خبریں/تبصرے

تیل کی پیداواری لاگت 20 ڈالر لیکن کم از کم قیمت 65 ڈالر ہو: جی سیون

لاہور (جدوجہد رپورٹ) یورپی یونین کے ایک سفارتکار نے بدھ کے روز کہا کہ جی سیون ممالک روسی سمندر سے پیدا ہونیو الے تیل کی قیمت کی حد 65 سے 70 ڈالر فی بیرل مقرر کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’ٹربیون‘ کے مطابق یورپی یونین میں آرا منقسم ہیں، کچھ بہت کم قیمت کیپ پر ور دے رہے ہیں اور دیگر زیادہ قیمت کیپ کیلئے بحث کر رہے ہیں۔ جی سیون بشمول امریکہ، پوری یورپی یونین اور آسٹریلیا 5 دسمبر کو روسی تیل کی سمندری برآمدات پر قیمت کی حد نافذ کرنے والے ہیں۔

یورپی یونین کے سفارتکار کا کہنا ہے کہ ’جی سیون بظاہر 65 سے 70 ڈالر فی بیرل بینڈ وتھ کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘

انکا کہنا تھا کہ ’پولینڈ، لیتھوانیااور ایسٹونیا اسے بہت زیادہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ پیداوار کی لاگت پر قیمت مقرر کی جائے، جبکہ قبرص، یونان اور مالٹا اسے بہت کم سمجھتے ہیں، کیونکہ ان کے جہازوں کے زیادہ خراب ہونے کا خطرہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ جی سیون کو اچھی درمیانی گراؤنڈ مل گئی ہے۔‘

واضح رہے کہ روس کے خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 70 سے 85 فیصد پائپ لائنوں کی بجائے ٹینکروں کے ذریعے جاتا ہے۔ قیمت کی حد کا خیال شپنگ، انشورنس اور ری نشورنس کمپنیوں کو دنیا بھر میں روسی خام تیل کے کارگو کو ہینڈل کرنے سے منع کرنا ہے، جب تک کہ اسے جی سیون اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے زیادہ پر فروخت نہ کیا جائے۔

دنیا کی اہم شپنگ اور انشورنس فرمیں جی سیون ممالک میں قائم ہیں، اس لئے قیمت کی حد کے برخلاف جا نے کی صورت روس کیلئے اپنا تیل فروخت کرنابہت مشکل بنا دے گی۔

تیل کی پیداواری لاگت کا تخمینہ تقریباً 20 ڈالر فی بیرل لگایا گیا ہے، اس لئے یہ حد قیمت روس کیلئے اپنا تیل بیچنا منافع بخش بنا دے گی۔