خبریں/تبصرے

سلطان اردگان کی توہین کرنے پر 903 بچے جیل میں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ترکی کی وزارت انصاف کی جانب سے جاری کئے گئے نئے اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کی توہین کے الزام میں جن ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات چلائے گئے اور انہیں جیل بھیجا گیا ان میں متعدد ملزمان نا بالغ بچے ہیں جن کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان ہیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں گزشتہ 6 سالوں میں صدر کی توہین کرنے پر 1 لاکھ 28 ہزار 872 تحقیقات کی گئیں جن میں سے 9 ہزار 556 افراد کو قید کی سزا دی گئی، 27 ہزار 717 افراد کے خلاف فوجداری مقدمات چلائے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ان 6 سالوں کے دوران 903 نا بالغ بچوں کے خلاف بھی صدر کی توہین کے الزامات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے جن میں سے 264 بچوں کی عمریں 12 اور 14 سال کے درمیان تھیں۔ صدر کی توہین کے مرتکب افراد کو ایک سے چار سال کی مدت تک قید ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غیر ملکیوں اور قانونی اداروں پر بھی سوشل میڈیا پوسٹوں کی بنیاد پر مقدمات قائم کئے گئے۔ 234 غیر ملکیوں اور 8 قانونی اداروں کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے جن میں سے 9 غیر ملکیوں کو جیل کی سزائیں سنائی گئیں۔

ایک قانون دان علی گل نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ”جن لوگوں کے خلاف صدر کی توہین کے الزام کی تحقیقات کی گئیں وہ آسانی سے مل کر ایک سیاسی پارٹی چلا سکتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں کی حمایت سے انتخابات بھی جیت سکتے ہیں۔“

رواں سال ستمبر میں صدر کی توہین کے الزام میں ڈیموکریٹک ریجنز پارٹی (ڈی بی پی) کی سابقہ شریک چیئر پرسن صباحت تونسل کو 11 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے اردگان سے متعلق رائے دی تھی کہ وہ خواتین اور کردوں کے دشمن ہیں۔

2014ء میں ترک پولیس نے طلبہ کے ایک احتجاج میں تقریر کے دوران ایک 16 سالے لڑکے کو اردگان کی توہین کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس طالب علم کو پولیس فورس نے کلاس سے گرفتار کیا تھا۔ ایک سال بعد 2015ء میں 2 بچوں، جن کی عمر 12 اور 13 سال تھی، کو جنوبی مشرقی صوبے میں پوسٹر پھاڑنے کے بعد صدر کی توہین کا الزام عائد کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

رواں سال جنوری میں اردگان نے 2 ترک بچوں کو حکومت کی توہین کے مقدمہ کی سماعت کے بعد اس شرط پر معافی دینے کا اعلان کیا کہ اگر وہ صدر کی توہین پر معافی مانگیں اور قوم پرست شاعری سیکھیں۔