پاکستان

گھریلو تشدد بل ’معاشرتی اقدار‘ کے نہیں پدر سری جبر کیخلاف ہے

ڈاکٹرعالیہ حیدر

حال ہی میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں گھریلو تشدد روکنے کے حوالے سے ایک بل پیش کیا گیا۔ اس بل کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا کہ یہ ہماری مذہبی اورمعاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔ اس بل سے متعلق مذید بات کرنے سے پہلے ذرا اس بل کے اہم نکات پر غور کر لیتے ہیں۔

1۔ اس بل میں یہ بات سامنے رکھی گئی کہ گھریلو زندگی بسر کرتے ہوئے اگر گھر کا کوئی فرد عورت، بزرگ، بچے یا کسی بھی اور کمزور فرد پر ذہنی، جسمانی،جذباتی یا زبانی تشدد کرے گاتو ریاست مظلوم کو تحفظ فراہم کرے گی اورزیادتی کرنے والے کو مجرم خیال کرتے ہوئے سزا دے گی۔

2۔ جسمانی تشدد سے مراد لی گئی کہ کسی کو جسمانی تکلیف یا ایذا دیناَ مراد ہاتھ سے مارنا یا کسی اور چیز سے مارنا۔

3۔ ذہنی، جذباتی اور زبانی تشدد سے مراد لی گئی کہ: اہل خانہ میں سے کسی فرد کی شخصی اور انفرادی آزادی چھیننا، انہیں اپنی زندگی کے ذاتی فیصلے کرنے کا حق نہ دینا، انکا بے جا پیچھا کرنا، انکی نقل و حرکت پر نظر رکھنا، انکے تحفظ اور انسانی تقدس کو پامال کرنا۔

اہلِ خانہ میں سے کسی فرد کے ساتھ گالی گلوچ کرنا، بے عزت کرنا یا توہین آمیز القابات کہنا۔

اہل خانہ میں سے کسی فرد کو جسمانی ایذا پہنچانے کی دھمکی دیا۔

پاگل پن اور بانجھ پن جیسے بے بنیاد الزامات لگا کرطلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینایا پھر کسی فرد کے کرداد پر الزام لگانا۔

مذکورہ بالا جرائم کے نتیجہ میں بل میں کچھ سزائیں تجویز کی گیں جنکی تفصیل میں جانا میرا مقصد نہیں ہے۔ مجھے تو بس یہ جاننا ہے کہ اوپر بیان کئے گئے نکات میں سے کونسی ایسی بات ہے جو مذہب اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہے؟

اس بل کی مخالفت سے تو ہم دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاں مذہبی اور معا شرتی اقدار گھریلو افراد پر جسمانی اور ذہنی تشدد کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔
ایسا نہیں ہے۔

اصل بات جو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے،وہ یہ ہے: ہمارے معاشرے میں چند لوگ پدر شاہی نظام کو قائم رکھنا اورفروغ دینا چاہتے ہیں۔وہ عورت کے حاکم بنے رہنا چاہتے ہیں۔ وہ عورت پر تشدد بھی کرنا چاہتے ہیں تاکہ انکی حاکمیت قائم رہے اور مظلوم آواز نہ اٹھا سکے۔ اپنے ان سنگین مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ کبھی مذہب کو استعمال کرتے ہیں تو کبھی معاشرتی اقدار پامال ہونیکا ڈھونگ رچاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ در حقیقت جو حلقے پدرشاہی نظام کا فروغ چاہتے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ عورت اپنا حق پہچان لے، خود کو بحیثیت انسان دیکھنے لگے اور ا ٹھ کر سوال کرے کہ قدرت نے تو مجھے کمتر پیدانہیں کیا،میرے پاس تمہارے ہی جیسی صلاحیتیں ہیں پھر تم میرے حاکم کیسے ہوگئے؟یا میں تم سے کمتر کیسے ہوگئی؟

یاد رہے طاقت اور زورزبردستی سے اپنی حاکمیت، سچائی اور صلاحیت صرف و ہ لوگ ثابت کرنا چاہتے ہیں جو نا اہل اور باطل ہوں۔ صاحب دلیل کو تھپڑ کے زور پر اپنی اہلیت اور قابلیت ثابت نہیں کرنا پڑتی۔ سچ کے ہاتھ میں تلوار نہیں ہوتی۔


پدر شاہی کے محافظوں کو علم ہے کہ عورت کوآزادی کا شعور ہے۔ اسی خوف کے پیش نظر یہ لوگ کبھی عورت مارچ اور کبھی گھریلو تشدد کے خلاف بل پر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ معاشرے میں آگاہی آئے۔ بس اک ذرا سی آگاہی اور انکا راز فاش۔ 

ڈاکٹر عالیہ حیدر حقوق خلق موومنٹ سے ہیں۔ وہ صحت عامہ اور ماحولیات جیسے مسائل کے حل کے لئے متحرک ہیں۔