پاکستان

عمرانی تضادات!

فاروق سلہریا

عمران خان آئے روز کبھی ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگاتے رہے ہیں اور کبھی پاکستان کو ویلفیئر اسٹیٹ (فلاحی ریاست) بنانے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ ایک دفعہ تو انہوں نے اسکینڈے نیویا بارے یہ دُرفطنی جاری کر دی تھی کہ سویڈن میں ویلفیئر سسٹم کو ’عمرز لا‘ کہا جاتا ہے (یعنی یہ کہ سویڈن وغیرہ نے مسلمانوں کے خلفا سے متاثر ہو کر فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی تھی)۔

پہلی بات تو یہ کہ عمران خان نہ کوئی ایران/طالبان طرز کی مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے نہ ہی اسکینڈے نیویا کی طرز پر فلاحی ریاست ان کا ایجنڈا ہے۔ ریاستِ مدینہ کا نعرہ لگا کر وہ مذہبی رجحانات رکھنے والے حلقوں میں اپنی مقبولیت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ فلاحی ریاست کے نعروں کا مقصد ہوتا ہے متوسط اور محنت کش طبقے کو بے وقوف بنانا۔ مسئلہ لیکن یہ ہے کہ عمران جیسوں کے ایسے نعروں کے بارے میں چند حلقوں میں فکری مغالطے موجود ہیں۔ اس مغالطے کو مذہبی بنیاد پرستوں نے بالخصوص ترویج دی ہے۔

ہوا یوں کہ جب مسلمان دنیا پر یورپی سامراج نے قبضہ کرنا شروع کیا اور سلطنتِ عثمانیہ کو یورپ کی چکاچوند کر دینے والی ترقی کا سامنا ہوا تو مسلمان علما میں ایک رد عمل یہ تھا کہ مسلمانوں کے شاندار ماضی کو اجاگر کر کے یہ ثابت کرو کہ یورپ نی جو ترقی اب کی ہے اس کی بنیاد اسلامی تہذیب  نے رکھی تھی‘ یا یہ ثابت کیا جائے کہ مسلمانوں کے ہاں پہلے سے ہی یورپی طرز کے ادارے اور کامیابیاں موجود ہیں۔ ایسی ہی ایک علمی کوشش ایک سو سال سے جاری ہے جس کا مقصد اسلامی ریاست کے خدوخال واضح کرنا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاست‘ بالخصوص قومی ریاست کا ارتقا سرمایہ دارانہ نظام کا مرہونِ منت ہے۔ قبل از سرمایہ داری دور میں ریاستیں ‘شہری ریاستوں’ کی شکل میں موجود تھیں۔ موجودہ طرز کی قومی ریاست کی تشکیل یورپ میں ہوئی۔ کالونیل ازم اور سامراجی نظام کے نتیجے میں ’تیسری دنیا‘ پر بھی سرحدیں مسلط کر کے نام نہاد قومی ریاستیں قائم کر دی گئیں۔ یہ ریاستیں کتنی ‘جعلی’ ہیں اس کا اندازہ لکیر کی طرح سیدھی سرحدیں دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔

’فلاحی ریاست‘ کو مذہب سے جوڑنے والوں کا دعویٰ کیوں غلط ہے؟ اسکی پہلی وجہ یہ ہے کہ فلاحی ریاست اس اصول پر قائم ہوتی ہے کہ تمام شہریوں، چاہے وہ عورت ہوں یا مرد، کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، کو برابر کے سیاسی، سماجی، معاشرتی، مذہبی (اور کسی حد تک معاشی بھی) حقوق حاصل ہوں گے۔ جنس، مذہب، رنگ، نسل وغیرہ کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جا سکتا۔ لیکن یہاں مذہبی فلاحی ریاست کا نعرہ لگانے والوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ جائیداد میں عورت کے برابر حصے کے بھی خلاف ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کی برابری بارے ان لوگوں بالخصوص مذہبی جماعتوں کا کردار بھی کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ لہٰذا ان کی خیالی فلاحی ریاست ایک جھوٹ ہے۔

دوم یہ کہ مغرب کی فلاحی ریاست میں ڈے کیئر سنٹروں (جہاں چھوٹے بچے، جو ابھی اسکول نہیں جاتے، انہیں ماں باب چھوڑ کر دفتر جاتے ہیں) ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عورت کو گھر کی مشقت سے نجات نہیں ملے گی تو وہ کام پر نہیں جا سکتی۔ اور بغیر معاشی آزادی کے عدم مساوات کا خاتمہ ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں بھی دائیں بازو کی جماعتیں ’خاندانی روایات‘ کا رونا روتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ڈے کیئر سنٹروں کے نظام کو کمزور کیا جائے۔ یہ نظام کمزور ہو گا تو فلاحی ریاست کمزور ہو گی اور سرمایہ دار طبقے کے منافعوں میں اضافہ ہو گا (منافع میں کمی کی مختصر وضاحت ذیل میں کی جائے گی)۔

جبکہ یہاں ریاستِ مدینہ کا راگ الاپنے والے بنیاد پرست تو عورت کے کام کرنے کے ہی خلاف ہیں۔ ان کی سوچ تو یہ ہے کہ عورت کو گھر کی چار دیواری سے باہر قدم نہیں نکالنا چاہئے۔ تو پھر کہاں کی فلاحی ریاست؟

آخری بات یہ کہ مغرب کی فلاحی ریاست دو وجوہات سے وجود میں آئی۔ اول وہاں کی مزدور تحریک کی زبردست طاقت نے یہ ممکن بنایا کہ محنت کشوں کی جماعتیں اقتدار میں آئیں اور اقتدار میں محنت کشوں کی مداخلت نے ان ریاستوں کے ڈھانچے کسی حد تک بدلے۔ دوسری بات یہ کہ انقلابِ روس کے بعد مغرب کے حکمران طبقات نے ایسی اصلاح پسندانہ مزدور جماعتوں اور بائیں بازو کے سیاسی رجحانات سے سمجھوتے اور سودے بازی کر لی جو سوشلسٹ انقلاب کی بجائے اس بات پر تیار تھے کہ سرمایہ داری قائم رہے لیکن مزدوروں کو کچھ مراعات بھی دی جائیں۔ قصہ مختصر یہ کہ ایک زبردست طبقاتی جدوجہد، جس کے نتیجے میں حکمران طبقے نے اپنی نیّا ڈوبتے ہوئے دیکھی، کے بغیر سرمایہ داری میں فلاحی ریاستیں وجود میں نہیں آئیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ’فلاحی ریاست‘ کا مطلب ہے حکمران طبقے کے منافعوں میں کمی۔

ذرا پاکستان میں فلاحی ریاست کا تصور کیجئے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مفت علاج، تعلیم، سستا گھر، بے روزگاری کی صورت میں الاونس، سستی پبلک ٹرانسپورٹ، مفت ڈے کیئر سنٹر اور بڑھاپے میں ہر انسان کو پنشن مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ مزدوروں کو ’کم از کم‘ تنخواہ اور سوشل سیکیورٹی میسر ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ تعلیم، صحت، گھر اور ٹرانسپورٹ بیچنے والوں کی ایک بڑی اکثریت تو ویسے ہی پِی ٹی آئی کی حامی نہیں بلکہ اس کی قیادت میں موجود ہے۔ جہانگیر ترین کیا اس لئے عمران خان کے اخراجات اٹھاتا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اُس  کی لوٹ کا مال عوام پر لُٹا دے؟

اور پھر عمران خان کی حکومت فلاحی ریاست کے اخراجات کہاں سے پورے کرے گی؟ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سود خور عالمی اداروں کے ساتھ تضاد میں جانا پڑے گا۔ اس کے علاوہ مقامی سرمایہ دار طبقات سے دشمنی مول لینی پڑے گی۔ سیدھی سی مثال ہے۔ مزدور کو کم از کم تنخواہ اور سوشل سیکیورٹی دینے کا مطلب ہے کہ آپ اس کو دو تنخواہیں دے رہے ہیں۔ ایک جو اس کی جیب میں جائے گی۔ دوسری حکومتی خزانے (جو زیادہ تر سرمایہ دار پر ٹیکس سے بنے گا یا بننا چاہئے) میں سے جس کی مدد سے حکومت سب محنت کشوں کو مفت تعلیم، صحت، پنشن، بے روزگاری الاونس، ڈے کئیر سنٹر وغیرہ مہیا کرے گی۔

کیا دنیا کی تاریخ میں ایسے نیک دل سرمایہ دار کبھی پیدا ہوئے ہیں جو اپنی نمائندہ جماعت کو یہ اجازت دیں کہ وہ سرمایہ دار طبقے کے منافعوں پر شب خون مار کر مزدور دوست فلاحی ریاست قائم کر دے؟ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ تیسری دنیا میں ہلکی پھلکی فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کرنے والے رہنمائوں کو بھی مقامی حکمران طبقات نے سامراج کے ساتھ مل کر مروا دیا ہے۔ بھٹو سے الاندے تک کتنی ہی داستانیں زبان زدِ عام ہیں۔ اور تحریکِ انصاف کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف محنت کشوں بلکہ اسے ووٹ دینے والی مڈل کلاس کیساتھ جو کر رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔