مزید پڑھیں...

عوامی جمہوریہ چین، ابھرتی سپر پاور؟

دنیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے امریکہ سمیت تمام سپرپاورز نے ’لابنگ‘ پر بے پناہ اخرات کر کے اپنے ہمدرد پیدا کیے۔ اس ضمن میں چینی قیادت نے پیشگی ہی مشہور زمانہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی کو مچھلی نہیں دیتے البتہ مچھلی پکڑنے کا ہنر ضرور سیکھا سکتے ہیں۔چین کا حسن زن ہے یا اسے شاید پتہ ہی نہیں کہ صرف ہمارے پاکستانی بھائی مچھلی پکڑنے کے 101 ہنر پہلے سے ہی جانتے ہیں۔

کیا طالبان سد ھر گئے ہیں؟

بدلے ہوئے طالبان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اس بار امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی توجیہہ و تشریح اتنی سخت نہیں ہو گی۔ کیا عام طالبان بھی اس سے متفق ہوں گے؟ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں البتہ اس جنگجو طالبان کے رہنما، جو دہائیوں سے غیر ملکی امداد اور بھتوں پر گزارا کر رہے تھے، خوب سمجھتے ہیں کہ معاشی ضرورتیں تبدیلی کا تقاضہ کر رہی ہیں۔

’طالبان وحشیوں کی واپسی پر بھارتی مسلمانوں کا جشن منانا انتہائی خطرناک ہے‘

معروف بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے اپنے ایک تازہ ویڈیو بیان میں کابل پر طالبان کے قبضے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بعض ہندوستانی مسلم حلقوں کی جانب سے اس تبدیلی پر اظہار خوشی کو بھی انہوں نے شدید خطرناک رجحان قرار دیا ہے

ہرات میں خواتین کا طالبان کے خلاف مظاہرہ

طالبا ن نے بارہا کہا ہے کہ وہ خواتین کو کام کرنے کی اجازت دینگے اور تعلیم کا حق بھی دینگے لیکن خواتین فیصلہ سازی کے عہدوں پر نہیں رہ سکتی ہیں، انہوں نے مخلوط تعلیم پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ تاحال صرف جماعت ششم تک کی لڑکیاں ہی سکول جا سکتی ہیں۔

سید علی گیلانی: کشمیر میں پراکسی جنگ کا ایک عہد تمام ہوا!

سامراجی ریاستوں کے پراکسی ہرکاروں کا کبھی بھی کردار یکطرفہ نہیں رہا ہے، انہوں نے ہمیشہ دونوں ریاستوں کے ساتھ ساز باز کا راستہ اختیار کیا ہے، دونوں اطراف سے مال کمانے اور تحریک کو فروخت کرنے کا راستہ اختیار کیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف بھارتی ریاست کی جانب سے سید علی شاہ گیلانی کی وفات پرپوری وادی پرخوف، جبر اور پابندیوں کی فضاء مسلط کر رکھی ہے، دوسری طرف سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر جن جرائم سے پردہ اٹھانے کی ضرورت تھی،ان جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے انکی شخصیت کو ہیرو بنا کر پیش کرنے کی ریاستی کوشش کی جا رہی ہے۔

محسن داوڑ نے ’نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کے نام سے نئی پارٹی قائم کر لی

پارٹی کے اعلان کے موقع پر سرخ اور سیاہ رنگ کے پرچم کے علاوہ پارٹی منشور کا بھی اعلان کیا گیا۔ منشور کے مطابق این ڈی ایم ایک انصاف پسند، پرامن، روادار اور انسان دوست معاشرہ قائم کرنے کیلئے جدوجہد کرے گی، جس میں شہری بنیادی آزادیوں بشمول آزادی اظہار، انجمن سازی کی آزادی اور قانون کے تحفظ سے لطف اندوز ہو سکیں۔

’کابل میں ہم روٹی اور پیراسٹامول خریدنے کے قابل بھی نہیں رہے‘

”جس دن وہ ہسپتال جا رہی تھی، میں نے اسے کہا کہ حجاب پہنواور میک اپ نہ کرو۔ میں خوفزدہ تھی کہ شاید وہ اسے مار ڈالیں۔ اسے پہلے ہی دو ماہ سے ادائیگی نہیں کی گئی ہے اور ہمارے پاس یقینی طور پر نقد رقم ختم ہو رہی ہے لیکن پھر بھی یہ بہتر ہے کہ وہ گھر میں رہے اور ہسپتال نہ جائے۔ اس کے وہاں ہونے کا خوف مجھے مار ڈالے گا اس لیے بہتر ہے کہ وہ گھر میں رہے۔“