خبریں/تبصرے

ماحولیاتی آلودگی: 1 فیصد دولت مند ترین 50 فیصد غریبوں سے دو گنا کاربن اخراج کے موجب

لاہور (جدوجہد رپورٹ) کیمبرج سسٹین ایبلٹی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 1 فیصد امیر ترین 50 فیصد غریبوں کے مقابلہ میں دوگناہ کاربن اخراج کا باعث بنتے ہیں۔ کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ 2020ء میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں زبردست کمی کے باوجود ماحولیاتی بحران بڑھتاہی جا رہا ہے۔

سکائی نیوز کے مطابق ’COP26کلائمیٹ چینج سمٹ‘سے قبل کمیشن کا کہنا تھا کہ ”حکومتوں کو اس تاریخی موڑ کواپنے سیارے کی برداشت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے معیشتوں کی بہتر تعمیر کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔“

رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر درجہ حرارت کو پیرس معاہدے میں طے شدہ 1.5 سیلسیس تک محدود رکھنے کیلئے نام نہاد ’آلودگی اشرافیہ‘ کو طرز زندگی میں دڑامائی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

کمیشن نے سفارش کی ہے کہ حکومتوں، کاروبار اور پیداوار پر براہ راست قابو رکھنے والے افراد کو کاربن والی مصنوعات اور خدمات کی دستیابی کو محدود کرنا ہو گا۔ غیر مستحکم طرز عمل کو ختم کرنا غیر مستحکم مصنوعات کو مارکیٹ میں پہلی جگہوں پر آنے سے روکنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ حدود کے بارے میں مشکل بات چیت شروع کرنا، ملکوں کے اندر اور ان کے مابین کاربن بجٹ کو کم کرنے اور آلودگی پھیلانے والی اشیا کی پیداوار کو منظم کرنے کی تجاویز پر غور کیا جائے۔ کمیشن نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ویلتھ ٹیکس اور لگژری کاربن ٹیکس متعارف کروانے پر غور کیا جائے، جیسے ایس یو وی، نجی طیارے یا سپر یاٹس پر کاربن سیلز ٹیکس اور بزنس کلاس یا زیادہ پرواز کرنے والوں پر ٹیکس لگائے جائیں۔ ہوائی جہاز کے ایندھن اور غیر مشروط ہوا بازی کے صنعت کے بیل آؤٹ اور کمپنی کاروں کیلئے ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کمیشن کی دیگر سفارشات میں شامل ہے۔