خبریں/تبصرے

کشمیری طلبہ کا مستقبل ہندوستان کی فاشسٹ سیاست کی نذر

مجیب اکبر

22 اپریل کو ہندوستان کے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن اور آل انڈیا ٹیکنیکل کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ ”کوئی بھی ہندوستانی شہری جس نے پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لیا ہے وہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم یا کسی بھی ملازمت کا اہل نہیں ہو گا۔“

یاد رہے 2019ء میں ہندوستانی یونیورسٹی گرانٹ کمیشن نے بھی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے اندر زیر تعلیم طلبہ کے خلاف بھی ایسا ایک حکم نامہ جاری کیا تھا۔ 2020ء میں میڈیکل کونسل آف انڈیا نے طلبہ کو متنبہ کیا کہ وہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ لیں۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پورا جموں و کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے لیکن جو ادارے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ہیں وہ انڈین میڈیکل کونسل ایکٹ 1956ء کے تحت رجسٹر نہیں ہیں اس لیے ان کی کوئی بھی ڈگری ہندوستان میں ویلڈ نہیں ہے۔ تاہم اس علامیہ میں پاکستان کے کسی ادراے کو شامل نہیں کیا گیا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے تینوں میڈیکل کالجز (آزاد جموں و کشمیر میڈیکل کالج مظفر آباد، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور اور پونچھ میڈیکل کالج راولاکوٹ) میں کم از کم 6 فیصد سیٹیں ہندوستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے طلبہ کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے میڈیکل کالجز میں مشرف دور میں 100 سیٹیں ہندوستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے لیے مختص کی گئی تھیں۔ اسی طرح سارک(SAARC) کے کوٹہ کے تحت بھی کچھ سیٹیں پاکستان میں ہندوستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے طلبہ کو دی جاتی ہیں۔

اس وقت پاکستان کے مختلف اداروں میں کم از کم 500 طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں سے کم از کم 100 طلبہ اس سال اپنی گریجویشن مکمل کر لیں گے۔ اسی طرح وہ طلبہ جو سال ہا سال پاکستان سے گریجویشن مکمل کرتے ہیں انکی ڈگریاں ہندوستان میں اب قابل استعمال نہیں ہیں۔

کشمیر کے وہ طلبہ جو ہندوستان میں میڈیکل کے اخراجات جو 50 سے 60 لاکھ تک ہیں ادا نہیں کر سکتے ان کے لیے پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں سکالر شپس ایسا موقع تھا جو ان کے مستقبل کو محفوظ کرتا تھا۔

اگست 2019ء کے بعد جب ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تو اسکے بعد سے کشمیری طلبہ مشکلات کا شکار ہیں۔

شروع میں اس سے سخت انوسٹیگیشن شروع کی گئی۔ بارڈر سے کراس کرتے ہوئے اور خصوصاً واپسی پر اس سے سخت سوالات پوچھے جاتے رہے جو ان کے سیاسی نظریات کشمیر کے مستقبل اور یونیورسٹی کے شیڈول کے متعلق تھے مگر اگست 2019ء کے بعد جب کشمیر میں کرفیو لگا تو جو طلبہ پاکستان میں تھے مسلسل 3 سے 4 ماہ ان کے خاندان سے رابطے منقطع رہے اور پھر آنے جانے کے مسائل کی وجہ سے یہاں تعلیم جاری رکھنا شدید مشکل ہو گیا جس کی وجہ سے کئی طلبہ کے ایک یا دو سال ضائع ہوئے۔

پاکستان میں زیر تعلیم طلبہ میں سے کم از کم 70 سے 80 فیصد تعداد فی میل طالبات کی ہے۔ جیسا کہ جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کراچی میں 40 کشمیری طلبہ میں سے 25 طالبات ہیں اسی طرح فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور میں 60 میں سے 40 طالبات ہیں۔ یہ وہ طالبات ہیں جو مشکل حالات میں اپنے گھر سے دور تعلیم حاصل کرنے صرف اس لیے آئی ہیں کہ یا تو انہیں سو فیصد سکالر شپ ملی ہے یا ہندوستان کے کسی تعلیمی ادارے کی نسبت یہاں اخراجات کم ہیں۔

ہندوستان کا یہ رویہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ کشمیری طلبہ سے دشمنی پر مبنی ہے۔ ہندوستان وہ واحد ملک ہو گا جو سیاسی تنازعات کی وجہ سے کسی دوسرے ملک میں زیر تعلیم اپنے نیشنیلٹی ہولڈر طلبہ کی ڈگریوں کو قبول نہیں کرے گا۔ اسی طرح ہندوستان یونائیٹد نیشن ایجوکیشنل، سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ عالمی میڈیا اس کو ہندوستان کی کشمیر پر کمروز ہوتی گرفت کی وجہ قرار دے رہا ہے جبکہ پاکستان اور کشمیر میں اس کی مودی کی مسلم دشمنی اور فاشزم کا اثر سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری طرف ہندوستان کے انٹیلی جنس اداروں نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی اور سٹیٹ انوسٹیگیشن ایجنسی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے 17 طلبہ نے عسکریت کا راستہ اپنایا ہے اور پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم مختلف عسکریت پسندی اور منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں۔ جبکہ دوسرے ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی میڈیکل کالج میں زیر تعلیم کسی طالب علم نے ہتھیار نہیں اٹھائے جنہوں نے سٹوڈنٹس ویزہ پر آ کر پھر عسکریت میں شمولیت اختیار کی ان میں سے کوئی بھی کسی ادارے کا ریگولر طالب علم نہیں تھا۔

ہندوستان کے سکیورٹی اداروں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں دی جانے والی سکالر شپس حکومت خود طالب علموں کو نہیں دیتے بلکہ یہ سکالر شپس آل پارٹیز حریت کانفرنس کو دی جاتی ہیں جو ان مسلح تنظیموں کا مجموعہ ہے جو نوے کی دہائی میں ہندوستان کے خلاف کشمیر میں مسلح کاروائیوں میں ملوث تھا۔ ہندوستان پچھلے کچھ عرصہ میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کچھ رہنماؤں کے نام کے ساتھ انکشاف کیا کہ یہ لوگ میڈیکل کی سیٹس پر یہاں سے نوجوانوں کو ریکروٹ کر کے پاکستان میں عسکری تربیت کے لیے منتقل کرتے ہیں اور ساتھ یہ میڈیکل کی سیٹس کو بیچ کر فنڈ اکھٹا کرتے ہیں۔

اسی طرح ہندوستان کے یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس حکم نامے کا مقصد یہ تھا کہ طلبہ مستقبل کا فیصلے کرنے میں احتیاط سے کام لیں اور معیاری تعلیم کو چنیں نہ کہ سستی تعلیم کو اور ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ یوکرائن اور چائنہ میں ہنگامی حالات میں طالب علموں کے پھنسے کے بعد لیا گیا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کی اس سیاسی چپقلش میں کشمیر کے ان طلبہ کا مستقبل سیاہ ہے جو یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں۔ ہندوستان کے اس اقدام سے نہ صرف کشمیری طلبہ کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہوئے ہیں بلکہ اس خطے کے طالب علموں پر ایک منفی اثر پڑا ہے۔ بٹوارے کے رستے زخموں نے اس خطے میں زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، نفرتوں کے دھندے میں عام لوگ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں دونوں ممالک غریب، لا علاج، بے روزگاری، ناخواندگی اور خوارک کی قلت کا شکار ہیں مگر پھر بھی صرف نفرتوں کا ہوا دے رہے ہیں اور ان نفرتوں کے شعلوں میں انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔