خبریں/تبصرے

2050ء تک سمندر میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک ہوگا: کولا، پیپسی اور نیسلے پر مقدمہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) کوکا کولا، پیپسی کولا اور نیسلے سمیت مشروبات یا دیگر مصنوعات کے لئے پلاسٹک کی بوتلیں استعمال کرنے والی دس کمپنیوں کے خلاف امریکی ریاست کیلی فورنیا کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کے خلاف یہ مقدمہ ماحولیات کے لئے کام کرنے والے ایک ادارے، ارتھ آئی لینڈ انسٹی ٹیوٹ(Earth Island Institute) نے کیا ہے۔

دعویٰ کے مطابق پیپسی کولا اور کوکاکولا وغیرہ صارفین سے جھوٹ بولتے ہیں، ان کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی بوتلیں ری سائیکل ہو سکتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ری سائیکلنگ کا بوجھ صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان بوتلوں کی بڑی مقدار ری سائیکل نہیں ہوتی۔

اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ہر سال 20 ملین ٹن پلاسٹک سمندر برد ہوتا ہے اور 2050ء تک سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک کا کچرا ہو گا۔ اس مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان ارب پتی کمپنیوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ سمندروں کی صفائی کرائیں۔

مقدمے میں نامزد کی گئی سات دیگر کمپنیاں یہ ہیں: پراکٹر اینڈ گیمبل، کولگیٹ، کرسٹل گیزر واٹر، کولورکس، مارس، ڈانن نارتھ امریکہ اور مونڈیلز انٹرنیشنل۔