خبریں/تبصرے

لبنان میں عوامی بغاوت: حکومت نے ٹیکس واپس لے لیا!

فاروق سلہریا

گذشتہ ہفتے، جمعرات کے روز، بیروت میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگ وزیر اعظم سعد حریری کی مخلوط حکومت کی جانب سے واٹس ایپ پیغامات پر ٹیکس لگانے کے فیصلے پر طیش میں آ گئے تھے۔ صورتِ حال اس وقت اورخراب ہو گئی جب ایک وزیر کے باڈی گارڈز نے مظاہرین کو ڈرانے کے لئے ہوائی فائرنگ کی۔

ہزاروں والا مظاہرہ لاکھوں میں بدل گیا۔

ہفتے اور اتوار کے روز بیروت میں ایک ملین لوگ سڑکوں پر تھے اور مظاہرے حزب اللہ کے گڑھ، جنوبی لبنان تک پھیل گئے۔ پیرکے روز سعد حریری نے ٹیکس واپس لینے کے علاوہ دیگر مراعات دینے کا اعلان بھی کیا۔ لوگ اب سعدحریری کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرے جاری ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ واٹس ایپ پر ٹیکس ایک بہانہ بنا ہے۔ لوگ لبنانی حکومت کی نیو لبرل پالیسیوں، حکمرانوں کی بدعنوانیوں اور عوام سے لاتعلقی پر غصے میں تھے۔

گذشتہ ہفتے لبنان میں جنگلوں میں آگ لگنے سے بھی لاکھوں لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اس ماحولیاتی بحران کی ایک بڑی وجہ لبنا ن کا لینڈ اور رئیل اسٹیٹ مافیا بھی ہے۔ یاد رہے سعد حریری کا خاندان لبنان کا ملک ریاض سمجھا جاتا ہے اور اس خاندان کو سعودی حمایت حاصل ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خاندان ارب پتی بن گیا ہے۔

ادھر، لبنا ن فی کس کی بنیاد پر دنیا کا سب سے مقروض ملک ہے۔ بے روزگاری چالیس فیصد ہے۔ قرضوں کا بوجھ امیروں پر ڈالنے کی بجائے غریبوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ واٹس ایپ کی سہولت بھی لوگوں سے چھینی جا رہی ہے۔

قرضوں کے علاوہ، فی کس کی بنیاد پر لبنان مہاجرین کی بھی دنیا میں سب سے بڑی پناہ گاہ ہے۔ صرف پندرہ لاکھ شامی پناہ گزین گذشتہ آٹھ سال میں لبنان پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کا ذمہ دار ان مہاجرین کو قرار دے دیا جاتا ہے۔ لبنا ن کا تجارتی میڈیا بھی دن رات مہاجرین کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔ لبنان کی معاشی صورتِ حال کا ذمہ دار یہ پناہ گزین نہیں، نیو لبرل معاشی پالیسیاں ہیں۔ حکمرانوں کی بدعنوانیاں ہیں۔ لوگ اب تنگ آ چکے تھے۔ گذشتہ سات روز سے لوگ سڑکوں پر ہیں۔ وہ پناہ گزینوں کو نہیں، حکمرانوں کو ایوانِ اقتدار سے نکالنا چاہتے ہیں۔ عرب بہار نئے سرے سے مشرق وسطیٰ کا رخ کر رہی ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔