مزید پڑھیں...

10 ماہ میں طالبان نے عورتوں کیخلاف 24 اقدامات کئے، قحط کیخلاف ایک بھی نہیں

افغانستان میں طالبان کے 10 ماہ کے اقتدار کے دوران خواتین کے خلاف تسلسل کے خلاف اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تاہم خراب معاشی صورتحال، بیروزگاری، غذائی قلت اور قحط سالی جیسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی نوبت نہیں آئی ہے۔

صدی کا سب سے بڑا فرائیڈین سلپ

سابق امریکی صدر کی جانب سے غلطی سے اپنے اس جنگی جرم کا اعتراف کرنے کو اس صدر کا سب سے بڑا ’فرائیڈین سلپ‘(ایک ایسی غیر ارادی غلطی جس کے ذریعے سے لاشعور میں موجود احساس ظاہر ہو جائے) قرار دیا جا رہا ہے۔

یوکرین جنگ کا نتیجہ: سویڈن، فن لینڈ نے بھی نیٹو رکنیت کیلئے درخواست دیدی

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق دونوں ملکوں نے نئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی مشترکہ خریداری پر اتفاق کیا ہے اور ہتھیاروں کے معاہدے کا اعلان بدھ کو اس وقت کیا گیا جب دونوں ملکوں نے نیٹو فوجی اتحاد میں شمولیت کیلئے اپنی درخواستیں جمع کروائیں۔

بلوچستان: شیرانی کا جنگل آگ کی لپیٹ میں، 7 افراد جھلس کر ہلاک

بلوچستان کے ضلع شیرانی کا جنگل آگ کی لپیٹ میں ہے۔ یہ جنگل، جو ایک مشہور پہاڑ ’کوہ سلیمان‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گزشتہ 10 دنوں سے آگ کی لپیٹ میں ہے۔ آگ کی وجہ سے حیوانات و نباتات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے، جبکہ مزید بڑے نقصانات کا خدشہ موجود ہے۔ آگ بجھنے یا کم ہونے کی بجائے مسلسل پھیل رہی ہے۔اس پھیلتی ہوئی آگ نے مقامی ذرائع کے مطابق 100 سے زائد گھروں کو گھیر لیا ہے۔ مکینوں کو بچانے کیلئے فوری طور ہنگامی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ اس آگ میں 7 افراد جھلس کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحران کا حل: اشرافیہ کو 1 کھرب کی سبسڈی کا خاتمہ، 10 ارب ڈالر کی درآمدی تعشیات پر پابندی

غریب لوگوں کے بھلے کے لئے کچھ پالیسیاں تو فوری طور پر لاگو کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر امیر لوگوں کو ملنے والی ٹیکس مراعات ختم ہونے سے جو آمدن ہو گی، یا اشرافیہ پرلگنے والے نئے ٹیکسوں سے ہونے والی آمدن فوری طور پر غریب عوام پر خرچ کی جا سکتی ہے۔ اؤل، حکومت خوراک کو بنیادی انسانی حقوق قرار دے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت فوڈ سٹمپس جاری کر سکتی ہے جن کے ذریعے خوراک کے بنیادی اجزا (آٹا، گھی، کوکنگ آئل وغیرہ) ان 40 فیصد گھرانوں تک 50 فیصد رعایت پر فراہم کیا جا سکیں، جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

جے کے این ایس ایف پونچھ کا کنونشن جولائی میں ہو گا

مقررین کا کہنا تھا کہ آج انقلابی سوشلزم کے نظریات نسل انسانی کیلئے واحد راہ نجات ہیں۔ یہی وہ راستہ فراہم کرتے ہیں جس پر چلتے ہوئے ہر طرح کے قومی و طبقاتی استحصال کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

بلوچ خاتون شاعرہ کراچی سے، گزین بلوچ ساتھی سمیت کوئٹہ سے لاپتہ

حبیبہ پیر جان بلوچ کا تعلق بلوچستان کے علاقے تمپ سے بتایا جا رہا ہے اور وہ کراچی میں مقیم تھیں۔ تاحال حکومت اور سکیورٹی اداروں کے حوالے سے ان کے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہے۔ تاہم ان کی بازیابی کیلئے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے۔