اداریہ

ایف سی کالج سے پرویز ہود بھائی کی برطرفی اکیڈیمک آزادی پر حملہ ہے

اداریہ جدوجہد

گذشتہ روز سوشل میڈیا اور متبادل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی یہ خبر انتہائی تشویشناک ہے کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔ گو تکنیکی طور پر انہیں ایک سال کا کنٹریکٹ دیاگیا ہے جو 2021ء میں ختم ہو گا لیکن پاکستانی یونیورسٹیوں میں جو رجحان ہے اس کے مطابق اس طرح کے کنٹریکٹ کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ متعلقہ اکیڈیمک کو نوکری سے بر طرف کیا جا رہا ہے۔ ایف سی کالج یونیورسٹی، جہاں پروفیسر پرویز ہود بھائی پڑھا رہے تھے، نے اوور سٹافنگ کے نام پر پروفیسر پرویز ہود بھائی کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاع یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی پوری یونیورسٹی میں فزکس کے واحد پروفیسر ہیں بلکہ ان کی تنخواہ بھی ایک فاؤنڈیشن ادا کرتی ہے۔ ان اطلاعات کی روشنی میں ان کی برطرفی اور بھی معنی خیز ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے ملک میں جس طرح کا ماحول بنا ہوا ہے، اس کے پیش نظر پروفیسر پرویز ہود بھائی کی برطرفی نے ملک میں اکیڈیمک آزادیوں پر ایک بہت بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ پروفیسر پرویز ہود بھائی، جو نہ صرف عالمی شہرت کے حامل محقق اور سائنس دان مانے جاتے ہیں بلکہ وہ عالمی اہمیت کے حامل مفکر بھی گردانے جاتے ہیں، اس سے قبل بھی اپنے نظریات کی وجہ سے بے روزگارکئے جا چکے ہیں۔

2012ء میں انہیں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے لگ بھگ اسی انداز میں بر طرف کیا تھا۔ 2013ء میں انہوں نے ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھانا شروع کر دیا۔ اس لئے ان کی برطرفی کوئی معمول کی بات نہیں ہے۔

دوم، پروفیسر پرویز ہود بھائی کی برطرفی ایک خاص پیٹرن کی غمازی کرتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی سے ضیغم عباس کو برطرف کیا گیاتھا۔ اس سے قبل، ڈاکٹر عمار علی جان کو گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی سے برطرف کیا گیا۔ انہوں نے بھی دو سال قبل ایف سی کالج یونیورسٹی جائن کی مگر شنید ہے کہ انہیں بھی برطرف کیا جا رہا ہے۔

ضیغم عباس اور ڈاکٹر عمار علی جان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ عوامی دانشور کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے نہ صرف اپنی اپنی یونیورسٹی کے طلبہ میں بلکہ ملکی سطح پر ان کی پہچان بن رہی تھی اور ان کی بات سنی جا رہی تھی۔

پروفیسر پرویز ہود بھائی پاکستان کے صف اول کے عوامی دانشور ہیں جو مختلف پلیٹ فارموں سے حق بات کہتے آئے ہیں۔ چند سال پہلے تک وہ اکثرٹاک شوز میں بھی شریک نظر آتے تھے لیکن پھر وہ ٹیلی وژن اسکرین سے غائب ہو گئے۔ دریں اثنا، ان کے ڈیلی ڈان میں لکھے گئے کالم یا مختلف مواقع پر جاری ہونے والے ویڈیو پیغامات یا تقاریر اکثر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو تے رہے ہیں۔ گویا ان کی آواز گونجتی ہی رہی ہے۔ بہر حال ان کی آواز کو اور ان جیسی آوازوں کو مین اسٹریم میں دبا دیا گیا ہے۔

اسی طرح بول چینل یا مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف اکیڈیمکس کے خلاف زہر انگیز پراپیگنڈہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس ماحول میں پروفیسر پرویز ہود بھائی کی برطرفی کو اکیڈیمک آ زادی پر سب سے بڑا حملہ اس لئے بھی قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اس ملک کے بلاشبہ اہم ترین اکیڈیمکس اور عوامی دانشوروں میں سے ایک ہیں۔

ادارہ جدوجہد اس برطرفی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ کسی بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اکیڈیمکس کی اکیڈیمک آزادی کا تحفظ کرے۔ اصول کے لئے طاقت سے ٹکرانا بڑی یونیورسٹیوں کی دنیا بھر میں روایت رہی ہے۔ ایک یونیورسٹی میں اکیڈیمک آزادی ہی اس کے تحقیقی اور اخلاقی معیار کی ضمانت ہوتی ہے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف سی کالج یونیورسٹی کی انتظامیہ اپنا فیصلہ واپس لے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ سول سوسائٹی اور میڈیا اس شرمناک فیصلے کی واپسی کے لئے پروفیسر پرویز ہود بھائی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ فیصلہ صرف پروفیسر پرویز ہود بھائی کے خلاف نہیں، یہ سول سوسائٹی اور اکیڈیمک آزادی پر حملہ ہے، یہ ان طلبہ کے ساتھ زیادتی ہے جو عالمی سطح کے ایک سائنس دان سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس یونیورسٹی میں تو طلبہ کی اکثریت بھی معاشی لحاظ سے تنگدست گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے۔

پروفیسر پرویز ہود بھائی کی برطرفی ملک میں تعلیمی نظام کی نجکاری کے شرمناک نتائج کا بھی اظہار ہے۔ پروفیسر پرویز ہود بھائی تقریباً چار دہائیوں تک قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ رہے مگر وہاں یا کسی پبلک یونیورسٹی سے ان کو اس طرح سے شائد برطرف نہ کیا جا سکتا۔

اسی طرح اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ نجی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اپنی یونین تشکیل دیں۔ بغیر ایک متحرک اور مضبوط یونین کے نہ تو ان کی اکیڈیمک آزادیاں محفوظ ہوں گی نہ ان کی نوکریاں۔