خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: مریم نواز کے جلسے سب سے بڑے مگر ن لیگ الیکشن نہیں جیت پائے گی

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں انتخابات کی مہم عروج پر ہے۔ پاکستان کی تینوں حکمران جماعتوں کی قیادت پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں موجود ہے اور جلسوں کی بھرمار ہے۔ تاہم جلسوں میں جتنی مقبولیت ابھی تک مریم نواز شریف کو ملی ہے اتنی کسی اور لیڈرکو نہیں مل سکی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی کچھ حلقوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے، پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین بھی اس انتخابی مہم کا حصہ ہیں، وفاقی وزیرا مور کشمیر اور تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور سمیت دیگر قائدین بھی انتخابی مہم میں مصروف اور جلسوں سے خطاب کر رے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم پاکستان اور سربراہ تحریک انصاف عمران خان کی آمد ابھی نہیں ہوئی ہے۔ عمران خان نے بھی تینوں ڈویژن میں ایک ایک جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کو امید ہے کہ وہ مریم نواز کی نسبت زیادہ بڑے جلسے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

مریم نواز تمام حلقوں میں جلسوں سے خطاب کر رہی ہیں اور ہر جلسہ میں ہزاروں کی تعداد میں مجمع جمع ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے حمایتی دانشوروں سے کارکنان تک ان جلسوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مسلم لیگ ن انتخابات میں بھی بھاری اکثریت حاصل کرے گی اور مریم نواز کے جلسوں کے ثمرات ووٹوں کی صورت میں امیدواران کو ملیں گے۔

مریم نواز کے جلسوں کے بڑے اجتماعات کا پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونیو الے ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران ہونے والے جلسوں سے موازنہ کرتے ہوئے نتائج کی توقع لگائی جا رہی ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے انتخابات کے جلسوں کا موازنہ پاکستان کے ضمنی انتخابات سے کرنے کی بجائے اگر گلگت بلتستان کے انتخابات سے کیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ گلگت بلتستان میں بھی مریم نواز اور بلاول بھٹو نے بڑے جلسہ کئے تھے لیکن نتائج اس کے برعکس رہے ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے انتخابات میں ہمیشہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت کی کامیابی یقینی رہی ہے لیکن یہ کامیابی وفاق میں برسر اقتدار جماعت کی مقبولیت کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے پری پول دھاندلی کا ایک بڑا عنصر شامل رہتا ہے۔ برسر اقتدار اور ماضی میں برسر اقتدار رہنے والی جماعتوں سے الیکٹیبلز کو شامل کر کے ہی وفاق میں برسر اقتدار جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی آئی ہے اور اس کے ساتھ وفاقی وزرا کی جانب سے بڑے پیمانے پر وعدے اور اعلانات بھی اس کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس خطے کے ہر حلقہ انتخاب میں 2 سے 3 ایسے الیکٹیبلز موجود ہیں جو کسی ایک مخصوص قبیلے، برادری، علاقے یا دولت و طاقت کی بنیاد پر بڑے ووٹ بینک پراثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ الیکٹیبلز عمومی طور پر وفاق میں برسر اقتدار جماعت میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، ایک مخصوص ووٹ بینک اپنا ہونے کی وجہ سے انہیں پاکستان کی وفاقی حکومت کی مدد اور حمایت درکار ہوتی ہے تاکہ وہ انتخابات میں باآسانی کامیابی حاصل کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر حلقہ جات میں وہی 2 یا 3 الیکٹیبلز مسلسل اقتدار میں رہتے ہیں اور کچھ حلقوں میں ایک ہی الیکٹیبل لمبے عرصے سے اقتدار میں اس لئے رہتا ہے کہ وہ ہر حکومت کے اختتام کے قریب وفاق میں برسر اقتدار پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے۔

یوں مریم نواز کے بڑے جلسے کرنے کے باوجود چند ایک الیکٹیبلز کی بنیاد پر اس خطے میں مسلم لیگ ن کا کامیاب ہونا اور اقتدار میں آنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ تجزیہ نگار مسلم لیگ ن کو تیسرے نمبر پر دیکھ رہے ہیں اور جلسوں کی وجہ سے اگر ووٹ بینک میں کچھ اضافہ ہو بھی گیا تو بمشکل پیپلز پارٹی سے دوسرا نمبر چھینا جا سکے گا۔

پاکستان کے زیر انتظام سابق شاہی ریاست جموں کشمیر کے دونوں خطوں میں ہونے والے انتخابات کبھی بھی آزادانہ اور منصفانہ بنیادوں پر نہیں ہوئے ہیں، سامراجی جبر اور فوجی قبضے کے زیر سایہ کبھی بھی منصفانہ انتخابات ہو نہیں سکتے۔ محنت کش طبقہ کی 50 فیصد تعداد انتخابی سیاست میں ووٹ دینے کی حد تک شریک ضرور ہوتی ہے لیکن یہ شرکت زیادہ تر ماضی کے تعصبات کی ہی بنیاد پر ہوتی ہے، 50 فیصد کے قریب رائے دہندگان خواتین کی آبادی پر مشتمل ہیں جن کی خاندان، کنبے اورقبیلے سے باہر آزادانہ سیاسی حیثیت آج تک قائم ہی نہیں ہو سکی ہے۔ اسطرح خواتین عموماً سربراہ کنبہ کے کہنے پر انہی تعصبات کی بنیاد پر بننے والے تضادات کے ضمن میں ووٹ کی رسمی کارروائی ادا کرتی ہیں۔

گو کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نواز کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے پاکستان اور اس کے زیر انتظام علاقوں کی عوامی پرتوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن ادھوری بیان بازی اور نعرے زیادہ دیر تک محنت کش عوام کو بہلا نہیں سکتے۔

’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کے پیچھے وہی سامراجی معاشی پالیسیاں ہیں، وہی ریاستی جبر اور دھونس ہے، آزادی اظہار رائے پر قدغنیں اور جمہوری آزادیوں پرپابندیاں ہیں۔ وقتی طور پر لبرل اور بائیں بازو کی کچھ پرتوں نے بھی مریم نواز اور نوازشریف سے کچھ توقعات وابستہ کی ہیں، تاہم حکمران طبقہ کے اس دھڑے کی کسی بھی وقت ریاست کے ساتھ ممکنہ ساز باز کے نتیجے میں یہ تمام تر توقعات ہوا میں تحلیل ہو جائیں گی۔ تاہم پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بڑی بورژوا پارٹی کی نمائندہ مریم نواز نے قوم پرست سیاست کا پاپولر بیانیہ اپنا کر قوم پرستی کی سیاست پر بھی گہری چوٹ لگائی ہے۔ مریم نواز نے اپنے والد اور والدہ کے کشمیری النسل ہونے اور ’بچہ بچہ کٹ مرے گا، کشمیر صوبہ نہیں بنے گا‘، ’نعرہ کشمیر، جئے کشمیر‘ جیسے نعرے لگا کر سرمایہ دارانہ قومی ریاست کی حقیقی نمائندہ کے طور پراپنے آپ کو متعارف کروایا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں بدترین نو آبادیاتی طرز حکمرانی اور فوجی قبضے کے برقرار رہتے ہوئے کوئی بھی اقتدار میں آ جائے اس خطے کے 45 لاکھ سے زائد باسیوں کے مقدر تبدیل نہیں ہونگے، بلکہ ماضی کی طرح اس خطے کے وسائل کے ساتھ مزید کھلواڑ ہو گا، اس خطے کے محنت کشوں کا استحصال مزید بڑھے گا، اس خطے کے ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کو مزید برباد کیا جائے گا۔ اس خطے کے باسیوں کے مقدر بدلنے کی اہلیت اور صلاحیت صرف اور صرف اس خطے کے محنت کشوں کے پاس ہی ہے، جو طبقاتی بنیادوں پر پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کے ساتھ جڑأت کے ذریعے اس خطے سے سرمایہ دارانہ حاکمیت اور استحصال کی ہر شکل کے خاتمے کے ذریعے سے اپنے مقدر بدل سکتے ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔