مزید پڑھیں...

ہمیں فیس بک پر فالو کریں

’روزنامہ جدوجہد‘ پاکستان کا واحد ابلاغیاتی ادارہ ہے جو بلا ناغہ ترقی پسند، محنت کش اور سوشلسٹ نقطہ نظر کے ساتھ ایسی خبریں، تجزئے اور اطلاعات فراہم کرتا ہے جو مین اسٹریم سرمایہ دارمیڈیا سے یا تو غائب ہوتی ہیں یا اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں کہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔

افغان شہری طالبان سے متنفر ہیں: سیلی غفار

میرے لیے اور میری جیسی بہت سی خواتین کے لیے افغانستان میں رہنا مشکل ہے، کیونکہ میں خود سڑکوں پر نہیں چل سکتی، میں کام نہیں کر سکتی، خاص طور پر جب ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے یہ تمام دھمکیاں مل رہی ہیں اور یہ پتہ چل رہا ہے کہ وہ مجھے تلاش کر رہے ہیں۔ میں لوگوں کو منظم نہیں کر سکتی اور نہ ہی اپنے کام کو جس طرح چاہتی ہوں کر سکتی ہوں۔ جب آپ کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے، موبائل فون تک رسائی نہیں ہے، آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ بہت سی خواتین کارکنوں نے ملک چھوڑنے کا انتخاب کیوں کیا اور بہت سے انقلابیوں نے ملک کیوں چھوڑ دیا۔

قوم یوتھ سٹاک ہولم سنڈروم نہیں، وینا ملک ڈس آرڈر کا شکار ہے

افغانستان میں ’فتح مکہ‘پر پاکستانی حکمران ہی نہیں پوری قوم یوتھ انتہائی خوش ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق پچپن فیصد لوگ طالبان کے کابل پر قضے کے حامی ہیں۔ عام لوگوں کو تو ا سلسلے میں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان تک جب سچ، متبادل سوچ اور بیانیہ پہنچے گا ہی نہیں تو ان کے ذہن حکمرانوں کی مرضی کے مطابق سوچتے رہیں گے۔

طالبان کیخلاف پورا افغانستان غیر اعلانیہ ہڑتال پر ہے

”یہ آسان نہیں ہے، کیونکہ ہمیں مالی مسائل بھی ہیں لیکن ہمیں ان وحشیوں کو خاموشی سے ہی نہ کہنے کی ضرورت ہے۔ وہ ہمارے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور ہم بھی ان کے حکم کے تحت کام نہیں کر سکتے اس لیے ہم دور رہتے ہیں۔“