خبریں/تبصرے

جانی خیل: 23 روز احتجاج کے بعد لاش کے ہمراہ اسلام آباد لانگ مارچ، پولیس کا حملہ

حارث قدیر

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے ضلع بنوں کے جانی خیل قبائل کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سے بزور طاقت روک دیا گیا ہے۔ قبائلی رہنما ملک نصیب خان کی لاش کے ہمراہ 23 روز احتجاج کرنے کے بعدجانی خیل قبائل نے مطالبات کی عدم منظوری پر اسلام آباد کی جانب بدھ کے روز لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔

بدھ کی صبح جانی خیل سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع ہوا تھا جسے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعدبنو ں شہر کو ملانے والے پل پر پولیس کی بھاری نفری نے روک دیا۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور پتھراؤ کیا جبکہ مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی۔ تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ اورپتھراؤ کیا اور پولیس وین کو نذرآتش کیا گیا۔

سوشل میڈیا پرجاری ہونے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاران قافلے میں شامل گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس اہلکاران گاڑیوں کے شیشے توڑتے ہوئے اور گاڑیوں سے سامان نکال کر باہر پھینکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ویڈیوز میں پولیس اہلکاران کو آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکتا کہ یہ ویڈیوز حالیہ واقعہ کی ہی ہیں یا پرانی ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے بھی بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ پولیس نے قافلے کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ صحافی خان ضمیر خان کے مطابق پولیس آنسو گیس کی شیلنگ کر رہی تھی جبکہ مظاہرین جوابی پتھراؤ کر رہے تھے۔ مقامی صحافی کے مطابق مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

جانی خیل قبائل کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کے قیام کیلئے انہیں یقین دہانی کروائے اور بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی روک تھام کی جائے۔ مظاہرین گزشتہ احتجاج میں صوبائی حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی وفاقی حکومت سے توثیق چاہتے ہیں، مظاہرین یہ سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ ان کے مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی اس لئے وفاقی حکومت ہی ان کے ساتھ معاہدہ کرے اوراس پر عملدرآمد کروائے۔

جانی خیل قبائل نے رواں سال 4 نوجوانوں کی لاشیں ملنے کے بعد احتجاج کا آغاز کیا تھا جس کے بعد حکومت اور قبائل کے مابین 8 نکاتی معاہدہ طے پایا تھا۔

ان علاقوں میں گمنام قتل کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں جن کے قاتلوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

صوبائی حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے کچھ عرصہ بعد قبائلی رہنما ملک نصیب خان کی لاش ملی، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیااور 23 روز لاش کے ہمراہ احتجاجی دھرنا دینے کے بعد مطالبات کی عدم منظوری کی صورت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا گیا ہے۔ لانگ مارچ کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کیلئے پولیس اورانتظامیہ نے بھی اپنی حکمت عملی پر عملی پیرا ہیں۔ تاہم آخری اطلاعات تک قبائلی مظاہرین اسلام آباد کی جانب سفر جاری رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔