ہمارے عہد کا تاریخی فریضہ یہی ہے کہ منڈی کے بے قابو کھیل کو معقول منصوبہ بندی کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔ پیداواری قوتوں کو نظم و ضبط میں لایا جائے۔ انہیں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنے اور فرمانبرداری کے ساتھ نسل انسان کی ضروریات کی تکمیل پر مجبور کیا جائے۔ صرف ان نئی سماجی بنیادوں پر ہی انسان اپنے تھکے ماندہ ہاتھوں پیروں کو پھیلانے اور لچکانے کے قابل ہو گا اور پوری قوت سے فہم و ادراک کی سلطنت کا شہری بن سکے گا۔ اور میں یہاں کچھ مراعت یافتہ انسانوں کی نہیں بلکہ ہر مرد و عورت کی بات کر رہا ہوں۔

لیکن یہ بھی ابھی سفر کا اختتام نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو شروعات ہے۔ انسان خود کو اشرف ا لمخلوقات کہتا ہے۔ اسے یہ کہنے کا حق بھی حاصل ہے۔ لیکن یہ کس نے کہا کہ آج کا انسان‘ نوعِ انسان (ہومو سیپینز) کا آخری اور اعلیٰ ترین نمائندہ ہے؟ بالکل نہیں! نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی انسان ابھی بہت نامکمل ہے۔ وہ حیاتیاتی طور پر قبل از وقت (پری میچور) پیدا ہوتا ہے۔ اس کا ادراک کمزور ہے۔ اور وہ ابھی تک نامیاتی طور پر متوازن نہیں ہوا ہے۔ یہ درست ہے کہ انسانیت نے ایک سے زیادہ مرتبہ فکر و عمل کے معاملے میں انتہائی غیرمعمولی انسان پیدا کیے ہیں۔ جو اپنے ہم عصر لوگوں سے ویسے ہی ممتاز تھے جیسے پہاڑوں کے سلسلے میں کوئی بلند و بالا چوٹی ہوتی ہے۔ انسانیت کو اپنے ارسطو، شیکسپیئر، ڈارون، بیتھوون، گوئٹے، مارکس، ایڈیسن اور لینن پر فخر کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن یہ لوگ اتنے تھوڑے اور نایاب کیوں ہیں؟ سب سے بڑھ کر کم و بیش یہ سارے بالائی یا درمیانے طبقات سے ہی آئے ہیں۔ کیونکہ دانائی اور ذہانت کی چنگاریوں کو شعلوں میں بدلنے سے قبل ہی انسانوں کی مخفی گہرائیوں میں دبا دیا جاتا ہے۔ ان کا دم گھوٹ دیا جاتا ہے۔ ایسا اس لئے بھی ہے کہ انسان کی تخلیق، تعمیر اور تعلیم کے عوامل تک رسائی قسمت والوں کو ہی میسر آتی ہے۔ ان عوامل کو نظرئیے اور عمل کی روشنی سے کبھی منور نہیں کیا گیا۔ نہ شعور اور ارادے کے ماتحت کیا گیا۔

انتھروپولوجی، بائیولوجی، فزیالوجی اور سائیکولوجی نے ایسے مواد کے انباز لگا دئیے ہیں جو انسانیت کے سامنے جسم اور روح کی ترقی و تکمیل کے فرائض کو پوری طرح عیاں کرتا ہے۔ سائیکو انالسس میں سگمنڈ فرائیڈ کے متاثر کن کام نے اس کنویں کا ڈھکن اٹھا دیا ہے جسے شاعرانہ طور پر ”روح“ کہا جاتا ہے۔ اور ہمیں کیا باتیں پتا چلی ہیں؟ ہماری شعوری سوچ‘ سیاہ نفسیاتی قوتوں کے عمل کا بہت چھوٹا سا حصہ ہے۔ ماہر تیراک سمندر کی تہہ تک جا کے عجیب و غریب مچھلیوں کی تصاویر لیتے ہیں۔ انسانی سوچ کو بھی اپنے نفسیاتی ماخذوں کی تہہ تک پہنچ کے روح کی محرکانہ قوتوں پر روشنی ڈالنی ہو گی اور انہیں منطق اور ارادے کے تابع کرنا ہو گا۔

اپنے معاشرے میں انتشار کی قوتوں پر قابو پانے کے بعد انسان اپنی ذات پہ کام شروع کرے گا۔ بالکل جیسے کوئی کیمیا دان اپنی لیبارٹری میں مختلف اوزاروں سے تجربے کرتا ہے۔ پہلی مرتبہ انسانیت اپنے آپ کو ایک خام مال سمجھے گی۔ یا زیادہ سے زیادہ ایک نیم مکمل جسمانی و نفسیاتی چیز۔ سوشلزم کا مطلب اس حوالے سے بھی ضرورت کی دنیا سے آزادی کی دنیا تک کی جست ہو گا کہ آج کا انسان اپنے تمام تضادات اور بے ہنگم پن کے ساتھ ایک نئی اور زیادہ خوشحال نوع تک کا راستہ ہموار کرے گا۔