نقطہ نظر

نیا پاکستان: عورت کے کپڑوں کا فیصلہ ریپسٹ کریں گے

فاروق سلہریا

وزیر اعظم صاحب، سلام۔

آپ نے ایک مرتبہ پھر خواتین کے ریپ کو پردے اور کپڑوں سے جوڑ کر یہ ثابت کیا ہے کہ نہ صرف آپ انتہا کے عورت دشمن ہیں بلکہ بے انتہا ’Insensitive‘ اور خطرناک بھی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم یہ بات ہے کہ آپ کی جہالت اور لا علمی انسان کو حیران کر دیتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب مدرسوں سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے ویڈیو لیک ہو رہے ہیں آپ ریپ کو کپڑوں سے جوڑ رہے ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں ہر سال بچوں کے ساتھ ریپ کے ہزاروں واقعات ہوتے ہیں، آپ ریپ کو کپڑوں سے جوڑ رہے ہیں۔

ایک ایسا ملک جس کی تاریخ میں 1947ء اور 1971ء کے ماس ریپ ہوئے تھے اور کئے گئے تھے، آپ ریپ کو عورت کے کپڑوں سے جوڑ رہے ہیں۔

بطور وزیر اعظم ملک کی خواتین شہریوں کی حفاظت کرنا، انہیں ریپسٹوں سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ کسی دن وقت نکال کر یہ بھی بتا دیجئے کہ نئے پاکستان میں عورت کس قسم کا لباس پہنیں تا کہ وہ ریپ سے بچ سکیں۔

جہاں تک میرا علم ہے، پاکستان میں خواتین کی اکثریت شلوار قمیض پہنتی ہے۔ کئی صدیوں سے وہ اس سے ملتا جلتا لباس پہن رہی ہیں۔ آپ کو منہ بولا بیٹا کہنے والے خونی آمر جنرل ضیا الحق کی آمریت کے بعد شہری آبادیوں میں برقعے اور حجاب کا چلن بھی عام ہوا ہے۔ کچھ شہری حلقوں میں بعض خواتین ہمت کر کے جینز اور ٹی شرٹ بھی پہن لیتی ہیں (تہران اور کابل میں جینز روزمرہ کا پہناوا ہے)۔ کسی دن وضاحت بھی کر دیجئے کہ ان سارے لباسوں میں کیا قابل اعتراض ہے؟ شلوار قمیض کی لمبائی؟ یا حجاب اور برقعے کا مختصر ہونا؟

دلچسپ بات ہے آپ ملک کو عالمی سیاحت کی منزل بنانا چاہتے ہیں۔ ویسے تو سٹریٹیجک ڈیتھ کی تلاش میں ملک کا جو حال ہوا ہے، کوئی ٹورسٹ اب پاکستان آنے کی جرات نہیں کرتا لیکن آپ کے بیان کے بعد معلوم نہیں مغربی ممالک کی کتنی خواتین پاکستان کا رخ کریں گی۔

خیر یہ تو ثانوی سی بات تھی جو کسی نے فیس بک پر لکھی تھی۔

میں آپ کی توجہ اپنے آبائی وطن جموں کشمیر کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ ہر مین اسٹیبلشمنٹی سیاستدان کی طرح آپ بھی کشمیر کے غم میں مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ آپ نے کنان اور پوشپورہ گاؤں کا نام تو سنا ہو گا۔ بھارتی افواج نے یہاں ماس ریپ کئے تھے۔ کسی بھی جنگی علاقے کی طرح، وادی میں ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔ جنگ کے دوران ماس ریپ کو جسٹیفائی کرنے کے لئے جنرل اے کے نیازی نے تو یہ فلسفہ بھی گھڑا تھا کہ جوان اپنی جنسی ضروریات کے لئے ڈھاکہ سے جہلم اور میانوالی نہیں جا سکتے۔ پوچھنا صرف یہ تھا کہ اگر کسی دن کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی خواتین سے زیادتیوں کو نریندر مودی نے یہ کہہ کہ جسٹیفائی کیا کہ بھارتی جوان روبوٹ تو ہیں نہیں، کشمیری خواتین کو فرن پہنے دیکھ کر ان پر ’Impact‘ ہوتا ہے…تو آپ کا کیا جواب ہو گا۔

جموں کشمیر کے علاوہ آپ امہ کے بھی چیمپیئن ہیں۔ یاد ہو گا کہ بوسنیا میں خواتین ماس ریپ کا نشانہ بنی تھیں۔ وہاں کی مسلمان خواتین تو ہماری پاکستانی عورتوں کی نسبت، اپنے کلچر اور انفرادی آزادی کے مطابق، لباس بھی ذرا مختصر پہنتی ہیں۔ اگر کسی دن سرب قوم پرستوں نے بوسنیا کی خواتین کے مختصر لباس کو ماس ریپ کا ذمہ دار قرار دیا تو معلوم نہیں آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

مجھے شرم اس بات پر بھی آ رہی ہے کہ ریپ اور لباس بارے آپ کے شرمناک اور جاہلانہ بیان کی وجہ سے میں اپنے نظریات کے برعکس عورت کے لباس کے مختصر یا طویل ہونے پر با ت کر رہا ہوں۔ عورت ہو یا مرد، وہ جو چاہے پہنے۔ مجھے نہ تو مغربی وضع قطع میں کبھی کوئی بے حیائی نظر آئی ہے نہ مشرقی۔ لباس کا تعلق کلچر اور شخصی آزادیوں سے ہے۔ یہ کہ میں اس انتہائی بنیادی اور بے معنی بحث میں الجھا ہوا ہوں، اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ جب آپ جیسا دانش اور علم سے عاری شخص اقتدار اور طاقت میں ہو تو بیانیہ کس قدر ’Banal‘ (طفلانہ) بن جاتا ہے۔ آپ چاہتے بھی یہی ہیں۔ ہر جاہل شخص، چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، منطق اور تہذیب سے خوف کھاتا ہے۔

یہ تہذیب کی نشانی ہے کہ عورت یا مرد بے لباس بھی ہوں تو محفوظ ہوں لیکن یہ بات آپ جیسے سیاسی و معاشی رجعت پرست کی سمجھ سے بالا تر ہے۔

آخر میں پوچھنا صرف یہ تھا کہ اگر پاکستان میں کوئی عورت اپنے اشتعال انگیز (Provocative) شلوار قمیض، حجاب یا برقعے کی وجہ سے ریپ کا شکار بن گئی تو نئے پاکستان میں سزا عورت کو دینی ہے یا ریپسٹ کو؟

رخصت چاہتا ہوں۔

فاروق سلہریا

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔