خبریں/تبصرے

لاہور: ملک بھر کی ترقی پسند طلبہ تنظیموں کے اجلاس میں ’سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی‘ کی تشکیل

لاہور (پریس ریلیز  منجانب پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو) مورخہ 2 نومبر 2019ء کو سیفما آڈیٹوریم لاہور میں پورے ملک کی ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے لاہور میں ایک میٹنگ منعقد کی۔

اس میٹنگ کی میزبانی کے فرائض پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو نے انجام دیے۔

تمام طلبہ تنظیموں نے سیر حاصل بحث کے بعد طلبہ کو درپیش مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لیے اس میٹنگ میں شریک تمام طلبہ تنظیموں کی نمائندگی کے ساتھ ’سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی‘ کی بنیاد رکھی۔

جو طلبہ تنظیمیں سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے اندر شامل ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں۔

1- پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو
2- انقلابی طلبہ محاذ
3- پروگریسیو سٹوڈنٹس فیڈریشن
4- بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن
5- آل گلگت بلتستان موومنٹ
6- بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن
7- جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن
8- جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ
9- پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن
10- پیپلز یوتھ آرگنائزیشن
11- کونیکیٹ دی ڈس کونیکٹڈ
12- پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن آزاد
13- بلوچستان سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
14- ہزارہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن
15- پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن
16- سندھ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
17- بیروزگار نوجوانوں تحریک

اس میٹنگ میں شریک تمام طلبہ تنظیموں نے مشترکہ فیصلے کے بعد مزمل خان کو مرکزی کنوینر منتخب کیا اس کے علاوہ مرکزی ترجمان کے لیے موہبہ احمد (پروگریسیو سٹوڈنٹس کولیکٹیو) اور کامریڈ اسد (بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن) کے نام منتخب ہوئے۔

اس کے علاوہ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی میں شامل تمام تنظیموں کے دو دو نمائندوں پر مشتمل ایک آرگنائزنگ کمیٹی کا بھی انتخاب کیا گیا۔ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی تاسیسی میٹنگ میں زیربحث آنے والے موضوعات میں طلبہ یونینز کی بحالی، تعلیمی بجٹ میں کٹوتیاں، جامعات میں ہونے والی جنسی و ذہنی ہراسانی، جامعات میں سکیورٹی اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور طلبہ پر ہونے والے تشدد، طلبہ کے لئے معیاری انفراسٹرکچر کا نہ ہونا اور طلبہ کے اوپر آزادیِ اظہار رائے پر عائد پابندیاں شامل ہیں۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ وہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت پورے پاکستان کے اندر تعلیمی بحران کے اس مسئلے کے اوپر تمام طلبہ کو منظم کریں گے۔ اس سلسلے میں سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اپنی پہلی عوامی سرگرمی مورخہ 29 نومبر 2019ء کو ’طلباء یکجہتی مارچ‘ کی صورت میں منعقد کرے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے خلاف اور سماجی و طلبہ حقوق کی جدوجہد میں ترقی پسند طلبہ تنظیمیں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔

ہم اس پریس ریلیز کے ذریعے یہ بھی باور کروانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی طلبہ تنظیمیں اتنی بڑی تعداد میں ایک چھتری کے تلے اکٹھی ہوئی ہیں۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کا قیام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان سمیت گلگت بلتستان اور کشمیر کے طلبہ ایک بہت بڑی طلبہ تحریک کے قیام کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اپنی پریس کانفرنس کے اندر اس بات کا عہد کیا کہ وہ بغیر کسی نسلی، قومی، لسانی اور صنفی امتیاز کے طلبہ کے حقوق کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر آگے لے کر بڑھتے ہوئے ایک روشن باب کا آغاز کرے گی۔

سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ طلبہ تنظیمیں جن سے ہم رابطہ نہ کرسکے اگر وہ اس ایکشن کمیٹی کا حصہ بننا چاہتی ہیں تو وہ آرگنائزنگ کمیٹی سے رابطہ کر سکتی ہیں۔