خبریں/تبصرے

اتر پردیش: ’لو جہاد‘ پر پابندی، ہندو لڑکی سے شادی پر مسلم مرد کو 10 سال سزا ہو گی

حارث قدیر

بھارت کی آبادی کے حوالے سے سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ایک سازشی تھیوری ’لو جہاد‘ کو بنیاد بنا کر ایک مسلم مخالف قانون منظور کر دیا گیاہے۔ اس قانون کے تحت شادی کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ ہندو لڑکی سے شادی کرنیوالے مسلم مرد کو دس سال قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جا سکیں گی۔

’دی ہندو‘ اخبار کے مطابق شادی کے ذریعے، جبر، طاقت یا غلط بیانی سے ہندو لڑکی کا مذہب تبدیل قابل تعزیر جرم ہو گا۔ اس قانون کے تحت ریاست کو یہ اختیار بھی حاصل ہو گا کہ وہ مذہب کی تبدیلی کی غرض سے کی گئی شادی کو کالعدم قرار دے سکے گی۔ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر قیادت کم از کم پانچ ریاستوں میں اس طرح کی قانون سازی متعارف کروائی جا رہی ہے۔

’لو جہاد‘ بھارتی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے تراشی گئی ایک سازشی تھیوری ہے جس کے مطابق مسلمان مرد ہندو خواتین سے شادی کر کے ان کا مذہب تبدیل کروا رہے ہیں اور اس طرح بھارت کا آبادیاتی توازن تبدیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایک سازشی تھیوری کی بنیاد پر بننے والے قوانین نے ایک بار پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو انتہا پسندی پر مبنی پالیسیوں کو عیاں کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مودی حکومت کی جانب سے اس طرح کے کئی دیگر قوانین متعارف کروائے گئے ہیں جن سے اقلیتی مسلم برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نشریاتی ادارے ٹائم پر شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کی کابینہ نے اس نئے قانون پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔ اتر پردیش میں سب سے زیادہ مسلم آبادی ہے جس کی تعداد تین کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ ہے۔ نئے قانون میں ’لو جہاد‘ کی اصطلاح کا کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اسکی بجائے شادی کے ذریعے غیر قانونی مذہب کی تبدیلی کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ریاست کے وزیراعلیٰ اور سخت گیر انتہا پسند ہندو رہنما یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ ماہ ایک ریلی سے خطاب کے دوران اعلان کیا تھا کہ انکی حکومت ’لو جہاد‘ کو روکنے کیلئے سخت قانون بنائے گی۔ مذکورہ تقریر میں انہوں نے مسلم مردوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

بھارت میں ’لو جہاد‘ کی سازش کو ایک مرتبہ پھر نئی اہمیت دی جا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک ٹیلی ویژن اشتہار کو واپس لے لیا گیا، مذکورہ اشتہار میں مسلمان مرد اور ہندو عورت کے مابین خوشگوار بین المذاہب شادی کی عکاسی کی گئی تھی۔ ہندو انتہا پسندوں کی شکایات پر یہ اشتہار واپس لے لیا گیا۔

رواں ماہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نوروتم مشرا کے اعتراض کے بعد پولیس نے نیٹ فلکس کے ایک پروگرام کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ مذکورہ پروگرام میں ایک مندر کے پس منظر میں ہندو عورت اور مسلم مرد ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ واضح رہے کہ بی جے پی کی مدھیہ پردیش ریاستی حکومت بھی ایک ایسا ہی قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ نیا قانون اتر پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے ایک کیس میں ریاستی حکومت کو ہونیوالی سبکی کے بعد لایا جا رہا ہے۔ مذکورہ کیس میں ہندو خاتون کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ انکی بیٹی کو اسکے مسلم شوہر نے اغوا کیا اور اسکی مرضی کے خلاف مذہب تبدیل کروایا۔ تاہم دوران سماعت دونوں میاں بیوی کے تعلقات کو باہم اتفاق رائے سے پایا گیا۔ جس کے بعد ریاستی حکومت نے اس طرح کا قانون لانے کا فیصلہ کیا۔

مذکورہ قانون ماضی قریب میں شہریت کے ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی)، بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ڈومیسائل ایکٹ سمیت دیگر قوانین کا ہی تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جن کا بنیادی مقصد مسلم اقلیتی آبادی، دلت ہندو اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تعصب کو ہوا دینا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر معاشرے کے دعویدار بھارتی حکمران طبقات کی جانب سے نفرت اور فرقہ وارانہ تعصبات کو فروغ دینے کے اقدامات در حقیقت محنت کش طبقے کو تقسیم کرکے سرمایہ دارانہ نیو لبرل پالیسیوں کو نافذ کرنے کیلئے اپنائے جا رہے ہیں تاکہ محنت کش طبقے کی تحریک کے منظم ہونے کا راستہ روکا جا سکے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔