خبریں/تبصرے

لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کرنیوالے طلبہ پر انسداد دہشتگردی کے مقدمات قائم، 8 گرفتار

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں کنٹرول لائن سے ملحقہ تحصیل عباسپور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، صحت کی سہولیات اور کالج بس کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف انسداد دہشتگردی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے 8 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تھانہ عباسپور میں درج کئے گئے 2 الگ الگ مقدمات میں 50 سے زائد طلبہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے 8 طلبہ کو راولاکوٹ کے سٹی پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ دیگر طلبہ کے گھروں پر پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

واقعات کے مطابق رواں ماہ 18 جون کوطلبہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے سامنے 16 گھنٹوں سے طویل لوڈشیڈنگ سمیت دیگرمسائل کے خاتمے کیلئے احتجاج کر رہے تھے، مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کو مظاہرین کی جانب سے تالہ لگایا گیا، جس کے بعد طلبہ اور انتظامیہ کے مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے۔ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد رات گئے اسسٹنٹ کمشنر کی تحریک پر 11 معلوم اور 50 نامعلوم طلبہ کے خلاف زیر دفعات 341/353, 186/437, 147/148, 149/152 مقدمہ درج کیا گیا۔ 19 جون کو پولیس کی جانب سے کالج کے ایک طالبعلم کو عباسپور کے مین بازارسے گزرتے ہوئے تشدد کر کے گرفتار کیا اور گھسیٹتے ہوئے تھانے لے جایا گیا۔

پولیس کے اس اقدام کے بعد ایک مرتبہ پھر طلبہ کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ طلبہ کے احتجاج کو بزور طاقت ختم کروانے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ اور راہگیر زخمی ہوئے اور آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے تاجر، شہری اور راہگیربری طرح متاثر ہوئے۔ احتجاجی طلبہ کو منتشر کرنے کے بعد پولیس نے ایک اور ایف آئی آر درج کی۔ اس دوسری ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ ’6ATA‘ کے علاوہ اقدام قتل کی دفعہ ’324/337A‘ اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کیلئے نافذ کی گئی تھیں اور انسداد دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں کی جاتی ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت مظفرآباد میں کام کرتی ہے۔

پولیس کی جانب سے طلبہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے فائرنگ کی اور پولیس پرحملہ آور ہوئے، جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین پر امن تھے، پولیس کی جانب سے ہی لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ہے۔

طلبہ کے خلاف مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں کے خلاف پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر بھر میں طالبعلم سراپا احتجاج ہیں۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ پونچھ کے چیئرمین مجیب خان نے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر طلبہ کو رہا کر کے مقدمات ختم نہ کئے گئے تو جامعہ پونچھ کے تمام طلبہ احتجاج کرنے پرمجبور ہونگے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی تمام جامعات اور کالجز میں طلبہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جلد اس کھلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کیاجائے گا۔ اس ریاستی جبر اور دہشت گردی کو طلبہ کسی صورت قبول نہیں کرینگے۔

این ایس ایف پونچھ میڈیکل کالج کے چیئرمین سعد الحسن اور جامعہ پونچھ سٹی کیمپس کے چیئرمین سعد خالق نے بھی اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آج پونچھ بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں احتجاج کیا جائے گا لیکن اگر طلبہ کو رہا نہ کیا گیا اور مقدمات ختم نہ ہوئے تو پورے پونچھ اور جموں کشمیر کے طلبہ سڑکوں پر نکلیں گے۔ ظلم، جبر اور ریاستی دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔