دنیا

امریکہ نے شہزادہ سلمان کو جمال خشوقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیدیا: سعودی افسران پر پابندیاں

 قیصر عباس

امریکہ کی خفیہ ایجنسی کی ایک رپورٹ میں، جو جمعہ کو شائع کی گئی، واضح طور پر سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشوقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جس کے بعد امریکی ڈپارٹمنٹ آف سٹیٹ نے 76 سعودی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اعلان کے مطابق سعودی حکومت کے یہ افسران مبینہ طورپر اس قتل کے ذمہ دار پائے گئے ہیں۔

امریکہ کی قومی خفیہ ایجنسی کے ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”ہمارے تجزیے کے مطابق سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشوقجی کے اغوا یا قتل کے احکامات جاری کئے تھے۔“

اطلاعات کے مطابق 2018ء میں سعودی صحافی کو شہزادے کے ایما پر استنبول کے سعودی سفارت خانے میں قتل کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے اجراکے فوراً بعد ہی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے ایک سخت بیان میں سعودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت وزارت خارجہ ان لوگوں پر ویزے کی پابندیاں لگائے گی جو اپنی حکومتوں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صحافیوں اور بیرون ملک شہریوں کی جان ومال کو نشانہ بنائیں گے اور ان کے خلاف پر تشدد کاروائیوں میں ملوث پائے جائیں گے۔

اعلان کے مطابق اب صحافیوں سمیت دانشوروں کو ہراساں کرنے اور ان کوتشدد کا نشانہ بنانے والے تمام افراد کے خلاف سنجید گی سے کاروائیاں کی جائیں گی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ”ملکی سلامتی کے پیشِ نظر اب امریکہ میں آنے والے ان تمام افرادپر سفری پابندیاں لگائی جا سکیں گی جو اپنی حکومت کے ناقدین کے خلاف اقدامات میں ملوث ہوں گے۔ “

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر افسرنے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو بائیڈن کی انتظامیہ سعودی حکومت سے تعلقات کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جن میں انسانی حقوق کو اہمیت حاصل ہو گی۔ لیکن امریکہ کی اس نئی حکمت عملی کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جانا چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں نئی پالیسیاں بنارہا ہے یا سعودی عرب سے تعلقات میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔

رپورٹ کے اجرا سے پہلے صدر بائیڈن نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے ذریعے انسانی حقوق کی پاسداری پر زور دیا تھا۔ امریکی حکومت پہلے ہی سعودی حکومت کو دئے جانے والے جنگی جہازوں کی فروخت پر پابندیاں لگاچکی ہے جسے یمن کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔

سعودی صحافی کے قتل کے بعد امریکی کانگریس نے اس رپورٹ کو عام کرنے کے لئے ایک بل بھی پاس کیا تھا جسے سابق صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ رپورٹ کا اجرا ملکی سا لمیت اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے امریکی تعلقات کے خلاف ہے۔

مبصرین کے مطابق ان اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی کو انسانی حقوق اور جمہوری روایات کی پاسداری سے منسلک کرنے میں سنجیدہ ہے لیکن خارجہ پالیسی میں بنیادی جہتوں کی تشکیل نو کی امید ابھی قبل از وقت ہے۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔