تاریخ

جوہر میر: مزاحمتی شاعری کا گم شدہ سپاہی!

قیصر عباس

یہ مئی 1980ء کی بات ہے جب جنرل ضیا الحق کی رعونت اس کے تما م مظالم کے ساتھ عروج پر تھی۔ پشاور سے دو دوست جن میں سے ایک مشہور صحافی اور دوسرا پی ٹی وی کا پروگرام پروڈیوسر، نقل مکانی کے ارادے سے، خفیہ ایجنسیوں سے بچتے بچاتے کراچی پہنچتے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ 19 مئی کو ا ئر فرانس کی فلائیٹ اڑنے سے پہلے تک انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ نیو یارک پہنچ سکیں گے کیونکہ دونوں کو اس سے پہلے آمریت کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ خفیہ ایجنسیوں کی نظر میں تھے۔

ان میں سے ایک معروف مزاحمتی شاعر جوہر میر اور دوسرے پی ٹی وی پروڈیوسر عتیق صدیقی تھے۔ جوہر میر تو تقریباً چوبیس سال تک نیو یارک میں رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ عتیق بے نظیر کی حکومت بننے کے بعد پاکستان گئے، پی ٹی وی پشاور میں پروڈیوسر کی حیثیت سے بحال کر دئے گئے اور جنرل مینیجر کے عہدے تک پہنچے۔ بعدمیں وہ واپس امریکہ آ گئے اور اب بھی وہیں رہتے ہیں۔ جوہر میر، جو پیشے کے اعتبار سے صحافی تھے، اس دوران مزاحمتی شاعر کی حیثیت سے مقبول ہوئے۔

کہا جا سکتا ہے کہ مزاحمتی شاعری برصغیر کے مزاج میں رچی بسی ہے۔ تحریک آزادی میں یہ مزاحمتی شاعری ہی تھی جس نے شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی اور دوسرے مقبول شعرا کی آوازوں میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کی اور برطانوی سامراج سے نجات حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔ آزادی کے بعد پاکستان میں مزاحمتی شاعری نے اپنے ہی حکمرانوں اور آمروں کے جور و ستم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے عوام کے دکھوں کو آشکار کیا۔

لیکن ادبی جریدوں اور میڈیا میں فیض احمد فیض، حبیب جالب اور احمد فراز جیسے مشہور شعرا کے علاوہ دوسرے مزاحمتی شعرا کا ذکر بہت کم نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے ادبی منظر نامے میں بڑے شہروں کے بڑے شعرا کے علاوہ چھوٹے صوبوں سے نکلنے والی مزاحمتی آوازوں پر بہت کم توجہ دی گئی۔ معروف شعرا کی معیاری شاعری سے قطع نظر جنوبی پنجاب، ہزارہ، پوٹھوہار، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے شعرا، جنہوں نے پوری زندگی آمروں کے خلاف ادبی جہاد جاری رکھا، مین سٹریم میڈیا میں شاز و نادر ہی نظر آتے ہیں۔

جوہر میر بھی ان شعرا میں سے ایک ہے جسے میڈیا اور ادبی تصانیف میں بہت کم جگہ دی گئی۔ وہ صرف شاعر نہیں تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک صحافی تھا اور ادبی نقطہ نظر سے وہ ناول نگار، افسانہ نویس، نثر نگار، کالمسٹ اور سیاسی تجزیہ نگار بھی تھا۔ جوہر کا تعلق پشاور کے دانشوروں کی اس نسل سے تھا جس نے ملک کی بد ترین آمریت کے خلاف قلم کے سہارے آوازِ حق بلند کیا اور اس کے لئے صعوبتوں کا سامنا بھی کیا۔ ان کے ہم عصر دوستوں میں پشاور کے معروف دانشور احمد فراز، خاطر غزنوی، رضا ہمدانی، مرتضیٰ ملک، قمر عباس اور محسن احسان سر فہرست تھے۔

ان کے قریبی ساتھی عتیق احمد صدیقی کے مطابق ”جوہر میر کی زندگی کی کہانی اس طویل اور صبر آزما جنگ کی کہانی ہے جو پاکستان کے ترقی پسند قبیلے کے سر فروشوں نے اپنے وطن کے مزدوروں، کسانوں اور طالب علموں کے کندھے سے کندھا ملا کر لڑی۔ یہ جنگ جب تک جاری رہے گی ظلم کے خلاف لڑنے والے ہر اؤل دستے کی داستان حیات ایک تندو تیز اور مست و الست ندی کی طرح نت نئے موڑ تو کاٹتی ر ہے گی مگر ختم نہ ہو گی۔“

جوہر میر نے ایک ترقی پسند ادیب و صحافی ہوتے ہوئے اس وقت کی سب سے ترقی پسند جماعت پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا۔ وہ ایک عرصے تک پشاور میں روزنامہ مساوات کے بیورو چیف رہے۔ وہ اپنے دور کے سب سے متحرک اور باشعور دانشور تھے جن کی نظریاتی وابستگی اور پارٹی سے کمٹمنٹ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ جوہر میر خیبر یونین آف جرنلسٹ کے صدر بھی رہے۔

عتیق صدیقی نے اس مقالے کی تکمیل کے دوران ایک خصوصی انٹرویو میں مجھے بتایا کہ وہ اکثر ٹی وی میں ان کے دفتر آتے اور اس دوران ان کی دوستی صوبے کے گورنر نصراللہ خٹک سے بھی تھی اور وہی ان کی تقریریں بھی لکھتے تھے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق اور جنر ل ضیا الحق (جنہیں وہ ہمیشہ ضیاع الحق لکھتے) کے خلاف نعرہ حق بلند کرنے کی پاداش میں انہیں گرفتار کر کے دو مرتبہ قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ وہ لاہور، سکھر، حیدرآباد اور کراچی کی جیلوں میں اسیر رہے۔ لیکن اسیری کے باوجود آمرانہ طرز حکومت کے خلاف ان کی جدوجہد بلا خوف وخطر جاری رہی۔

1980ء میں خفیہ اداروں نے رات دن ان کاپیچھا کرنا شروع کیا۔ ایک بار پھر انہیں گرفتار کرنے کی خبر یں گردش کرنے لگیں اور کہا جانے لگا کہ اس بار ان کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دوستوں کے مشورے پر جوہر اپنے دوست عتیق کے ساتھ، جو پہلے ہی پی ٹی وی سے فارغ کر دئے گئے تھے، 20 مئی 1980ء کو امریکہ جلا وطنی پر مجبور ہو گئے۔ اگرچہ جوہرپر سخت نگرانی تھی لیکن ان کے پاسپورٹ پر ان کا اصلی نام میر قربان علی درج تھا جس کی بنا پر وہ ایجنسیوں کو چکمہ دے کرملک سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

نیو یارک میں ان کا چھوٹا سا اپارٹمنٹ ادبی محفلوں کا مرکز تھا جہاں ہر پیر کے دن صحافی، شعرا، مصنفین اور ترقی پسند جمع ہوتے۔ معروف مزاحیہ شاعر ضمیر جعفری بھی نیو یارک میں قیام کے دوران اس محفل کا حصہ رہے اور ہمیشہ اس اپارٹمنٹ کو ’حجرہ میر‘ کہا کرتے تھے۔ قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ضمیر جعفری جنرل ضیا الحق کے بھی بہت قریب تھے لیکن جوہر میر کے دوستوں میں شامل تھے۔ شاید اس زمانے میں دوستی سیاسی وابستگیوں سے زیادہ اہم تھی۔

جوہر میر ایک یار باش اور مجلسی شخصیت تھے۔ ہر شام کو شاہین ریسٹورانٹ میں محفل جماتے جس میں نیو یارک کے ادیبوں، شاعروں کے علاوہ عام لو گ بھی شریک رہتے۔ جوہر میر نے نثر اور نظم دونوں اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ اس دوران انہوں نے کئی کتابیں شائع کیں جن میں شاعری کے دو مجموعے ’قم باذنی‘ اور ’روزن روزن آنکھیں‘، دو ناولٹ ’رنج رائیگاں‘ اور تنہائی کا زہر‘ بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سیاسی تجزیوں پر مشتمل تین کتابیں (مہاسپہ، سیاہ سیات اور امریکہ عراق جنگ)، اخباری کالم اور افسانوں کا مجموعہ ’زباں بریدہ‘ بھی ان کی نگارشات کا حصہ ہیں۔

اپنی تمام مصروفیات کے باوجود اانہوں نے نیویارک سے ادبی مجلہ ’زاویہ‘شروع کیا جو معیار کے اعتبار سے ہندو پاک کے کسی ادبی جریدے سے کم نہیں تھا۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے دوستوں کی کاوشوں سے ’زاویہ‘ ایک عرصے تک شائع ہوتا رہا۔

انہوں نے پشاور ٹی وی کے لئے ہندکو اور اردو میں بے شمار ڈرامے بھی لکھے۔ ان کا مشہور اردو ڈرامہ ’ایک تھا گاؤں‘ ملکی سیاست اور سماجی مسائل کا عکس تھا جسے پشاور ٹی وی نے تخلیق کیا اور قومی سطح پر نشر کیا گیا۔ لیکن ان کی وجہ شہرت شاعری ٹھہری جس کی وجہ ان کا باغیانہ انداز تھا جو دوسرے ہم عصر شعرا سے بہت مختلف تھا۔

وطن سے دور رہتے ہوئے بھی جوہر میرنے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ نیو یارک میں 24 سالہ قیام کے دوران انہوں نے ایک ہوٹل میں رات کی ملازمت کی۔ رات کو چونکہ آمد و رفت کم رہتی تھی، انہیں لکھنے پڑھنے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے باوجود ملک میں کوئی عہدہ قبول کرنے کے بجائے انہوں نے نیو یارک میں رہنے پر ترجیح دی۔ زندگی کے آخری دنوں میں وہ کینسر کے موذی مرض میں گرفتار رہے اور دسمبر 2004ء میں وہ اس دنیا کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے۔ ان ہی کے شہرکے ایک دانشور قمر عباس انہیں کچھ اس طرح خراج عقیدت پیش کرتے ہیں:

”جوہر میرآج ہم میں نہیں رہا، لیکن وہ اس وقت تک زندہ رہے گا، جب تک اس ملک میں ایک بھی باضمیرصحافی زندہ ہے۔

وہ چاہتا تو اپنا قلم بیچ کر کروڑوں روپے کما سکتا تھا۔ وہ بھی لفافوں سے اگنے والے کالم لکھ کر پاکستان میں سکھ چین سے رہ سکتا تھا۔ وہ بھی ایجنسیوں کا پسندیدہ کالم نویس بن کر سارے اخباروں میں چھپ سکتا تھا۔ وہ بھی اسٹیبلشمنٹ کا پروردہ اخبار نویس بن کر بڑے بڑے اخبارات میں نوکریا ں پکی کر سکتا تھا لیکن اس نے اپنے لئے مشکل راستے کا انتخاب کیا۔ یہ راستہ مصیبتوں، تکلیفوں، آزمائشوں کا راستہ تھا اور اس کے لئے منصور کا جگر چاہئے۔ وہ مرنے سے پہلے بھی ایک بڑا انسان تھا اور مرنے کے بعد بھی ایک بڑا انسان رہا۔“

ان کی مزاحمتی شاعری کا جائزہ لینے سے پہلے یہ طے کرلیا جائے کہ دراصل مزاحمتی شاعری کا مفہوم اور اس کی اہمیت کیا ہے؟

اختلافِ رائے، احتجاج اور مزاحمتی شاعری

بھارتی تاریخ دان رومیلہ تھاپر کے نزدیک اختلاف رائے ہر سماج میں دیرپا تبدیلی کی بنیاد ہے جس سے نہ صرف معاشرے کی اکائیاں مسائل کو زیر بحث لاتی ہیں بلکہ اس کے ذریعے اختلافات کی حدوں کو پار کر کے اپنے تعلقات کوبہتر بھی بناتی ہیں۔ اپنی نئی کتاب’اختلاف رائے کے انگ‘ (Vioces of Dissent) میں انہوں نے اس تصور کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ سماجی ختلاف رائے ہمیشہ پرامن اور کسی ایک اہم مسئلے پر اظہار رائے کی شکل میں ہوتاہے۔

ان کے نزدیک اختلاف رائے اور احتجاج دو الگ تصورات ہیں۔ احتجاج دراصل اختلاف کی اگلی کڑی ہے جہاں لوگ منظم ہوکرایک نقطہ نظر کی مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن اختلاف رائے منظم نہیں ہوتاجو انفرادی یا اجتماعی تنقید کے زمرے میں آتا ہے۔ مصنفہ کے نزدیک تاریخی طور پر برصغیر میں سماجی اختلاف کو تین مرحلوں میں طے کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں کسی مسئلے پر اختلافی نقطہ نظر کو بغور سنا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں دوسروں کے خیالات اور اعتراضات کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور تیسرے مرحلے میں باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔

مزاحمت معاشرے میں اختلاف رائے اور احتجاج کی آخری شکل ہوتی ہے جس میں لوگ کسی پالیسی یا نظریے کی مخالفت کرتے ہیں۔ مزاحمت یا سیاسی ہوسکتی ہے یا ثقافتی۔ سیاسی مزاحمت پرامن بھی ہو سکتی ہے اور پر تشدد بھی جو اکثر مظاہروں اور عوامی تحریکوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں عوام کو پرامن احتجاج اور اپنا حق رائے دہی میڈیا او ر سیاسی اجتماعات میں استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

ثقافتی مزاحمت (Cultural Resistance) کا اظہارکئی صورتوں میں ہوتا ہے جس میں صحافت، ادب، موسیقی، آرٹ، ادب یاشاعری کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقے طاقتور اشرافیہ کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور گھٹے ہوئے ماحول میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنی کتاب’کمزور طبقوں کے ہتھیار‘ (Weapons of the Week) میں جیمز سی سکاٹ ثقافتی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے مزاحمتی شاعری کو ’پبلک ٹرانسکرپٹ‘یا عوامی مسودے کا نام دیتے ہیں۔ اس طریقہ کارمیں میں پوشیدہ معانی، لسانی بھول بھلیوں، تشبیہات اور لوک کہانیوں کے ذریعے ایسے اشارے و کنائے استعمال ہوتے ہیں جن کے بیک وقت کئی معانی بھی نکالے جاسکتے ہیں۔ اس طرح یہ طرز بیان طاقتور حاکموں کو براہ راست چیلنج کرنے کے بجائے بالواسطہ ظلم اور استبداد کو عیا ں کرتا ہے مگر ڈھکے چھپے انداز میں۔ مزاحمتی شاعری معاشرے کی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کے خلاف عوامی ردعمل کا ایک دانشورانہ اظہار ہے۔

فلسطینی نژاد امریکی دانشورایڈورڈ سعید (1935-2003ء) کے مطابق سیاسی جدوجہد کے دوران کلچر کمزور طبقات کی بقا کے لئے مزاحمت کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے: ”لیکن ثقافتی مزاحمت کا ایک اور پہلو بھی ہے: حالات کا تجزیہ کرنے کی طاقت، برسر اقتدار طبقے کے جھوٹ کو افشا کرنے کی صلاحیت، اس کی طاقت پر سوالات اٹھانے اور ایک متوازی بیانیہ کا اجرا۔ یہی ثقافتی مزاحمت کے ہتھیار ہیں۔“

ایڈورڈ سعید اپنی تصنیف ’ثقافت اور مزاحمت‘ (Culture and Resistance) میں اپنے اس موقف کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے فلسطینی شاعر محمود درویش کا حوالہ بھی دیتے ہیں: ”درویش دراصل عرب دنیا کے عظیم شعرا میں سے ایک ہیں۔ عرب شاعر کی حیثیت سے انہیں وہی مقام حاصل ہے جو جنوبی ایشیا میں فیض احمد فیض کوحاصل تھا۔ ہزاروں لوگ درویش کی شاعری سننے کے مشتاق رہتے تھے۔“

پاکستان میں آزادی کے بعد سے اب تک زیادہ تر آمرانہ طرز حکومت کے ذریعے ہی سیاست آزمائی گئی ہے۔ اس سیاسی گھٹن میں مزاحمتی شاعری خاصی مقبول ہوئی جس کے ذریعے طاقتور حکمرانوں کو چیلنج کیا جاتا رہا اور لوگوں کے دکھوں کی بات کی گئی۔ مقبول شعرا کو ہر آمر نے کبھی قانونی اور کبھی متشدد حربوں سے ہراساں کرنے کی کوشش کی اور انہیں اسیر کئے رکھا۔

نوشین علی اپنے تحقیقی مقالے ’Poetic Reflection and Activism in Gilgit-Baltistan‘ میں گلگت بلتستان میں جاری فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف مزاحمتی شاعری کے اہم کردار کا احاطہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ علاقائی ہم آہنگی کے لئے مقامی حلقہ ارباب ذوق کا ایک مثبت کردار تھا۔ مشاعرے یہاں بھی عوامی مقبولیت کے حامل ہیں جن کے ذریعے شاعروں نے نہ صرف مذہبی تعصب پھیلانے پر حکومت کی بھرپور مخالفت کی بلکہ علاقائی امن کو بھی فروغ دیا۔ ایک مقامی سکول ٹیچر اور شاعر رحمان جوش نے اس صورت حال کو اپنی ایک مقبول نظم میں کچھ اس طرح بیان کیا:

نیا اک کربلا ہے شہر میں کیوں؟
مسلماں بے نوا ہے شہر میں کیوں؟
اسی کا گھر جلا ہے شہرمیں کیوں؟
یہ ماتم سا بپا ہے شہر میں کیوں؟
نیا اک کربلا ہے شہر میں کیوں؟

جوہر میر کی مزاحمتی شاعری

رضا ہمدانی جوہر میر کے شعری مجموعے’قم باذنی‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

”مزاحمتی ادب کی بنیاد ترقی پسند مصنفین نے ڈالی۔ 1935ء میں لگایا گیا یہ پوداآج ایک عظیم سایہ دار درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جوہر میر چھتنار کی ایک شاخ ہے اور اسی تحریک کا ایک جیالا رکن جس نے ماضی کے اندھیروں میں چراغ روشن کرکے اپنا انسانی فرض پورا کیا، اپنے سماج نے اسے جو کچھ دیا تھا اس احسان کا قرض چکانے کی اس نے سعی بلیغ کر کے حقیقی معنوں میں بشر ہونے کا ثبوت فراہم کیا“۔

جوہر میر کے نزدیک غزل کی پرانی روایات عہدجدید میں ایک نئے روپ میں سامنے آئی ہیں جہاں محبوب کی شان میں قصیدوں کی گنجائش بہت کم ہے اور نئے حالات سے نبرد آزما ہونے کا عزم غزل کا نیا چہرہ ہے۔ یہاں وقت کے حاکموں کے خلاف آواز اور نظام سے بغاوت ہی نئے دور کی غزل کے خدوخال ہیں۔ ان کے بقول:

میر جی غزل گوئی اب کہاں غزل گوئی
یہ مگر بغاوت کی ایک نئی روایت ہے

اپنے اس اعلان کی تائید میں ان کی غزلوں کے نئے اسلوب چار جانب بکھرے ہوئے دکھوں اور غموں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے غزل کی کلاسک بنت، روانی، تخیل اور ترنم کو دامن سے نہیں جھاڑتے بلکہ ان ہی روایتوں کی زمین میں خیال کے نئے بیج بوتے ہوئے کہتے ہیں کہ سوچ کے دریاؤں میں بہتے پانیوں کی بوندیں اگر نایاب ہو جائیں تو سمجھو کہ اس میں اجتماعی غرقابی کے آثار ہیں:

جتنے دریا ہیں گرفتار ہیں پایابی کے
لوگ کہتے ہیں یہ آثار ہیں غرقابی کے

اسی غزل کے دوسرے اشعا ر بھی پیرایہ اظہار کے نئے زاویوں کی تشریح کرتے ہوئے اردگرد کے ماحول میں انصاف کے تقاضوں کوچیلنج کرتے ہیں۔ منافرتوں کی زمین میں بوئے ہوئے پودوں میں خرابی کے آثار دریافت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اب کسی اور عدالت سے سزا دلواؤ
ہم گنہگار ہیں انصاف سے سرتابی کے

نفرتیں بو کے کیے جاتے ہیں صحرا دریافت
نوحے دریاؤں میں جاری ہوئے بے آبی کے

میر کی مزاحمت اپنے سماج اور لوگوں سے نہیں، اس کے آمروں سے ہے جنہوں نے وطن کی مٹی کو سوائے خزاں کے اور کچھ نہیں دیا۔ یہاں اب درختوں سے پتے ہی نہیں، فضاؤں سے دھوپ بھی جھڑنے لگی ہے:

پتوں کے ساتھ دھوپ بھی جھڑنے لگی ہے اب
جشن خزاں کے تعزیہ بردار سے کہو

شاعر اسی غزل کے ایک اور شعر میں حکمرانوں کے جبر کا ایک اور منظر پیش کرتاہے۔ خوف کی آندھیوں نے اظہار کے تمام راستوں کو اس انداز میں روک دیا ہے کہ اب دل کی بات صرف دیواروں سے کہی جاسکتی ہے:

ٹڈی نے چاٹ لی ہے سماعت کی فصل بھی
اب دل کی بات بھی کسی دیوار سے کہو

رضا ہمدانی جوہر میر کی شاعری کو ان کی زندگی بھر کی جدوجہد اور ایام اسیری کی دین سمجھتے ہیں: ”جوہر میر چونکہ وقت کی تپتی بھٹی میں پک کر طلائے تاب بن چکاہے اس لیے قیدو بند کی کٹھنائیاں، جلا وطنی کی عزت، جبری بیروزگاری کے دکھ، ان کٹھن مراحل نے اسے پختہ کار سیاسی اور سماجی ذہن دیاا ور پھر اس نے اسی پس منظر میں ایک کومیٹڈ فرد کی طرح سوچا اور اپنے تجربے کے کینوس پراس نے جو گل بوٹے بنائے وہ کاغذی پھول نہ تھے بلکہ اپنی جانفزا نکہت سے مشام عالم کو معطر کر گئے، حساس ذہن کی غزل راست گوئی کی مشعل بن کر روشنی بکھیرتی رہی۔“

سکھر جیل میں 1978ء میں لکھی گئی ایک غزل میں مزاحمت کا یہی پرتونئے رنگوں میں ڈھل کر کچھ اور عیاں ہو چلا ہے۔ یہاں شاعر کو زندان کی دیواروں میں قید سناٹوں کے درمیان بھی باہر کی چیخیں صاف سنائی دے رہی ہیں:

کان دیواروں کے تھے اور سماعت میری
مجھ کو سناٹوں کی ہر چیخ سنائی دی ہے

قید تنہائی کی راتوں میں جب کبھی در زنداں پہ دستک سنائی دیتی ہے تو اسیر کو یقین نہیں آتا کہ کوئی اس کے لئے پیغام اجل لے کر آیا ہے یا کسی یار غار سے ملنے کی امید:

قاصدِ جاں ہے کہ پیغامِ ملاقات کوئی
میر دروازے پہ دستک سی سنائی دی ہے

جہاں میر نے غزل کو نئے معانی دئے وہاں انہوں نے جدید نظم کو بھی ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ ان کی ایک نظم’زنداں میں چاند گرہن کی ایک رات‘ شاعر کی نفسیاتی کشمکش اور زندان کی تنہائی میں اس کی جذباتی کیفیتوں کی بہترین نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں رات کے سناٹوں میں گھرے اسیری کے لمحے ایک دائمی چپ کی طرح شاعر کے دل ودماغ پر چھائے ہوئے ہیں جو اس کی معروضی دنیا کو اندرونی ہیجان سے یک جان کرکے ایک عجیب سما پیداکر رہی ہے:

رات پہلومیں ہے گم سم، چپ چاپ
صرف سانسوں کی صدا آتی ہے
یا کبھی روزن دیوار سے سہمی سہمی
گرم ہوا آتی ہے
اور میں سوچتا ہوں
وقت تھم جائے تو پہلومیں یہ سوئی ہوئی رات
عمر بھی ساتھ رہے
گم سم، چپ چاپ

میر کی مزاحمت صرف ان کی سیاسی زندگی کاکوئی عام پہلو نہیں جہاں سیاسی وابستگیاں آئے دن بدلتی رہتی ہوں۔ یہ مزحمت ان کی نظریاتی وابستگی کا منہ بولتا عکس بھی ہے جو ا نقلاب کی امید اور دیر پا تبدیلی کا پیغام ہے۔ لیکن انقلاب تک پہنچنے کی یہ راہ آسان نہیں کہ جدوجہد اور کٹھنائیو ں سے گزرے بغیر کسی انقلا ب کا تصور شاعرکی ڈکشن میں موجود نہیں ہے۔ شاعر کے ہا تھ اب جو بندوق آئی ہے وہ لکھے ہوئے الفاظ اور کہے ہوئے حروف سے مختلف ہے، اس کی جدوجہد کی پہچان اور آنے والی امید کا سہارابھی ہے:

کہ میرے ہاتھوں میں اب وہ بندوق آ گئی ہے
جو عصرحاضر کی آگہی ہے
میں اپنی بندوق سے فرشتوں کے آسماں پر یہ لکھ رہاہوں
لٹی ہوئی جنتوں کے لوگو
صداقتوں کا ثبات بندوق ہے تمہاری
قلم نہیں ہے زباں نہیں ہے
قلم غریبی زباں غریبی
تمہارے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے تو لفظ و آواز کچھ نہیں ہیں
نہ جنتیں جنتیں تمہاری
نہ عزتیں عظمتیں تمہاری
تو اے مرے شاعرو ادیبو
صحافیو، صاحبانِ دانش
درس گاہوں میں قید بچو
مرے کسانو
مرے غریبو
الف صداقت ہر اک صداقت دہانِ بندوق میں رکھی ہے۔

بغاوتوں کے پرچم پھیلیں تو ہر مظلوم اپنے عہد کے ہر یزید کے آگے عزم کی دیوار بن جاتا ہے اور پھر ظلمت شب بھی سحر انگیز بن کر نکھر جاتی ہے:

بغاوتوں کے پھریرے نہ جھکنے پائیں کبھی
یزیدعصر کے آگے اٹھے سرِ سجاد

روکا نہ گیا رہزنِ شب رنگ سے رستہ
ہم ظلمتِ شب کو بھی سحر کر چلے آئے

میر کی ایک نظم ’اے مری ابابیلو‘ سماجی ظلم وستم کے تصور کو تاریخی تشبیہوں کے ساتھ اجاگر کرتی ہے۔ ابرہا کے لشکر پر ابابیلوں کے حملے کی تشبیہ ظالم حکرانوں کے سامنے علم بغاوت بلند کرنے کی وہ داستان ہے جس کے سرے عرب کے جانے پہچانے تاریخی واقعات سے جا ملتے ہیں۔ پھر یہی حوالے عصرحاضر کے ’سفید ہاتھی‘ کی شکست بن کر خود شاعر کے دیس کی داستان بن جاتے ہیں اور اس کی سرزمین سے دکھوں کو اکھاڑ پھینکنے کا ایک نیا حوصلہ دیتے ہیں:

اے مری ابابیلو
ابرہا کے لشکرکے اک سفید ہاتھی نے
ڈھادیا مرا کعبہ
میں کہ عبدِ بے مُطلب بے شجر زمینوں پر
سربریدہ بھیڑوں کے سائے میں کھڑا تنہا
بے افق امیدوں سے نصرتوں کا طالب ہوں

اس تاریخی حوالے کو اپنے دور کے بدترین آمر کے آئینے میں دیکھتے ہوئے یہاں شاعر اس دور کی یاد بھی تازہ کر رہا ہے جس میں اظہار رائے پرعائد کی جانے والی قدغنوں کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں اور صحافیوں کو سرعام کوڑوں سے نوازہ گیا تھا:

وہ خدا ہوتے تو کیا رنگ خدائی ہوتا
بات کرنے پہ جو کوڑوں کی سزا دیتے ہیں

اپنے ہم وطنوں پر ہونے والے مظالم پر شاعر آنسوؤں کو اس سرزمین کا رزق گردانتے ہوئے وطن کے باسیوں کو کہہ رہا ہے کہ ان کے زخم اب عزاخانوں کی زینت بن گئے ہیں:

اس عہد کا رزق بھی آنسو ہیں اِس عہد پہ بھی احسان کرو
زخموں کے عزاخانے کھولو رونے کا کوئی سامان کرو

باہر کے حبس کی بات نہیں اندر کی گھٹن جاں لیوا ہے
لفظوں کا جہنم سردسہی سانسوں سے بپا طوفان کرو

جوہر میر کی شاعری میں جگہ جگہ اپنے لوگوں، سرزمین اور وطن کی یاد نظرآتی ہے مگر ایک نئے انداز کے ساتھ۔ ان کے کلام میں پاکستان کے کئی شہروں کا براہ راست ذکر کیا گیاہے۔ اسلام آباد، کراچی، حیدر آباد، لاہور، پشاور اور دوسرے شہروں کومیر نے بارہا اپنے کلام میں استعمال کیا ہے مگر ان کے باسیوں کے دکھوں کے ذکر کے بغیر نہیں۔

کراچی اور حیدرآباد ایک زمانے میں قتل وغارت گری کے مراکز تھے۔ میر ان شہروں کی حالت زار کو اس انداز میں اپنے طنز کا نشانہ بناتے ہیں:

ہے اندھیرا بہت کراچی میں
آؤ کچھ اور گھر جلا لیں ہم

حیدرآباد اب کہاں آباد
سر بیاباں میں اب چھپا لیں ہم

پھر دو شہروں کا یہ درد پورے صوبے کے الم کی داستان بن کر ابھرآتا ہے۔ شاعر کے نزدیک سندھ میں ہونے والا ہر قتل رائگاں نہیں جائے گا بلکہ یہ خون ایک نئی صبح کاستا رہ بن کر ابھرے گا:

سندھ کی کوکھ میں خوابیدہ ہے سورج جوہر
شب کو جو قتل ہوا صبح کا حاصل نکلا

لاہور کا ذکر میر کواس وقت کی یاد دلا تا رہا ہے جب انہیں وہا ں قید کیاگیا اور پھر سند ھ منتقل کیا گیا۔

لاہور کی گلیوں سے گزر کر چلے آئے
ہم درد کے راوی میں اتر کر چلے آئے

ان کی مقبول نظم ’اسلام آبادکے کوفے سے‘جوہر کی مزاحمتی شاعری کی ناقابل فراموش مثال ہے۔ ایک آمر کے ہاتھوں ایک سیاسی المیے کے پس منظر میں لکھی گئی یہ نظم ا س واقعے کی یاد دلاتی ہے جب اسلام آبادمیں نصرت بھٹو کے جلسے پر لاٹھی چارج کیا گیا جس میں وہ زخمی بھی ہوئی تھیں۔ یہاں دارالخلافہ کوشہرِ کو فہ سے تشبیہ دے کر شاعر لوگوں کو علم بغاوت بلند کرنے کی ترغیب دے رہا ہے:

اے سوئے ہوئے لوگو جاگو اے جاگے ہوئے لوگو اٹھو
اندیشوں کے صحراؤں میں چپ بیٹھے ہوئے لوگو اٹھو
محکوموں کی آزادی کا پیغام سنانے آئی ہوں
اسلام آبادکے کوفے سے
میں سندھ مدینے آئی ہوں
مت پوچھو کیا کھوآئی ہوں مت پوچھو کیا میں لائی ہوں
اسلام آباد کے کوفے سے میں سندھ مدینے آئی ہو

سندھ کے پس منظرمیں لکھی گئی ایک اور نظم’پیش رفت‘ میں وہ وطن کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے انقلاب کے تصور کو مزید واضح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ماں جس نے اپنے لے پالک بچوں کو دددھ پلا کر جوان کیا ظلم کے خلاف ان کی خاموشی پر نالاں ہے اور اعلان کرتی ہے:

میں اب حلیمہ نہیں بنوں گی
میں اپنے بیٹوں کو دودھ دوں گی
میں حاکموں کے خلاف اپنے غلام بچوں پہ جان دوں گی
میں اپنی چھاتی کے دودھ کی اب آخری بوند تک لڑوں گی

ایک اورنظم ’تمہاری مٹھی صدف بنے گی‘ میں بچوں کوانسانیت کا سبق اس طرح سکھا تے ہیں:

ذہین بچو!
ذہانتوں سے نجات پاؤ
تم علم و دانش کی قتل گاہوں میں اب نہ جاؤ
نہ خیر و شر میں تمیز ڈھونڈو
نہ نیک و بد کا فریب کھاؤ
ضمیرِ انساں کی خودکشی کی خبر کی تصدیق ہو چکی ہے
اور اس کے بعد اب کوئی خبر معتبر نہیں ہے

نظم کے آخر میں وہ بچوں کو امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے انقلاب اور جدوجہد کا درس دیتے ہیں:

ذہین بچو! تمہاری مٹھی صدف بنے گی
اور عدل یونان کے کھنڈر پر یہ جب کھلے گی
ضمیر انساں تمہیں ہتھیلی کے ریگزاروں میں مسکراتا دکھائی دے گا
ہر ایک ذرہ تمہاری حمدو ثنا کی آواز بن کے تم کو سنائی دے گا

نظم ’قم باذنی‘ میں ہابیل اور قابیل کے استعاروں کے ذریعے ظالم اور مظلوم کی داستان قلم بندکی گئی ہے اور انقلاب کی صدا بلند کی گئی ہے۔ یہاں اپنے بھائی کا قاتل قابیل ظالم اور ہابیل مظلوم بن کر نظم میں لوگوں کو اپنی ناانصافیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دے رہا ہے:

اور سنو
سب شکم سیرقابیل ہیں
سارے قابیل رزق جہنم ہیں اب
سارے ہابیل اب جنتوں کے سزاوار ہیں
یہ انصافِ ہابیل ہے، صور ہابیل ہے
یہ انصاف ہی ساری ڈنیا کے گیتوں کی، نغموں کی انجیل ہے
اے گھروں کے مقابر میں خوابیدہ لوگو اٹھو
قم باذنی
اٹھو، جاگ اٹھو
اپنے قابیل کو ظلم اور جبر کے تخت سے کھینچ لو!

میر کے ہم عصر شاعر خاطر غزنوی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ”جوہر میر اول وآخر شاعرہے، گل و بلبل کاشاعر نہیں۔ وطن پرستی اور انسان دوستی کا شاعرہے۔ اس کی شاعری ہر دور کی شاعری ہے اور وہ ہر دور میں زندہ رہے گاکہ وہ ہر دور کے جبر اور ظلم کے خلاف ابھرتی ہوئی آواز ہے۔“

بلاشبہ جوہر میر ایک سیاسی قلم کار تھے جن کے نزدیک کوئی ادب معاشرے کے رنج و الم اور لوگوں کے مصائب کے ذکرکے بغیر ادب کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاسی بصیرت سے قطع نظروہ ملک کے پہلے رہنما تھے جنہوں عام لوگوں کے مسائل کو ملکی سیاست کا حصہ بنایا۔ میر سیاسی وابستگی کے حوالے سے بھی بھٹو کے مداحوں میں شامل تھے۔ ان کی نظم ’کتبہ قبرشب‘ میں بھٹو کی موت کی رات کویاد کرتے ہوئے کچھ اس طرح نوحہ کناں ہیں:

تین اور چار کی رات کو کتبہ قبر شب بن چکا
اور خوابیدہ مردوں کی روحوں نے نوحہ پڑھا
سندھ کا خون تھا سندھ کی خاک سے جا ملا
ارضِ پنجاب کو کیا ملا؟

میر نے شاعری کے دونوں مجموعوں میں اپنے اس سیاسی رہنما کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ایک آمر کے ہاتھوں بھٹو کی موت لوگوں کے لئے ایک سانحہ تو تھی ہی ان کے چاہنے والوں کے لئے یہ حادثہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ میر نے اس سانحے کو کئی پہلوؤں سے اپنے کلام کا حصہ بنایا۔ چند مثالیں:

وہ جذب ہو گیا اک چیخ بن کے سینوں میں
وہ دھڑکنوں میں ترانے تلاش کرتا تھا

مقام دار اسے یوں ملا کہ چھوڑے تھے
جو نقش اہل وفانے، تلاش کرتا تھا

سرِنیاز مرا یوں بلند ہے جوہر
سنا ہے دار پہ وہ شخص سرنگوں نہ ہوا

ترقی پسندوں پر ایک عام تہمت یہ لگائی جاتی ہے کہ وہ حب الوطن نہیں ہوتے۔ حب الوطنی کا یہ تصور کہ جو کوئی بھی ملکی مسائل اور حکمرانوں پر تنقید کر رہا ہے وہ ملک سے محبت نہیں کرتا بلکہ مجرم ہے، آج بھی اشرافیہ کے ہاتھوں میں ایک ہتھیار بن گیاہے جس کی بنیاد پر آوازِ حق اٹھانے والے ہر شہری کو ملک دشمن قراردے دیا جاتا ہے۔

جوہر میر پر بھی یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ وطن سے محبت نہیں کرتے۔ جو لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں ان کے دو مجموعوں میں ان اشعار کو ضرور پڑھیں اور پھر اپنی رائے قائم کریں:

چاند عید کا دیکھا اور پہروں یہ سوچا
چاند جیسے چہروں کوکیوں وطن میں چھوڑ آئے

اس وطن کی صبحوں پر اس وطن کی شاموں پر
کوئی میرے زنداں پر میرا دل نچوڑ آئے

مت پوچھو کس رنگ سے گزری پہلی عید جدائی کی
آنکھوں میں آنسو بھر آئے سن کردھن شہنائی کی

جوہر میر ایک مزاحمتی شاعر تو تھا ہی لیکن وہ ہمیشہ اپنی سرزمیں میں خوشحالی اور امن کا خواہش مند رہا۔ وہ اپنے وطن سے دور رہ کربھی ایک ایسے مستقبل کے لئے دعاگو تھا جہاں لوگ امن کے زمزم سے سیریاب ہو سکیں اور خوش حالی کے پھولوں کی خوشبو چار جانب پھیلی ہوئی محسوس کریں:

مری دعائیں جہاں ایڑھیاں رگڑتی ہیں
میں اس زمین سے زمزم ابلتے دیکھ سکوں

کھلیں گلاب مرے سنگ زار میں بھی کبھی
میں تتلیوں کو ہوامیں مچلتے دیکھ سکوں

مزاحمتی ادب بر صغیر کی روایتوں کا ایک اہم باب ضرور ہے لیکن انقلابی اردو شاعری میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے مقام پر ماحول کی گھٹن کو تواجاگر کیا مگر انہیں قومی سطح پر وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہیں۔جوہرمیر بھی مزاحمتی شاعری کا ایک گمنام سپاہی ہے جس نے سماجی انصاف کی چوکھٹ پر اپنی انفرادی خوشیوں کو ساری زندگی قربان کیا۔ مشہور نظم گوشاعر ستیہ پال آنند نے جوہر میر کو منظوم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا:

قلم قبیلے کا میر، شعر و سخن کا جوہر
تو اب بھی زندہ ہے
آج بھی اپنے رنگ و بو سے
چمن کو رنگیں بنا رہا ہے!

(مصنف اس مقالے کی تکمیل کے لئے امریکہ میں مقیم جوہر میر کے احباب جناب عتیق احمد صدیقی اور جناب ارشاد احمد صدیقی کا شکرگزار ہے جنہوں نے جوہر میر کی زندگی اور فن پر مواد اور معلومات فراہم کیں)

حوالے اور کتابیات

٭ جوہر میر کے قریبی دوست عتیق احمد صدیقی سے ان کی زندگی اور فن پرمصنف کا انٹرویو، 28 جولائی 2021ء
٭ سہ ماہی زاویہ، نیویارک۔ خصوصی ایڈیشن بیاد جوہر میر، جلد 6، شمارہ 1، دسمبر 2006ء تا مارچ 2007ء
٭ جوہر میر ’قم باذنی‘ (مجموعہ کلام) استعارہ پبلیکیشنز، لاہور، 1992ء
٭ جوہر میر، ’سیاہ سیات‘، (سیاسی تبصرے) الکتاب، پشاور، اپریل 1990ء
٭ جوہر میر، ’مہاسپہ، بے نظیر کا جمہوری دور اور فوجی اشرافیہ‘، (سیاسی تبصرے) استعارہ پبلیکیشنز لاہور، 1992ء
Thapar, Romila. "Vioces of Dissent: An Esssay.” Seagul Books, 2021.
David Barsamian. "Culture and Resistance: Conversation with Edward W. Said.” London, South End Press, 2003.
Scott, C. James. "Weapons of the Week: Everyday Forms of Reistance.” New Heaven and London, Yale University Press. 1985.
Abbas, Qaisar. "Cultural Identity and State Oppression: Poetic Resistance to Internal Colonialism in Pakistan.” Paksitaniaat: A Journal of Pakistan Studies, Vol, 6, 2018.
Ali, Nosheen. "Poetic Reflection and Activism in Gilgit Baltistan” in "Dispatches from Pakistan” edited by Madiha R. Tahir, Qalandar Bux Memon, and Vijay Prashad, Minneapolis & London, 2012.

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔