طنز و مزاح

ہم پورا پاکستان جلا دیں گے اور سموگ کی ذمہ داری مغرب پر ہو گی: عمران خان

 فاروق سلہریا

پاکستان کے وزیر اعظم نے قوم سے تازہ خطاب میں مغربی ممالک کو وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے اسلاموفوبیا بند نہ کیا تو تحریک لبیک پاکستان کی مدد سے ہم پورا پاکستان جلا دیں گے اور اس کے نتیجے میں جو ماحولیاتی آلودگی پھیلے گی اس کا ذمہ دار یورپ ہو گا۔

انہوں نے کہا ماحولیاتی بحران کے علاوہ ریفیو جی کرائسس بھی پیدا ہو گا کیونکہ پاکستان کے بائیس کروڑ سیاسی پناہ کے لئے یورپ کا رخ کریں گے اور یہ بحران شامی مہاجرین سے پیدا ہونے والے ریفیو جی کرائسس سے کئی گنا بڑا ہو گا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں وہ وائرل ویڈیوز بھی دکھائیں جن میں پنجاب پولیس کو پیٹا جا رہا ہے اور جواب میں پنجاب پولیس چوک یتیم خانے میں دھڑا دھڑ گولیاں چلا رہی ہے۔ عمران خان نے مغرب کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کے یہ واقعات تو محض ٹریلر ہیں۔ انہوں نے مغرب کو یاد دلایا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور پاکستان کے دو سو کے لگ بھگ ایٹم بم کئی سالوں سے ایسے ہی پڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے فرانس کے صدر عمانوئیل میکروں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ میں نے اٹھارہ سال انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلی ہے اور اپنی آمدن پر ٹیکس بچانے کے لئے میں نے آف شور کمپنی بھی بنائی تھی اس لئے مجھ سے بہتر مغرب کو کوئی نہیں جانتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شمال جنوب اور مشرق کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں مگر بنیادی طور پر وہ ماہر مغرب ہیں۔

یورپی جغرافیہ کے بارے میں اپنی تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ مغرب کو تو پانچ ہزار سال تک یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ جاپان جرمنی کا پڑوسی ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ جب جاپان کو جرمنی کا پڑوسی بنایا جا رہا تھا تو نواز شریف چپ خاموش رہا۔

ان کا مزیدکہنا تھا کہ جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے احتساب کے ڈر سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا ہے مگر وہ احتساب سے نہیں بچ سکیں گی اور نہ ہی وہ بورس جانسن کو این آر او دیں گے۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر یورپ نے اسلاموفوبیا ند نہ کیا تو بھی فرانس کے سفیر کو نہیں نکالا جائے گا بلکہ پاکستان احتجاجاً یورپ سے امداد لینا بھی بند کر دے گا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔