شاعری


سرخ سویرا

کیسے ہوظلم کی رات بسر، اس بات کا ڈر اب کس کو ہے

جاگیر

جس میں پنہاں مرے خوابوں کی طرب گاہیں ہیں

سائیں میرے کھیتوں پر بھی رُت ہریالی بھیجو ناں: عشرت آفرین کے اعزاز میں ایک محفل

عشرت کی شاعری ان مخصوص موضوعات سے زیادہ سروکار نہیں رکھتی جو آج کی شاعری کے فیشن میں شامل ہیں اور ہر نیا شاعر اپنے وجود کا جواز ثابت کرنے کے لئے ان موضوعات پر شعر کہتا ہے…دراصل اس کی شاعری کی روح اس کا ذاتی تجربہ ہے اور یہ تجربہ معاشرے کی حقیقت بھی ہے اور اس کے دل کی آواز بھی۔

یہاں نہ شعر سناؤ، یہاں نہ شعر کہو: معین احسن جذبی کی ایک نظم

نتیجہ یہ ہے کہ اخلاقی اور انسانی قدروں کی قدرو منزلت کے بجائے معاشرے میں انتہا پسندی فروغ پارہی ہے اور بھائی چارے کی جگہ ہر چیز کو تنگ نظری کی عینک سے دیکھا جارہاہے۔ شعر وادب کے گرتے ہوئے معیار پر جذبی کا تبصرہ آج بھی اسی طرح درست نظرآتا ہے جس طرح ستر سال پہلے تھا:

یہاں نہ شعر سناؤ، یہاں نہ شعر کہو
خزاں پرستوں میں گلہائے تر کی قیمت کیا