پاکستان

اختلاف رائے معاشرے میں دیر پا تبدیلی کی ضمانت ہے: بھارتی دانشور رومیلہ تھاپر

قیصر عباس

انڈیا کی معروف تاریخ دان رومیلہ تھاپر نے کہاہے کہ اختلاف رائے ہر معاشرے میں سماجی تبدیلی کی ضمانت ہوتاہے اور برصغیر کے ہر دور میں بحث و مباحثے کے ذریعے سماجی سدھار کے طریقوں کو اپنایا گیا ہے۔

انہوں نے واضع کیا کہ آج کے ہندوستان کا سیاسی ڈھانچہ، جس میں صرف مذہبی اکثریت ہی کوحکومت کرنے کا حق حاصل ہے، برصغیر کی قدیم روایات کے خلاف ہے۔ان کے مطابق ”ہرمعا شرے میں اختلاف رائے کے ذریعے ہی سماجی تبدیلی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے جس کے بغیر سماج وقت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔“

رومیلہ تھاپر،جو کئی مشہور کتابوں کی مصنف ہیں، حال ہی میں بی جے پی کی پالیسیوں پر تنقید کی پاداش میں زیر عتاب رہ چکی ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی کی ریٹائرڈ پروفیسرہونے کی حیثیت سے انہیں ریٹائرمنٹ کے علاوہ دیگر مراعات حاصل ہیں جن سے انہیں محروم رکھنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

وہ گزشتہ دنوں انڈین ڈائسپرہ،واشنگٹن ڈی سے کے زیر اہتمام ایک آن لائن مذاکرے میں ”اختلافِ رائے کے سماجی رویے“ کے عنوان پر مقالہ پیش کررہی تھیں۔ تنظیم کے روحِ روا ں رضی احمد رضی نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ پروفیسر رومیلہ تھاپر برصغیر کی تاریخ پر ایک مستند حوالہ ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر بھی ایک معتبر تاریخ دان کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اختلاف رائے کے تصور کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر تھاپر نے بتایاکہ ”اختلاف رائے کسی اہم مسئلے پر ردعمل کے طورپر سامنے آتا ہے اور اس کا اظہار ہمیشہ پرامن ہوتاہے۔ احتجاج اس کی اک دوسری صورت ہے جو ایک منظم طریقے سے تبدیلی کا مطالبہ کرتاہے۔“

انہوں نے کہاکہہ تاریخی طورپرہندوستانی تہذیب میں اختلاف رائے کی تین سطحیں دیکھی گئی ہیں۔ پہلی سطح پرمسئلے کے مخالفین کی رائے اہم ہوتی ہے۔ دوسری سطح پر مسئلے کے حمائتی دلائل کے ذریعے ا پنے موقف کا دفاع کرتے ہیں اور تیسرے مرحلے میں مسئلے کا حل تلاش کیا جاتا ہے جو باہمی تبادلہ خیال کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پیش کردہ مقالہ ان کی نئی کتاب”Voices of Dissent” کا حصہ ہے۔ یہاں ان کی تقریر کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے:

قدیم ہندوستان میں برہمن سماج نے اقتدارپر گرفت مضبوط رکھنے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کئے لیکن جین، بدھ مت اور دوسرے مذاہب نے اختلاف رائے کے ذریعے نئی راہیں استوار کیں۔ برہمن سماج نے، جو اعلیٰ ذات کی حاکمیت پر یقین رکھتا تھا، نئے مذاہب کو منکر (Heretic) قراردے کر انہیں سماجی دائرے سے نکال باہر کیا۔

مغلیہ دور میں ہندووں میں بھگتی اور مسلمانوں میں صوفی ازم کی تحریکیں مذہبی رجعت پسندی کے خلاف نئی آوازیں بن کر ابھریں۔ ان تحریکوں کوجب عوامی مقبولیت حاصل ہوئی توسیاسی مقاصد کے لئے انہیں شاہی سرپرستی میں لے لیا گیا جس کے نتیجے میں درگاہیں، خانقاہیں اور بھگتی تحریک کے مراکز کو مزید استحکام حاصل ہوا۔

پنجاب میں صوفیوں اور بھگتی تحریکوں کے درمیان خاصی ہم آہنگی اور تعاون بھی دیکھنے میں آیا۔ان تحریکوں کے نتیجے میں، جو معاشرے میں کٹر مذہبی رویوں کے خلاف ردعمل کے طورپر سامنے آئیں، ہندو اور مسلمان دونوں مذاہب میں کچھ تبدیلیاں ضرور آئیں لیکن اس وقت تک سماج میں نسلی اور مذہبی رواداری جڑپکڑ چکی تھی۔

برطانوی سامراج نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو یہاں کی مذہبی روایات کو جدید جہتوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اصلاحات کو ہوا دی جس کے نتیجے میں برہمہ سماج اورآریہ سماج جیسی تحریکوں کو فروغ دیا گیا۔ آریہ سماج نے برہمن رجعت پسندی کی شدید مخالفت کی اور ایک نئے یوٹوپیائی(تصوراتی) سماج کی تشکیل پر زور دیا لیکن اس کا بنیادی مقصد سماج کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ اس میں اصلاحات کرنا تھا۔

سامراجی تسلط کے خلاف تحریک آزادی میں مہاتما گاندھی نے اختلاف رائے کی ایک نئی روش کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کی فلسفیانہ اساس دو تصورات پرمبنی تھی۔ دھرنا اختلاف رائے کی سیاسی شکل تھی جس میں عوامی شمولیت کے ساتھ آزادی اور حق خودارادیت کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری جانب ستیہ گرہ کی حکمت عملی کے تحت پرامن احتجاج کو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ستیہ گرہ کو Passive Resistance بھی کہا جاتا ہے جو برطانوی سامراج سے نجات حاصل کرنے کی ایک موثر حکمت عملی ثابت ہوئی۔

آزادی کے بعد قومیت کی تشکیل کے دو نظریات سامنے آئے۔ ایک جانب سیکولر جمہوریت پر مشتمل نظام کا قیام جہاں اقلیتوں کے حقوق تسلیم کئے جائیں اور دوسری جانب مذہبی اکثریت کو حکومت اور اقتدار کاواحد حق دار قراردیا گیا۔

پاکستان میں تو شروع ہی سے مذہبی اکثریت کی حاکمیت عروج پررہی مگر آج ہندوستان میں بھی اسی حکمت عملی کو فوقیت حاصل ہوگئی ہے جس میں بی جے پی کی سیاست اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کو اہم نہیں سمجھتی۔اس طرح بر صغیر کے دو بڑے ملکوں میں سیکولر جمہوریت کے بجائے، جس میں مذہب اور سیاست کو الگ خانوں میں رکھا جائے، صرف اکثریت کو حقوق حاصل ہیں اور تمام نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق تو ایک طرف، ان کے وجود ہی سے انکار کیا جاتا ہے۔

پروفیسر رومیلہ تھاپر نے اس تاریخی تجزیے کے ذریعے ثابت کیا کہ اختلاف رائے کو استعمال کرتے ہوئے ہر عہد میں معاشرے نے بہتر سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی راہیں تلاش کیں۔ اختلاف رائے اگر ماضی میں معاشرے کے ارتقاء کی ضمانت تھا تو آج بھی ہر جگہ جمہوریت کا بنیادی اصول ہے۔

پروفیسر رومیلہ جیسی معروف دانشور کے اس تجزیے سے برصغیر میں اختلاف رائے کی تاریخی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن جدیدیت کے اس دور میں بھی کہیں تشدد، کہیں اظہاررائے پر بندشوں اور کہیں اقلیتوں کے حقوق پامال کرکے متبادل سوچ رکھنے والوں کی زبان بندی کی جارہی ہے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ اختلاف رائے کے راستوں کو بندکرکے ہر معاشرہ شعوری اور اخلاقی پس ماندگی کے اندھیروں میں تو بھٹک سکتاہے، مستقبل کے اجالوں کو نہیں پا سکتا۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔