پاکستان

کیا پاکستان کو ایسی شرم و حیا کی ضرورت ہے؟

پرویز امیر علی ہود بھائی

اسلام آباد کے اسکولوں میں تحریک انصاف کا تیار کردہ یکساں قومی نصاب کا اطلاق شروع ہو چکا ہے اور طلبہ کے لیے انسانی جسم کو پہلے سے بھی زیادہ ایک پراسرار بھید بنا دیا گیا ہے۔ نصابی کمیٹی پر تعینات علما نے یہ حکم صادر کیا ہے کہ وہ تمام مضامین کی نگرانی کرینگے اور سائنس کی کتابوں کے مندرجات چھپوانے سے پہلے ان سے اجازت لی جائے۔ اسلامی اخلاقیات کے نام پر انہوں نے نصابی کتب کے پبلشروں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ حیاتیات کی نصابی کتب میں کوئی تصویر یا خاکہ نہ چھاپیں جس میں انسانی اعضا جسم ”بغیر لباس“ کے دکھائی دیں۔

حیاتیات کی تعلیم کے لیے اس ارتقا نے اب تک کی موجودہ تمام پابندیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ نظام انہضام (معدے کے داخلی اور خارجی راستوں)، انسانی تولیدی نظام اور چھاتی کی غدود کی وضاحت کے لئے عکسی خاکوں کی مدد ضروری ہے۔ تصاویر، عکسی خاکے اور انسانی جسم کی اشکال پر پردے نہیں ڈالے جا سکتے، انھیں نصابی کتابوں سے خارج کرنا حیاتیات کی تعلیم کو محض ایک مذاق بنانے کے مترادف ہے۔

انسانی جسم تو نصاب کمیٹی سے قبل بہت عرصے سے ممنوع چلا آ رہا ہے بس اب اس امتناع میں مزید اضافہ باقی رہ گیا تھا۔ میں نے گذشتہ برسوں میں پنجاب اور سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع ہونے والی کچھ حیاتیات کی نصابی کتب کا جائزہ لیا تو ان میں زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے درکار ممالیہ جانوروں کے اعضا اور تولیدی عمل کے معنی خیز ابواب نہیں مل سکے۔

1996ء کی ایک کتاب میں مجھے ایک خرگوش کا ایک غیر واضح خاکہ دیکھنے کو ملا، لیکن اسے دیکھ کر یہ معلوم کرنا مشکل تھا کہ آیا وہ نر ہے یا مادہ یا یہ اس کے وہ اعضائے تولید ہیں جس سے خرگوش اپنی نسل برقرار رکھ سکتا ہے۔ کسی کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس چھوٹے سے جانور کی واضح تصویر کیا طلبہ کے جذبات میں گدگدی پیدا کرے گی یا ان کے اندر جنسی میلان کا باعث بنے گی، میرے لیے یہ بڑی حیران کن بات ہے۔

شائستگی جسے مذہبی زبان میں شرم و حیا کا نام دیا جاتا ہے، کا زبردستی نفاذ لوگوں کیلئے شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ مثال کے طور پر سابق سینیٹر اور متحدہ مجلس عمل کے سابق صوبائی سکریٹری مولانا گل نصیب خان نے ان تشخیصی طبی آلات کی مذمت کی جن کے ذریعے خواتین کے جسموں کے اندر دیکھاجا سکے کیونکہ ”ہمارا خیال ہے کہ مرد الٹراساؤنڈ یا ای سی جی کے دوران خواتین کے جسم سے جنسی لذت پا سکتے ہیں“۔ مولانا کی پارٹی جب اقتدار میں تھی تو اس نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ خواتین طبی معائنے کے بہانے مردوں کو ورغلائیں گی، کے پی میں مرد ٹیکنیشنز اور ڈاکٹروں کے ذریعے خواتین کے الٹراساؤنڈ اور ای سی جی پر پابندی عائد کر دی جبکہ تربیت یافتہ خواتین بھی میسر نہیں تھیں۔

اگرچہ شرم و حیا سب پر لاگو ہوتی ہے، لیکن خواتین کو اس کا بہت زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ثقافتی طور پر، ’چھاتی‘ ایک ممنوعہ لفظ ہے اور اسی وجہ سے چھاتی کے کینسر کو آسانی سے ’بریسٹ کینسر‘ نہیں کہا جا سکتا۔ اس وجہ سے اس مرض کی ابتدائی مراحل میں تشخیص نہیں ہو پاتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں چھاتی کے کینسر کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس مرض میں مبتلا بیشتر خواتین اس کی تشخیص میں شرمندگی محسوس کرتی ہیں۔ صرف اس صورت میں جب درد ناقابل برداشت ہو جاتا ہے اور کینسر جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے لگتا ہے تو خاتون آخر کار کسی پر اعتماد کرتی ہے۔ اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بچہ دانی اور رحم کے کینسر کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی خواتین ہر سال مر جاتی ہیں لیکن بچہ دانی اور رحم ایسے نازک الفاظ ہیں کہ ان کا ذکر بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اس قدر معاشرتی پابندی کے ماحول میں کیا ہماری خواتین کو ڈاکٹر بننا چاہئے؟ یہ ایک عجیب سا سوال لگتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں 70 فیصد لڑکیاں ہیں۔ ہمارے ہاں ذہین لڑکیوں کو ان کے والدین بڑے شوق سے میڈیکل کالج داخلہ دلواتے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر ڈگری مکمل کرنے کے بعد مثالی دلہن بن کر اس پیشے کو بھول جاتی ہیں۔ بہر حال سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواتین اپنی محدود طبی معلومات کی بنا پر حقیقی ڈاکٹر بن سکتی ہیں؟ کیا انھیں کبھی مردانہ اناٹومی سمیت پورے انسانی جسم کا مطالعہ کرنے کی اجازت ہو گی؟ یا کیا خواتین ڈاکٹروں کو صرف کھانسی زکام کا علاج کرنا ہے یا پھر دایہ بننا ہے؟

وقت گزرنے کے ساتھ پی ٹی آئی کی مذہبی نگرانی میں قومی نصاب میں انسانی جسم سے متعلق ممنوعات مزید بڑھتی جائیں گی۔ آج بھی کوئی حکومتی عہدیدار آبادی کی منصوبہ بندی یا مانع حمل کے بارے میں کھلے عام بات کرنے کی جرات نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ ان موضوعات پر وہ چونک جائے یا اپنی بغلیں جھانکنے لگے۔ اگرچہ پاکستان میں ہر دو سال بعد اسرائیل کی ریاست جتنے افراد پیدا ہوتے ہیں، پھر بھی یہاں آبادی کی منصوبہ بندی کرنے والی وزارت کو بہت عرصہ ہوا ختم کر دیا گیا۔ اس کی جگہ ہر صوبے میں ایک مبہم اور غیر فعال سی تنظیم قائم کر دی گئی۔

اس تنظیم کو پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کہا جاتا ہے، یہ نام ہماری ’ثقافتی حساسیتوں‘ کو مدنظر رکھتے ہوئے رکھا گیا۔ اس نام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ممکن ہے خواہ تعداد میں ہم کتنے ہی زیادہ ہوں۔ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹوں پر دیدہ زیب گرافکس تو موجود ہیں تاہم متعلقہ مواد موجود نہیں کیونکہ حمل کو محدود کرنے کے طریقوں سے شرم و حیا کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انسانی نسلیں کس طرح پھیلتی ہیں یہ ایک گہرا قومی راز معلوم ہوتا ہے جسے اخفا میں رکھا جانا چاہئے۔ شاید ہم پاکستانی معاشرے کو اخلاق باختہ کر دیں گے اگر ہمیں یہ پتہ چل جائے کہ بچے کیسے عدم سے وجود میں آتے ہیں۔ خرگوش کی طرح بقائے نسل جاری رکھنا ٹھیک ہے لیکن خرگوش یہ عمل کیسے جاری رکھتے ہیں یہ جاننا ٹھیک نہیں۔

ہمارے علما کہتے ہیں کہ بنیادی جسمانی علم سے پردہ پوشی دماغوں کو صاف رکھتی ہے اور اس لئے ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت باقی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ تو پھر ہمارے یہاں انٹرنیٹ پر فحش ٹریفک اتنا بڑھ گیا کہ آخر کار پی ٹی اے نے فحش سائٹوں کو بلاک کر دیا۔ نومبر 2011ء تک انٹرنیٹ کیفے ان سائٹوں پر جانے کی مرکزی جگہیں تھیں مگر پابندی کے بعد فوری طور پر یہ منہدم ہوگئیں اور ان کے مالکان برباد ہو گئے۔ تاہم سنا ہے کہ اس ممنوعہ مواد کی ترسیل کے راستے بدل گئے ہیں پر کون جانتا ہے؟

شرم و حیا بچوں کا جنسی استحصال روکنا زیادہ مشکل بنا دیتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی کی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے چائلڈ پروٹیکشن مہم کا آغاز کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ تعداد میں بچوں کی پورن دیکھنے والے پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ طلبہ کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لئے اسکول کی سطح پر مہم چلائی جانی چاہئے۔

شیریں مزاری نے یقیناً بہت درست بات کہی۔ ان کی تجویز سے زیادہ بہتر طور پر بچوں کی حفاظت ممکن ہو سکتی ہے بجائے اس کے ہم بچوں کو جھولے جھلاتے رہیں اور ان کے قاتلوں اور جنسی شکاریوں میں اضافہ ہوتا رہے لیکن اس طرح کی تعلیمی مہموں میں بچوں کو بنیادی حیاتیاتی حقائق سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ مناسب اور نامناسب رویے کے درمیان فرق کر سکیں۔ یہ عمران خان اور شفقت محمود کی نظریاتی نگرانی میں قومی نصاب کمیٹی کی موجودگی میں کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟

شرم و حیا کے سرپرستوں کو جسمانی ساخت کے عکسی خاکے شرمناک لگتے ہیں اور اپنی ذات کے تحفظ کے لیے ہر اس اسکینڈل کو دبا دیتے ہیں جن میں ان کے ملوث ہونے کا شبہ پایا جائے۔ گزشتہ ہفتے ایک مدرسے کے طالب علم کے ساتھ اس کے استاد مفتی کی جنسی ویڈیو سامنے آئی تھی، جسے جعلی نہیں کہا جا سکتا، ابتدائی تفتیش کے بعد اس مفتی کو مدرسہ انتظامیہ نے برطرف کر دیا، تو اس پر کسی عالم دین نے شرعی سزا کا مشورہ نہیں دیا اور تمام مذہبی جماعتیں بھی خاموش رہیں۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک دنیا کے سب سے زیادہ قدامت پسند ممالک ہوتے تھے جبکہ پاکستان زیادہ آزاد اور نرم مزاج ممالک میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ صورتحال اب بدل گئی ہے۔ اس وقت پاکستان نہ صرف ریورس گیئر میں ہے بلکہ زیادہ تیزی سے قدامت پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں پی ٹی آئی کے نصاب تعلیم کے متاثریں جتنے مجہول اور جاہل ہوں گے، اس کی ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔

بشکریہ: ڈان

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔